جمعہ، 22 جون، 2018

قراردادِ دہلی ۱۹۴۶ء کا تاریخی پس منظر


برطانوی ہندوستان میں آخری دفعہ عام انتخابات ۱۹۴۵ء اور ۱۹۴۶ء میں ہوئے۔ مرکزی اسمبلی کے انتخاب نومبر دسمبر ۱۹۴۵ء میں ہوئے۔ صوبائی اسمبلی کے انتخاب  ۱۹۴۶ء میں جنوری سے اپریل کے دوران ہوئے۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے    انتخابی منشور کی بجائے ایجنڈا پیش کیا جو صرف ایک نکتے پر مشتمل تھا، ’’پاکستان!‘‘  اس جماعت نے صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص نشستوں پر مقابلہ کیا۔

مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کو ملا کر مسلم نشستوں کی کُل تعداد  پانچ سو چوبیس (۵۲۴) تھی۔ اِن میں سے چار سو ترپن (۴۵۳) نشستوں پر لیگ کے اُمیدوار کامیاب ہوئے۔ یعنی پورے برصغیر کی مسلم نشستوں میں سے تقریباً ستاسی (۸۷) فیصد نشستیں لیگ نے حاصل کیں اور ووٹوں کا تناسب بھی بہت زیادہ تھا۔ قائداعظم نے اِسے نوّے فیصد کامیابی کی شرح قرار دیا۔

۷؍ اور ۸؍ اپریل ۱۹۴۶ء کو دہلی کے اینگلو عربک کالج میں  لیگ کے وہ تقریباً  ساڑھے چار سو نمایندے جمع ہوئے جنہوں نے انتخابات  میں کامیابی حاصل کی تھی۔ دو سو کے قریب صحافی جمع تھے۔ مہمان اور تماشائی بھی آئے۔ یہ اجلاس مسلم لیگ لیجلسیٹرز کنونشن کہلاتا ہے۔ اس کی صدارت قائداعظم محمد علی جناح نے کی۔

۷؍ اپریل شام چھ بجے کے قریب کاروائی کا آغاز ہوا۔ تلاوت  کے بعد قائداعظم نے کہا، ’’خدا کی مہربانی اور آپ کی سرتوڑ محنت سے ہم نے جو فتح حاصل کی ہے اُس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ہے… خدا ہمارے ساتھ ہے کیونکہ ہم درست راستے پر ہیں اور ہمارا مطالبہ اِس  عظیم برصغیر میں رہنے والے ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کے لیے مُنصفانہ ہے… میں نہیں سمجھتا  کہ  کوئی بھی طاقت یا حکومت ہمیں ہمارے پاکستان کے عزیز نصبُ العین کو حاصل کرنے سے روک سکتی ہے۔ صرف ایک شرط ہے—اتحاد! ‘‘

ا س کے بعد سبجکٹس کمیٹی بنی۔ اگلے روز صبح ساڑھے دس بجے سے تقریباً رات آٹھ بجے تک بند کمرے میں اس کا  اجلاس ہوا تاکہ مسلمانوں کے متفقہ مطالبے کی قرارداد مرتب کرے۔

چھ برس پہلے لاہور میں پیش کی ہوئی قراردادِ پاکستان کی توثیق ہوئی۔ بعض ترمیمات اور وضاحتیں شامل ہوئیں۔ اِس طرح جو قرارداد تیار ہوئی  وہ پاکستان کے تصوّر کی مکمل وضاحت کرتی تھی اور اِس قابل تھی کہ اسے قوم کی تاریخ میں وہی مقام حاصل ہو جو امریکہ کی تاریخ میں امریکی منشورِ آزادی کو حاصل ہے (اِس قرارداد کا انگریزی متن اور اُردو ترجمہ آن لائن پڑھا جا سکتا ہے)۔

