جمعرات، 22 نومبر، 2018

وحید مراد اور ہمارا عہد


لیجیے، ’’پبلک کے پرزور اصرار پر‘‘ وحید مراد کی سوانح کا اُردو ایڈیشن حاضر ہے۔مطلب یہ کہ بہت دنوں سے اس کتاب کے ترجمے کا تقاضا ہو رہا تھا۔ اس لیے سوچا ہے کہ قسط وار بلاگ پر شائع کروں۔ ہفتے میں دو دفعہ قسطیں پیش کرنے کا ارادہ ہے۔

لیکن سب سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ جہاں اِس میں آپ کو اپنی پسند کی بہت سی با تیں ملیں گی، وہیں کچھ ایسی باتیں بھی  ہوں گی جن کی آپ کو توقع نہیں ہے۔ اور  بعض باتیں جن کی توقع  ہو سکتی ہے،  وہ نہیں ہوں گی!

اصل میں وحید پر میرا کام  بھی میرے اقبالیات کے کام کا حصہ ہے۔ البتہ اقبالیات  میں میرا نقطۂ نظر دوسروں سے  مختلف ہے، جس کی وجہ سے بعض لوگوں کو  حیرت بھی ہوتی ہے کہ میں نے اقبال پر کام کرتے کرتے ابن صفی اور وحیدمراد پر لکھنا کیوں شروع کر دیا۔

میری تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ سر سید احمد خاں نے برصغیر کے مسلمانوں کی تعمیرِ نَو  کی بنیاد صوفیوں کے تصوّرِ عشق پر رکھی۔ تصوّف میں محبوب ایک شخص بھی ہو سکتا تھا  اور قوم، انسانیت، بزمِ فطرت یا کائنات بھی ہو سکتی تھی۔ سر سید نے کہا کہ ہمیں قوم کو محبوب بنا کر کام کا آغاز کرنا ہے۔ اِس طرح اُس سفر کا آغاز ہوا  جس میں علی برادران، اقبال، جناح اور ہمارے دوسرے بڑے رہنما آل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم تلے شریک تھے۔ یہ کارواں تین مراحل سے گزرتے  ہوئے اُس منزل پر پہنچا جہاں  ۱۹۴۵ء اور ۱۹۴۶ء کے عام انتخابات میں برصغیر کے  مسلمانوں کی بھاری اکثریت نے پاکستان کو ووٹ دئیے اور ۹؍ اپریل ۱۹۴۶ء کو منتخب نمایندوں نے پاکستان کے حق میں قرارداد منظور   کر کے اس سے وفاداری کا حلف اُٹھایا۔

میں نے اپنی دوسری کتابوں میں واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ۱۴؍ اور ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کی درمیانی رات کو جب پاکستان  اور ہندوستان کے دو نئے ملک وجود میں آئے تو  دونوں کی بنیاد یہی قرارداد تھی اگرچہ ہندوستان نے اسے تسلیم ہی نہیں کیا اور پاکستان میں بھی سات آٹھ برس  میں بھلا دیا گیا:

بھولی ہوئی ہوں داستاں، گزرا ہوا خیال ہوں
جس کو نہ تم سمجھ سکے، میں ایسا اک سوال ہوں

کیا کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے یہ عہد نہیں بھلایا؟

جی ہاں۔ ایسے  بیشمار لوگ تھے، اور وہ سبھی ایک ایسا سوال بن گئے جو ہمارے پروفیسروں اور دانشوروں کی سمجھ میں  آج تک نہیں آ سکا (فلم دوراہا  میں بھی  اِس نغمے میں  کالج کے ایک پروفیسر اور اُس کی سعادتمند بیٹی ہی کو مخاطب کیا گیا ہے)۔

اِس کتاب میں صرف اِسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس  لیے   جب یہ  کتاب انگریزی میں شائع ہوئی تو بعض لوگوں نے کہا کہ اسے پڑھتے ہوئے وہ ایک روحانی تجربے سے دوچار ہوئے ہیں۔ لیکن دوسری قسم کے پڑھنے والوں نے شکایت کی کہ اس میں  وہ ساری باتیں کیوں نہیں ہیں جواُنہوں نے اِدھر اُدھر سے سُن رکھی ہیں، مثلاً بعض ہیروئنیں کا رُوٹھنا اور مَن جانا،  اور وحید کی نجی زندگی پر تبصرے وغیرہ۔ میری گذارش ہے کہ اُس مسالے سے بعض لوگوں نے اپنی دکانیں چمکائی تھیں اور کچھ ابھی تک پیسے کھرے کر  رہے ہیں،  آپ اُنہی سے رجوع کر لیجیے۔ اُن کا بھی بھلا ہو جائے گا۔

