جمعرات، 22 نومبر، 2018

وحید مراد اور ہمارا عہد


لیجیے، ’’پبلک کے پرزور اصرار پر‘‘ وحید مراد کی سوانح کا اُردو ایڈیشن حاضر ہے۔مطلب یہ کہ بہت دنوں سے اس کتاب کے ترجمے کا تقاضا ہو رہا تھا۔ اس لیے سوچا ہے کہ قسط وار بلاگ پر شائع کروں۔ ہفتے میں دو دفعہ قسطیں پیش کرنے کا ارادہ ہے۔

لیکن سب سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ جہاں اِس میں آپ کو اپنی پسند کی بہت سی با تیں ملیں گی، وہیں کچھ ایسی باتیں بھی  ہوں گی جن کی آپ کو توقع نہیں ہے۔ اور  بعض باتیں جن کی توقع  ہو سکتی ہے،  وہ نہیں ہوں گی!

اصل میں وحید پر میرا کام  بھی میرے اقبالیات کے کام کا حصہ ہے۔ البتہ اقبالیات  میں میرا نقطۂ نظر دوسروں سے  مختلف ہے، جس کی وجہ سے بعض لوگوں کو  حیرت بھی ہوتی ہے کہ میں نے اقبال پر کام کرتے کرتے ابن صفی اور وحیدمراد پر لکھنا کیوں شروع کر دیا۔

میری تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ سر سید احمد خاں نے برصغیر کے مسلمانوں کی تعمیرِ نَو  کی بنیاد صوفیوں کے تصوّرِ عشق پر رکھی۔ تصوّف میں محبوب ایک شخص بھی ہو سکتا تھا  اور قوم، انسانیت، بزمِ فطرت یا کائنات بھی ہو سکتی تھی۔ سر سید نے کہا کہ ہمیں قوم کو محبوب بنا کر کام کا آغاز کرنا ہے۔ اِس طرح اُس سفر کا آغاز ہوا  جس میں علی برادران، اقبال، جناح اور ہمارے دوسرے بڑے رہنما آل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم تلے شریک تھے۔ یہ کارواں تین مراحل سے گزرتے  ہوئے اُس منزل پر پہنچا جہاں  ۱۹۴۵ء اور ۱۹۴۶ء کے عام انتخابات میں برصغیر کے  مسلمانوں کی بھاری اکثریت نے پاکستان کو ووٹ دئیے اور ۹؍ اپریل ۱۹۴۶ء کو منتخب نمایندوں نے پاکستان کے حق میں قرارداد منظور   کر کے اس سے وفاداری کا حلف اُٹھایا۔

میں نے اپنی دوسری کتابوں میں واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ۱۴؍ اور ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کی درمیانی رات کو جب پاکستان  اور ہندوستان کے دو نئے ملک وجود میں آئے تو  دونوں کی بنیاد یہی قرارداد تھی اگرچہ ہندوستان نے اسے تسلیم ہی نہیں کیا اور پاکستان میں بھی سات آٹھ برس  میں بھلا دیا گیا:

بھولی ہوئی ہوں داستاں، گزرا ہوا خیال ہوں
جس کو نہ تم سمجھ سکے، میں ایسا اک سوال ہوں

کیا کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے یہ عہد نہیں بھلایا؟

جی ہاں۔ ایسے  بیشمار لوگ تھے، اور وہ سبھی ایک ایسا سوال بن گئے جو ہمارے پروفیسروں اور دانشوروں کی سمجھ میں  آج تک نہیں آ سکا (فلم دوراہا  میں بھی  اِس نغمے میں  کالج کے ایک پروفیسر اور اُس کی سعادتمند بیٹی ہی کو مخاطب کیا گیا ہے)۔

اِس کتاب میں صرف اِسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس  لیے   جب یہ  کتاب انگریزی میں شائع ہوئی تو بعض لوگوں نے کہا کہ اسے پڑھتے ہوئے وہ ایک روحانی تجربے سے دوچار ہوئے ہیں۔ لیکن دوسری قسم کے پڑھنے والوں نے شکایت کی کہ اس میں  وہ ساری باتیں کیوں نہیں ہیں جواُنہوں نے اِدھر اُدھر سے سُن رکھی ہیں، مثلاً بعض ہیروئنیں کا رُوٹھنا اور مَن جانا،  اور وحید کی نجی زندگی پر تبصرے وغیرہ۔ میری گذارش ہے کہ اُس مسالے سے بعض لوگوں نے اپنی دکانیں چمکائی تھیں اور کچھ ابھی تک پیسے کھرے کر  رہے ہیں،  آپ اُنہی سے رجوع کر لیجیے۔ اُن کا بھی بھلا ہو جائے گا۔

ویسے  میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ کچھ لوگ کسی نئی کتاب میں بھی صرف وہی باتیں کیوں پڑھنا چاہتے ہیں جو  اُنہیں پہلے سے  معلوم ہوں۔ یہ وہی چھوٹے  بچوں والی بات نہیں ہے جو صرف وہی کہانی سننا چاہتے ہیں جو کئی دفعہ سُن رکھی ہوتی ہے؟ سنانے والا اُسے کوئی نیا موڑ دینا چاہے تو مچل اٹھتے ہیں، ’’نہیں نہیں، شہزادہ خود نہیں گیا تھا۔ چڑیل اُسے لے گئی تھی! ‘‘ اس لیے گذارش ہے کہ  چڑیلوں، پریوں اور جن بھوتوں کے  قصے کسی فلمی یا غیرفلمی الف لیلہ میں پڑھ لیجیے، اور   مجھے ان سے معاف رکھیے۔

وحیدمراد اور ہمارا عہد کا موضوع صرف یہ  ہے کہ قراردادِ دہلی ۱۹۴۶ء جو ہمارا عہدنامہ تھی، اُس کی روشنی ایک عظیم فنکار کے تخلیقی وجدان میں کس طرح  ظاہر ہوئی اور آج ہمیں کیا رہنمائی فراہم کر سکتی ہے۔ کتاب کا عنوان ذومعنی ہے۔ ہمارا عہد سے مراد ہمارا زمانہ بھی ہے، اور  وہ قرارداد بھی جو میرے خیال میں  اِس بات کا عہد تھی کہ:

ہر اِک موڑ پر ہیں رواجوں کے پہرے
تمہی کو نہیں اِس کا سب کو گلہ ہے
مگر لوگ جیتے ہیں اِن مشکلوں میں
ہے جن کا نہیں کوئی اُن کا خدا ہے
یہ دُکھ یہ اداسی، یہ آنسو یہ آہیں
چلے آؤ مل کے یہ غم بانٹ لیں گے

تمہید سُننے کا شکریہ۔ آئیے اب وحید مراد  کی داستان شروع کرتے ہیں۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