اس کے بعد  کُھلا اجلاس ہوا۔ لیاقت علی خاں کی دعوت پر  حسین شہید سہروردی نے قرارداد پیش کی۔ وضاحت میں اُنہوں نے کہا کہ ہم ایک قوم ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم دنیا کی تہذیب کو کچھ دے سکتےہیں۔دوسرے نمایندوں نے قرارداد کی حمایت میں جو تقریریں کیں اُن کا ایک ایک جملہ مندرجہ ذیل ہے:
  •  چودھری خلیق الزماں نے کہا  کہ ہم پاکستان کے لیے  جان دے دیں گے، صرف قائداعظم کے حکم کی دیر ہے۔
  • سِندھ کے  وزیراعظم سر غلام حسین ہدایت اللہ نے کہا کہ ہندو جمہوریت کے قائل نہیں ہیں۔
  • آسام کے سر محمد سعداللہ نے کہا کہ اُن کا غریب صوبہ مدد کے لیے بنگال کی طرف دیکھ رہا ہے۔
  • سی پی کے عبدالرؤف نے کہا کہ دہلی میں کئی سلطنتیں دفن ہیں اور آج ہم یہاں اکھنڈ ہندوستان کے خواب کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے جمع ہوئے ہیں۔
  • پنجاب کے  نواب ممدوٹ نے کہا کہ پاکستان مسلمانوں کا آخری مطالبہ ہے اور وہ اسے پورا کروائے بغیر چین نہیں لیں گے۔
  • بمبئی کے  آئی آئی چندریگر نے کہا کہ اقلیتی صوبوں کے مسلمان اس لیے پاکستان کی حمایت کرتے ہیں کہ ایک مسلم ریاست کے قیام سے برصغیر میں طاقت کا توازن قائم ہو گا۔
  • سرحد کے خان عبدالقیوم خاں نے کہ اگر برطانوی حکومت نے مسلمانوں پر مرکز کی حکومت کو مسلط کیا تو اُن کے پاس اِس کے  سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا کہ تلوار نکالیں اور بغاوت کر دیں۔ خان عبدالغفار خاں کا نام تاریخ میں اُن مسلمانوں  میں لکھا جائےگا جنہوں نے اِس نازک گھڑی میں مسلمانوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کی کوشش کی۔
  • مدراس کے محمد اسماعیل نے کہا کہ ہندوستان کبھی  ایک ملک نہیں رہا ہے۔
  • خواتین مندوبین کی طرف سے یوپی کی بیگم عزیزالنسأ رسول نے کہا کہ یہ  کنونشن اسلام کی پوری تاریخ میں ایک منفرد واقعہ ہے۔
  • پنجاب کے سردار شوکت حیات خاں نے کہا کہ اگر ہمیں کسی دوسری قوم کا غلام بنانے کی کوشش کی گئی تو ہم مرتے دم تک لڑتے رہیں گے۔
  • سر فیروز خاں نون نے کہا کہ اگر  ہندوؤں اور انگریزوں نے ہمیں آزادی نہ دی تو ہم روس  کی مدد سے حاصل کریں گے۔
  • پنجاب  کی خواتین کی طرف سے بیگم شاہنواز نے کہا کہ خواتین بھی قربانی دینے پر تیار ہیں۔
  • بہار  کےلطیف الرحمٰن اور اڑیسہ کے محمد یوسف نے کہا کہ  ان کے صوبوں کے مسلمان دل و جان سے پاکستان کےمطالبے  کی حمایت کرتے ہیں۔  
  • راجہ غضنفر علی خاں نے کہا کہ  مسلم لیگ دنیا کی سب سے بڑی جمہوری تنظیم ہے۔
  • بنگال کے ابوالہاشم نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان صرف اپنی آزادی کے لیے نہیں بلکہ دنیا میں مستقل امن اور سکون قائم کرنے کے لیے لڑ رہے  ہیں۔
 اس کےبعد قائداعظم نے قرارداد پر ووٹ لیے۔ متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ قائداعظم نے پوچھا، ’’کوئی خلاف ہے؟‘‘ سب نے یکزبان ہو کر کہا، ’’کوئی نہیں! ‘‘

رات آدھی سے زیادہ بِیت گئی تھی۔ عملاً ۹؍اپریل کی تاریخ شروع تھی۔ ایک حلف نامہ انگریزی میں ٹائپ کر کے تمام مندوبین کو دے دیا گیا تھا۔ سب نے دستخط کیے تھے۔  اب سب کھڑے ہوئے۔ قائداعظم بھی کھڑے ہوئے۔  لیاقت علی خاں نے سب کی طرف سے حلف پڑھ کر سنایا (اِس حلف کا انگریزی متن اور اُردو ترجمہ بھی  آن لائن پڑھا جا سکتا ہے)۔

اِس حلف  کے ذریعے ہر شخص نے اعلان کیا کہ پاکستان واحد حل ہے، جس کے حصول کے لیے’’ آل انڈیا مسلم لیگ  کی طرف سے شروع کی جانے والی کسی بھی تحریک پر عمل درآمد کے لیے اس کی طرف سے جاری ہونے والے تمام احکامات اور ہدایات کی دلی رضامندی اور استقامت کے ساتھ اطاعت کروں گا/گی۔‘‘ حلف کے نیچے چھَپا تھا، ’’آج ہر مسلمان یہ حلف اٹھائے۔‘‘

