جمعہ، 1 جون، 2018

شبنم کی قومی خدمات



اداکارہ شبنم  نے کئی سال تک ملک، قوم اور مذہب سے محبت کے درس دئیے۔ اُس زمانے میں  اکثر دانشوروں کو پاکستان سے محبت کا اعتراف کرتے  ہوئے بہت شرم آتی تھی کہ "پاس پڑوس والے" کیا سوچیں گے۔

"انمول" میں شبنم نے ایک ایسی لڑکی کا کردار ادا کیا جس کا عقیدہ ہے،   "میں اپنی سوہنی دھرتی پر کسی برائی کو قدم رکھتے  ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔ چاہے اِس جرم میں مجھے یہ گاؤں تو کیا ساری دنیا ہی کیوں نہ چھوڑنی پڑے۔"

اِسی فلم میں نغمہ تھا، "تختی پر تختی، تختی پر دل کا دانہ ہے۔"  شبنم پر فلم بند ہوا ، جس میں وہ کہتی ہیں:

دُکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں
ایسے ظالم کووں کو ہم کیوں نہ مار بھگائیں
اچھے اچھے کام کریں، روشن اپنا نام کریں
اِک دن ہم کو اِس دنیا سے ظلم کا نام مٹانا ہے

فلم "پہچان" میں  بہت کچھ ہے جس پر کبھی آیندہ لکھوں گا۔ فی الحال صرف یہ پیغام سن لیجیے جو اِس فلم میں شبنم نے ہم تک پہنچایا:

کیوں ہم وہ تہذیب اپنائیں جو کہ ہے بیگانی
لوگو تم کو لے ڈُوبے گی اِک دن یہ عریانی
مجھ کو ذرا سمجھاؤ ٔ یہ کیسا چلن ہے
جس پر ناز ہے تم کو وہ لچرپن ہے
شرم حیا ہے اپنا زیور   کیوں بھلا ہم چھوڑیں یہ رِیت پرانی

فلم "سچائی" ایک ایسے ایماندار افسر کی کہانی ہے جو ہمیشہ اُس عہد پر قائم رہنا چاہتا ہے جو اُس نے اپنے دل میں قائداعظم سے کر رکھا ہے۔ شبنم اس میں بھی ہیروئن تھیں۔

فلم "انتخاب" نے بہت سے اچھے پیغامات دئیے  جو میری عمر کے لوگوں کے بچپن کی بہترین یادوں میں سے ہیں۔ اور ہماری ذہنی تربیت کے ذمہ دار بھی ہیں۔ اُن میں شبنم کا مشہور نغمہ شامل ہے:

جَگ میں جو کرتا ہے اچھے اچھے کام
مر  کے بھی رہتا ہے زندہ اُس کا نام
اپنے سے کمتر کسی کو نہ جانو
برا کہے کوئی تو برا نہیں مانو
سب کے لیے بن جاؤ تم خوشیوں کا پیغام

"رشتہ" ایک عجیب و غریب فلم ہے۔ جب احمد ندیم قاسمی کے تخلیق کیے ہوئے ایک کردار کے ذریعے جرم اور قتل و غارت کا پیغام  پھیل رہا تھا، اُس وقت پرویز ملک نے اس رجحان کو روکنے کے لیے یہ فلم بنائی۔ جاگیرداروں کے خاندانی انتقام کی کہانی میں ہیرو کی ماں اپنے قاتل کو دنیا اور آخرت میں معاف کرنے کا اعلان کر کے نسل در نسل دشمنی کو ختم کر دیتی ہے۔ اِس فلم میں شبنم نے بڑے موثر انداز میں جو پیغام دیا اُس کا ایک حصہ ہے:

ظلم اور جبر کے شعلوں کو ہوا دی تم نے
کس لیے دِین کی تعلیم بھلا دی تم نے
قتل و غارت گری شیوہ نہیں انسانوں کا
تم نے اپنا لیا جو کام ہے شیطانوں کا
بِیج نفرت کے اگر بو کے یہاں جاؤ گے
سوچ لو حشر  کے دن اس کی سزا پاؤ گے
اپنی تہذیب کے دنیا میں نگہبان بنو
جس  پہ اللہ کرے ناز وہ انسان بنو
بھول کر نفرتیں تم پیار کی پہچان بنو

"کامیابی"  میں شبنم کا کردار ایک ایسی لڑکی کا ہے جس کی ماں اُسے کینڈا لے آئی ہے لیکن وہ پاکستان واپس جانا چاہتی ہے۔ اُس سے کہا جاتا ہے، "قدرت نے تمہیں ایک گولڈن چانس دیا ہے۔ ایک پسماندہ، جاہل اور تھرڈ ریٹ ملک سے اُٹھا کر ایک شاندار ملک کا شہری بنا دیا ہے تمہیں۔ وہ کون سی ایسی چیز ہے جو اِس ملک نے تمہیں نہیں بخشی ہے۔ آخر کس چیز کی کمی ہے یہاں؟"  وہ جواب دیتی ہے، "یہاں اذان کی آواز نہیں آتی۔"

"بیوی ہو تو ایسی"میں شبنم کے ذریعے ایک انتہائی خوبصورت حمد پیش کی گئی۔ اس کی بے سُری اور بھونڈی نقل بھارت میں ہو چکی ہے۔ شبنم والی حمد  یوں ہے:

سچا تیرا نام، تیرا نام، تُو ہی بگڑے بنائے کام

تیرا کرم ہے ایک سمندر جس کا نہیں کنارا
دُور ہوئی ہر مشکل اُس کی جس نے تجھے پکارا
تیرے نام کا وِرد کروں میں کیا صبح کیا شام

بھٹکے ہوئے بندوں کو مالک  سیدھی راہ دکھا دے
ہر گھر کے سُونے آنگن میں پیار کے پھول کھِلا دے
دیتا ہے تُو راحت سب کو بِن مانگے بِن دام

یہ سب نغمے "سوہنی دھرتی" لکھنے والے شاعر مسرور انور  نے لکھے اور حقیقت میں اُسی  خیال کی وضاحت ہیں جو "سوہنی دھرتی" میں پیش کیا گیا۔ 

لیکن "فرض اور مامتا" میں شبنم کے ذریعے ایک قومی نغمہ پیش کیا گیا جو کلیم عثمانی کا لکھا ہوا ہے جن کا ایک اور نغمہ ہے، "یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے۔" "فرض اور مامتا" والے نغمے پر غور کرنے کی صلاحیت ادب کے ٹھیکیداروں  میں نہیں ہے لیکن وہ ہمارے دلوں میں ضرور بس گیا ہے:

اِس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں
سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں

مجھے اِس نغمے کا ایک مصرعہ خاص طور پر پسند ہے، "اپنے چمن میں پھول اور شبنم ایک ہیں۔" پھول زمین سے اُگتا ہے اور شبنم آسمان سے اُترتی ہے۔ زمین سے وابستہ چیزیں ثقافت اور ریاست ہیں۔ آسمان سے اترنی والی چیز روحانیت اور مذہب ہیں۔  اِس نغمے کے مطابق ہمارے وطن میں یہ ایک ہو گئی ہیں۔

لطف کی بات ہے کہ یہاں "شبنم" کا نام بھی آیا ہے۔ آپ شاید مجھ سے اتفاق کریں کہ اس فنکارہ نے ہماری قومی تاریخ میں واقعی وہ کام کیا ہے جو چمن میں شبنم کرتی ہے۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