ویسے  میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ کچھ لوگ کسی نئی کتاب میں بھی صرف وہی باتیں کیوں پڑھنا چاہتے ہیں جو  اُنہیں پہلے سے  معلوم ہوں۔ یہ وہی چھوٹے  بچوں والی بات نہیں ہے جو صرف وہی کہانی سننا چاہتے ہیں جو کئی دفعہ سُن رکھی ہوتی ہے؟ سنانے والا اُسے کوئی نیا موڑ دینا چاہے تو مچل اٹھتے ہیں، ’’نہیں نہیں، شہزادہ خود نہیں گیا تھا۔ چڑیل اُسے لے گئی تھی! ‘‘ اس لیے گذارش ہے کہ  چڑیلوں، پریوں اور جن بھوتوں کے  قصے کسی فلمی یا غیرفلمی الف لیلہ میں پڑھ لیجیے، اور   مجھے ان سے معاف رکھیے۔

وحیدمراد اور ہمارا عہد کا موضوع صرف یہ  ہے کہ قراردادِ دہلی ۱۹۴۶ء جو ہمارا عہدنامہ تھی، اُس کی روشنی ایک عظیم فنکار کے تخلیقی وجدان میں کس طرح  ظاہر ہوئی اور آج ہمیں کیا رہنمائی فراہم کر سکتی ہے۔ کتاب کا عنوان ذومعنی ہے۔ ہمارا عہد سے مراد ہمارا زمانہ بھی ہے، اور  وہ قرارداد بھی جو میرے خیال میں  اِس بات کا عہد تھی کہ:

ہر اِک موڑ پر ہیں رواجوں کے پہرے
تمہی کو نہیں اِس کا سب کو گلہ ہے
مگر لوگ جیتے ہیں اِن مشکلوں میں
ہے جن کا نہیں کوئی اُن کا خدا ہے
یہ دُکھ یہ اداسی، یہ آنسو یہ آہیں
چلے آؤ مل کے یہ غم بانٹ لیں گے

تمہید سُننے کا شکریہ۔ آئیے اب وحید مراد  کی داستان شروع کرتے ہیں۔
مکمل تحریر >>

جمعہ، 22 جون، 2018

قراردادِ دہلی ۱۹۴۶ء کا تاریخی پس منظر


برطانوی ہندوستان میں آخری دفعہ عام انتخابات ۱۹۴۵ء اور ۱۹۴۶ء میں ہوئے۔ مرکزی اسمبلی کے انتخاب نومبر دسمبر ۱۹۴۵ء میں ہوئے۔ صوبائی اسمبلی کے انتخاب  ۱۹۴۶ء میں جنوری سے اپریل کے دوران ہوئے۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے    انتخابی منشور کی بجائے ایجنڈا پیش کیا جو صرف ایک نکتے پر مشتمل تھا، ’’پاکستان!‘‘  اس جماعت نے صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص نشستوں پر مقابلہ کیا۔

مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کو ملا کر مسلم نشستوں کی کُل تعداد  پانچ سو چوبیس (۵۲۴) تھی۔ اِن میں سے چار سو ترپن (۴۵۳) نشستوں پر لیگ کے اُمیدوار کامیاب ہوئے۔ یعنی پورے برصغیر کی مسلم نشستوں میں سے تقریباً ستاسی (۸۷) فیصد نشستیں لیگ نے حاصل کیں اور ووٹوں کا تناسب بھی بہت زیادہ تھا۔ قائداعظم نے اِسے نوّے فیصد کامیابی کی شرح قرار دیا۔

۷؍ اور ۸؍ اپریل ۱۹۴۶ء کو دہلی کے اینگلو عربک کالج میں  لیگ کے وہ تقریباً  ساڑھے چار سو نمایندے جمع ہوئے جنہوں نے انتخابات  میں کامیابی حاصل کی تھی۔ دو سو کے قریب صحافی جمع تھے۔ مہمان اور تماشائی بھی آئے۔ یہ اجلاس مسلم لیگ لیجلسیٹرز کنونشن کہلاتا ہے۔ اس کی صدارت قائداعظم محمد علی جناح نے کی۔