قائداعظم نے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب پاکستان مسلمانوں کی اکثریت کی رائے نہیں بلکہ مسلمانوں کا متفقہ فیصلہ ہے، اور چند مسلمان جو لیگ کے ساتھ نہیں ہیں، اُن سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔انہوں نے کہا،  ’’پانچ سال میں ہماری قوم  کو نئی زندگی مل جانا کامیابی کا ایک معجزہ ہے۔ میں سوچنے لگتا ہوں جیسے یہ ایک خواب ہے۔ کتنی تیزی سے قوم وہی کردار [جو انگریزوں کی غلامی اور ہندوؤں کے اقتصادی تسلط کی وجہ سے کھو گیا تھا]، اپنی اصل شریف صورت میں دوبارہ حاصل کر رہی ہے! ہمارے مرد، ہماری عورتیں، ہمارے بچے – وہ اب مختلف طرح سوچتے، بولتے اور عمل کرتے ہیں۔‘‘

اِس طرح علامہ اقبال کی وہ خواہش بھی پوری ہوئی جو اُنہوں نے اپنی وفات سے تقریباً ایک برس پہلے جناح کے نام خط میں ظاہر کی تھی۔ اُنہوں نے لکھا تھا، ’’آپ کو چاہیے کہ فوراً دہلی میں ایک آل انڈیا مسلم کنونشن بلائیں جس میں آپ نئی صوبائی اسمبلیوں کے ممبروں اور دوسرے ممتاز مسلم رہنماؤں کو بلائیں۔ اِس کنونشن میں آپ پوری وضاحت اور قوّت کے ساتھ ہندوستان میں ایک جداگانہ سیاسی وحدت کے طور پر مسلمانوں کے نصبُ العین کا اعلان کر دیں۔‘‘

یہ واقعات بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ٹھنڈے دل سے اِس بات پر غور کریں کہ کیا وہ قرارداد اور حلف خدا کے ساتھ ہمارا عہدنامہ تھے؟کیوں یا کیوں نہیں؟
مکمل تحریر >>

جمعہ، 1 جون، 2018

شبنم کی قومی خدمات



اداکارہ شبنم  نے کئی سال تک ملک، قوم اور مذہب سے محبت کے درس دئیے۔ اُس زمانے میں  اکثر دانشوروں کو پاکستان سے محبت کا اعتراف کرتے  ہوئے بہت شرم آتی تھی کہ "پاس پڑوس والے" کیا سوچیں گے۔

"انمول" میں شبنم نے ایک ایسی لڑکی کا کردار ادا کیا جس کا عقیدہ ہے،   "میں اپنی سوہنی دھرتی پر کسی برائی کو قدم رکھتے  ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔ چاہے اِس جرم میں مجھے یہ گاؤں تو کیا ساری دنیا ہی کیوں نہ چھوڑنی پڑے۔"

اِسی فلم میں نغمہ تھا، "تختی پر تختی، تختی پر دل کا دانہ ہے۔"  شبنم پر فلم بند ہوا ، جس میں وہ کہتی ہیں:

دُکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں
ایسے ظالم کووں کو ہم کیوں نہ مار بھگائیں
اچھے اچھے کام کریں، روشن اپنا نام کریں
اِک دن ہم کو اِس دنیا سے ظلم کا نام مٹانا ہے

فلم "پہچان" میں  بہت کچھ ہے جس پر کبھی آیندہ لکھوں گا۔ فی الحال صرف یہ پیغام سن لیجیے جو اِس فلم میں شبنم نے ہم تک پہنچایا:

کیوں ہم وہ تہذیب اپنائیں جو کہ ہے بیگانی
لوگو تم کو لے ڈُوبے گی اِک دن یہ عریانی
مجھ کو ذرا سمجھاؤ ٔ یہ کیسا چلن ہے
جس پر ناز ہے تم کو وہ لچرپن ہے
شرم حیا ہے اپنا زیور   کیوں بھلا ہم چھوڑیں یہ رِیت پرانی

فلم "سچائی" ایک ایسے ایماندار افسر کی کہانی ہے جو ہمیشہ اُس عہد پر قائم رہنا چاہتا ہے جو اُس نے اپنے دل میں قائداعظم سے کر رکھا ہے۔ شبنم اس میں بھی ہیروئن تھیں۔

فلم "انتخاب" نے بہت سے اچھے پیغامات دئیے  جو میری عمر کے لوگوں کے بچپن کی بہترین یادوں میں سے ہیں۔ اور ہماری ذہنی تربیت کے ذمہ دار بھی ہیں۔ اُن میں شبنم کا مشہور نغمہ شامل ہے:

جَگ میں جو کرتا ہے اچھے اچھے کام
مر  کے بھی رہتا ہے زندہ اُس کا نام
اپنے سے کمتر کسی کو نہ جانو
برا کہے کوئی تو برا نہیں مانو
سب کے لیے بن جاؤ تم خوشیوں کا پیغام

"رشتہ" ایک عجیب و غریب فلم ہے۔ جب احمد ندیم قاسمی کے تخلیق کیے ہوئے ایک کردار کے ذریعے جرم اور قتل و غارت کا پیغام  پھیل رہا تھا، اُس وقت پرویز ملک نے اس رجحان کو روکنے کے لیے یہ فلم بنائی۔ جاگیرداروں کے خاندانی انتقام کی کہانی میں ہیرو کی ماں اپنے قاتل کو دنیا اور آخرت میں معاف کرنے کا اعلان کر کے نسل در نسل دشمنی کو ختم کر دیتی ہے۔ اِس فلم میں شبنم نے بڑے موثر انداز میں جو پیغام دیا اُس کا ایک حصہ ہے:

ظلم اور جبر کے شعلوں کو ہوا دی تم نے
کس لیے دِین کی تعلیم بھلا دی تم نے
قتل و غارت گری شیوہ نہیں انسانوں کا
تم نے اپنا لیا جو کام ہے شیطانوں کا
بِیج نفرت کے اگر بو کے یہاں جاؤ گے
سوچ لو حشر  کے دن اس کی سزا پاؤ گے
اپنی تہذیب کے دنیا میں نگہبان بنو
جس  پہ اللہ کرے ناز وہ انسان بنو
بھول کر نفرتیں تم پیار کی پہچان بنو

"کامیابی"  میں شبنم کا کردار ایک ایسی لڑکی کا ہے جس کی ماں اُسے کینڈا لے آئی ہے لیکن وہ پاکستان واپس جانا چاہتی ہے۔ اُس سے کہا جاتا ہے، "قدرت نے تمہیں ایک گولڈن چانس دیا ہے۔ ایک پسماندہ، جاہل اور تھرڈ ریٹ ملک سے اُٹھا کر ایک شاندار ملک کا شہری بنا دیا ہے تمہیں۔ وہ کون سی ایسی چیز ہے جو اِس ملک نے تمہیں نہیں بخشی ہے۔ آخر کس چیز کی کمی ہے یہاں؟"  وہ جواب دیتی ہے، "یہاں اذان کی آواز نہیں آتی۔"

"بیوی ہو تو ایسی"میں شبنم کے ذریعے ایک انتہائی خوبصورت حمد پیش کی گئی۔ اس کی بے سُری اور بھونڈی نقل بھارت میں ہو چکی ہے۔ شبنم والی حمد  یوں ہے:

سچا تیرا نام، تیرا نام، تُو ہی بگڑے بنائے کام

تیرا کرم ہے ایک سمندر جس کا نہیں کنارا
دُور ہوئی ہر مشکل اُس کی جس نے تجھے پکارا
تیرے نام کا وِرد کروں میں کیا صبح کیا شام

بھٹکے ہوئے بندوں کو مالک  سیدھی راہ دکھا دے
ہر گھر کے سُونے آنگن میں پیار کے پھول کھِلا دے
دیتا ہے تُو راحت سب کو بِن مانگے بِن دام

یہ سب نغمے "سوہنی دھرتی" لکھنے والے شاعر مسرور انور  نے لکھے اور حقیقت میں اُسی  خیال کی وضاحت ہیں جو "سوہنی دھرتی" میں پیش کیا گیا۔ 

لیکن "فرض اور مامتا" میں شبنم کے ذریعے ایک قومی نغمہ پیش کیا گیا جو کلیم عثمانی کا لکھا ہوا ہے جن کا ایک اور نغمہ ہے، "یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے۔" "فرض اور مامتا" والے نغمے پر غور کرنے کی صلاحیت ادب کے ٹھیکیداروں  میں نہیں ہے لیکن وہ ہمارے دلوں میں ضرور بس گیا ہے:

اِس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں
سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں

مجھے اِس نغمے کا ایک مصرعہ خاص طور پر پسند ہے، "اپنے چمن میں پھول اور شبنم ایک ہیں۔" پھول زمین سے اُگتا ہے اور شبنم آسمان سے اُترتی ہے۔ زمین سے وابستہ چیزیں ثقافت اور ریاست ہیں۔ آسمان سے اترنی والی چیز روحانیت اور مذہب ہیں۔  اِس نغمے کے مطابق ہمارے وطن میں یہ ایک ہو گئی ہیں۔

لطف کی بات ہے کہ یہاں "شبنم" کا نام بھی آیا ہے۔ آپ شاید مجھ سے اتفاق کریں کہ اس فنکارہ نے ہماری قومی تاریخ میں واقعی وہ کام کیا ہے جو چمن میں شبنم کرتی ہے۔
مکمل تحریر >>