۷؍ اپریل شام چھ بجے کے قریب کاروائی کا آغاز ہوا۔ تلاوت  کے بعد قائداعظم نے کہا، ’’خدا کی مہربانی اور آپ کی سرتوڑ محنت سے ہم نے جو فتح حاصل کی ہے اُس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ہے… خدا ہمارے ساتھ ہے کیونکہ ہم درست راستے پر ہیں اور ہمارا مطالبہ اِس  عظیم برصغیر میں رہنے والے ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کے لیے مُنصفانہ ہے… میں نہیں سمجھتا  کہ  کوئی بھی طاقت یا حکومت ہمیں ہمارے پاکستان کے عزیز نصبُ العین کو حاصل کرنے سے روک سکتی ہے۔ صرف ایک شرط ہے—اتحاد! ‘‘

ا س کے بعد سبجکٹس کمیٹی بنی۔ اگلے روز صبح ساڑھے دس بجے سے تقریباً رات آٹھ بجے تک بند کمرے میں اس کا  اجلاس ہوا تاکہ مسلمانوں کے متفقہ مطالبے کی قرارداد مرتب کرے۔

چھ برس پہلے لاہور میں پیش کی ہوئی قراردادِ پاکستان کی توثیق ہوئی۔ بعض ترمیمات اور وضاحتیں شامل ہوئیں۔ اِس طرح جو قرارداد تیار ہوئی  وہ پاکستان کے تصوّر کی مکمل وضاحت کرتی تھی اور اِس قابل تھی کہ اسے قوم کی تاریخ میں وہی مقام حاصل ہو جو امریکہ کی تاریخ میں امریکی منشورِ آزادی کو حاصل ہے (اِس قرارداد کا انگریزی متن اور اُردو ترجمہ آن لائن پڑھا جا سکتا ہے)۔

اس کے بعد  کُھلا اجلاس ہوا۔ لیاقت علی خاں کی دعوت پر  حسین شہید سہروردی نے قرارداد پیش کی۔ وضاحت میں اُنہوں نے کہا کہ ہم ایک قوم ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم دنیا کی تہذیب کو کچھ دے سکتےہیں۔دوسرے نمایندوں نے قرارداد کی حمایت میں جو تقریریں کیں اُن کا ایک ایک جملہ مندرجہ ذیل ہے:
  •  چودھری خلیق الزماں نے کہا  کہ ہم پاکستان کے لیے  جان دے دیں گے، صرف قائداعظم کے حکم کی دیر ہے۔
  • سِندھ کے  وزیراعظم سر غلام حسین ہدایت اللہ نے کہا کہ ہندو جمہوریت کے قائل نہیں ہیں۔
  • آسام کے سر محمد سعداللہ نے کہا کہ اُن کا غریب صوبہ مدد کے لیے بنگال کی طرف دیکھ رہا ہے۔
  • سی پی کے عبدالرؤف نے کہا کہ دہلی میں کئی سلطنتیں دفن ہیں اور آج ہم یہاں اکھنڈ ہندوستان کے خواب کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے جمع ہوئے ہیں۔
  • پنجاب کے  نواب ممدوٹ نے کہا کہ پاکستان مسلمانوں کا آخری مطالبہ ہے اور وہ اسے پورا کروائے بغیر چین نہیں لیں گے۔
  • بمبئی کے  آئی آئی چندریگر نے کہا کہ اقلیتی صوبوں کے مسلمان اس لیے پاکستان کی حمایت کرتے ہیں کہ ایک مسلم ریاست کے قیام سے برصغیر میں طاقت کا توازن قائم ہو گا۔
  • سرحد کے خان عبدالقیوم خاں نے کہ اگر برطانوی حکومت نے مسلمانوں پر مرکز کی حکومت کو مسلط کیا تو اُن کے پاس اِس کے  سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا کہ تلوار نکالیں اور بغاوت کر دیں۔ خان عبدالغفار خاں کا نام تاریخ میں اُن مسلمانوں  میں لکھا جائےگا جنہوں نے اِس نازک گھڑی میں مسلمانوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کی کوشش کی۔
  • مدراس کے محمد اسماعیل نے کہا کہ ہندوستان کبھی  ایک ملک نہیں رہا ہے۔
  • خواتین مندوبین کی طرف سے یوپی کی بیگم عزیزالنسأ رسول نے کہا کہ یہ  کنونشن اسلام کی پوری تاریخ میں ایک منفرد واقعہ ہے۔
  • پنجاب کے سردار شوکت حیات خاں نے کہا کہ اگر ہمیں کسی دوسری قوم کا غلام بنانے کی کوشش کی گئی تو ہم مرتے دم تک لڑتے رہیں گے۔
  • سر فیروز خاں نون نے کہا کہ اگر  ہندوؤں اور انگریزوں نے ہمیں آزادی نہ دی تو ہم روس  کی مدد سے حاصل کریں گے۔
  • پنجاب  کی خواتین کی طرف سے بیگم شاہنواز نے کہا کہ خواتین بھی قربانی دینے پر تیار ہیں۔
  • بہار  کےلطیف الرحمٰن اور اڑیسہ کے محمد یوسف نے کہا کہ  ان کے صوبوں کے مسلمان دل و جان سے پاکستان کےمطالبے  کی حمایت کرتے ہیں۔  
  • راجہ غضنفر علی خاں نے کہا کہ  مسلم لیگ دنیا کی سب سے بڑی جمہوری تنظیم ہے۔
  • بنگال کے ابوالہاشم نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان صرف اپنی آزادی کے لیے نہیں بلکہ دنیا میں مستقل امن اور سکون قائم کرنے کے لیے لڑ رہے  ہیں۔
 اس کےبعد قائداعظم نے قرارداد پر ووٹ لیے۔ متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ قائداعظم نے پوچھا، ’’کوئی خلاف ہے؟‘‘ سب نے یکزبان ہو کر کہا، ’’کوئی نہیں! ‘‘

رات آدھی سے زیادہ بِیت گئی تھی۔ عملاً ۹؍اپریل کی تاریخ شروع تھی۔ ایک حلف نامہ انگریزی میں ٹائپ کر کے تمام مندوبین کو دے دیا گیا تھا۔ سب نے دستخط کیے تھے۔  اب سب کھڑے ہوئے۔ قائداعظم بھی کھڑے ہوئے۔  لیاقت علی خاں نے سب کی طرف سے حلف پڑھ کر سنایا (اِس حلف کا انگریزی متن اور اُردو ترجمہ بھی  آن لائن پڑھا جا سکتا ہے)۔

اِس حلف  کے ذریعے ہر شخص نے اعلان کیا کہ پاکستان واحد حل ہے، جس کے حصول کے لیے’’ آل انڈیا مسلم لیگ  کی طرف سے شروع کی جانے والی کسی بھی تحریک پر عمل درآمد کے لیے اس کی طرف سے جاری ہونے والے تمام احکامات اور ہدایات کی دلی رضامندی اور استقامت کے ساتھ اطاعت کروں گا/گی۔‘‘ حلف کے نیچے چھَپا تھا، ’’آج ہر مسلمان یہ حلف اٹھائے۔‘‘

قائداعظم نے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب پاکستان مسلمانوں کی اکثریت کی رائے نہیں بلکہ مسلمانوں کا متفقہ فیصلہ ہے، اور چند مسلمان جو لیگ کے ساتھ نہیں ہیں، اُن سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔انہوں نے کہا،  ’’پانچ سال میں ہماری قوم  کو نئی زندگی مل جانا کامیابی کا ایک معجزہ ہے۔ میں سوچنے لگتا ہوں جیسے یہ ایک خواب ہے۔ کتنی تیزی سے قوم وہی کردار [جو انگریزوں کی غلامی اور ہندوؤں کے اقتصادی تسلط کی وجہ سے کھو گیا تھا]، اپنی اصل شریف صورت میں دوبارہ حاصل کر رہی ہے! ہمارے مرد، ہماری عورتیں، ہمارے بچے – وہ اب مختلف طرح سوچتے، بولتے اور عمل کرتے ہیں۔‘‘

اِس طرح علامہ اقبال کی وہ خواہش بھی پوری ہوئی جو اُنہوں نے اپنی وفات سے تقریباً ایک برس پہلے جناح کے نام خط میں ظاہر کی تھی۔ اُنہوں نے لکھا تھا، ’’آپ کو چاہیے کہ فوراً دہلی میں ایک آل انڈیا مسلم کنونشن بلائیں جس میں آپ نئی صوبائی اسمبلیوں کے ممبروں اور دوسرے ممتاز مسلم رہنماؤں کو بلائیں۔ اِس کنونشن میں آپ پوری وضاحت اور قوّت کے ساتھ ہندوستان میں ایک جداگانہ سیاسی وحدت کے طور پر مسلمانوں کے نصبُ العین کا اعلان کر دیں۔‘‘

یہ واقعات بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ٹھنڈے دل سے اِس بات پر غور کریں کہ کیا وہ قرارداد اور حلف خدا کے ساتھ ہمارا عہدنامہ تھے؟کیوں یا کیوں نہیں؟
مکمل تحریر >>

جمعہ، 1 جون، 2018

شبنم کی قومی خدمات



اداکارہ شبنم  نے کئی سال تک ملک، قوم اور مذہب سے محبت کے درس دئیے۔ اُس زمانے میں  اکثر دانشوروں کو پاکستان سے محبت کا اعتراف کرتے  ہوئے بہت شرم آتی تھی کہ "پاس پڑوس والے" کیا سوچیں گے۔

"انمول" میں شبنم نے ایک ایسی لڑکی کا کردار ادا کیا جس کا عقیدہ ہے،   "میں اپنی سوہنی دھرتی پر کسی برائی کو قدم رکھتے  ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔ چاہے اِس جرم میں مجھے یہ گاؤں تو کیا ساری دنیا ہی کیوں نہ چھوڑنی پڑے۔"

اِسی فلم میں نغمہ تھا، "تختی پر تختی، تختی پر دل کا دانہ ہے۔"  شبنم پر فلم بند ہوا ، جس میں وہ کہتی ہیں:

دُکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں
ایسے ظالم کووں کو ہم کیوں نہ مار بھگائیں
اچھے اچھے کام کریں، روشن اپنا نام کریں
اِک دن ہم کو اِس دنیا سے ظلم کا نام مٹانا ہے

فلم "پہچان" میں  بہت کچھ ہے جس پر کبھی آیندہ لکھوں گا۔ فی الحال صرف یہ پیغام سن لیجیے جو اِس فلم میں شبنم نے ہم تک پہنچایا:

کیوں ہم وہ تہذیب اپنائیں جو کہ ہے بیگانی
لوگو تم کو لے ڈُوبے گی اِک دن یہ عریانی
مجھ کو ذرا سمجھاؤ ٔ یہ کیسا چلن ہے
جس پر ناز ہے تم کو وہ لچرپن ہے
شرم حیا ہے اپنا زیور   کیوں بھلا ہم چھوڑیں یہ رِیت پرانی

فلم "سچائی" ایک ایسے ایماندار افسر کی کہانی ہے جو ہمیشہ اُس عہد پر قائم رہنا چاہتا ہے جو اُس نے اپنے دل میں قائداعظم سے کر رکھا ہے۔ شبنم اس میں بھی ہیروئن تھیں۔

فلم "انتخاب" نے بہت سے اچھے پیغامات دئیے  جو میری عمر کے لوگوں کے بچپن کی بہترین یادوں میں سے ہیں۔ اور ہماری ذہنی تربیت کے ذمہ دار بھی ہیں۔ اُن میں شبنم کا مشہور نغمہ شامل ہے:

جَگ میں جو کرتا ہے اچھے اچھے کام
مر  کے بھی رہتا ہے زندہ اُس کا نام
اپنے سے کمتر کسی کو نہ جانو
برا کہے کوئی تو برا نہیں مانو
سب کے لیے بن جاؤ تم خوشیوں کا پیغام

"رشتہ" ایک عجیب و غریب فلم ہے۔ جب احمد ندیم قاسمی کے تخلیق کیے ہوئے ایک کردار کے ذریعے جرم اور قتل و غارت کا پیغام  پھیل رہا تھا، اُس وقت پرویز ملک نے اس رجحان کو روکنے کے لیے یہ فلم بنائی۔ جاگیرداروں کے خاندانی انتقام کی کہانی میں ہیرو کی ماں اپنے قاتل کو دنیا اور آخرت میں معاف کرنے کا اعلان کر کے نسل در نسل دشمنی کو ختم کر دیتی ہے۔ اِس فلم میں شبنم نے بڑے موثر انداز میں جو پیغام دیا اُس کا ایک حصہ ہے:

ظلم اور جبر کے شعلوں کو ہوا دی تم نے
کس لیے دِین کی تعلیم بھلا دی تم نے
قتل و غارت گری شیوہ نہیں انسانوں کا
تم نے اپنا لیا جو کام ہے شیطانوں کا
بِیج نفرت کے اگر بو کے یہاں جاؤ گے
سوچ لو حشر  کے دن اس کی سزا پاؤ گے
اپنی تہذیب کے دنیا میں نگہبان بنو
جس  پہ اللہ کرے ناز وہ انسان بنو
بھول کر نفرتیں تم پیار کی پہچان بنو

"کامیابی"  میں شبنم کا کردار ایک ایسی لڑکی کا ہے جس کی ماں اُسے کینڈا لے آئی ہے لیکن وہ پاکستان واپس جانا چاہتی ہے۔ اُس سے کہا جاتا ہے، "قدرت نے تمہیں ایک گولڈن چانس دیا ہے۔ ایک پسماندہ، جاہل اور تھرڈ ریٹ ملک سے اُٹھا کر ایک شاندار ملک کا شہری بنا دیا ہے تمہیں۔ وہ کون سی ایسی چیز ہے جو اِس ملک نے تمہیں نہیں بخشی ہے۔ آخر کس چیز کی کمی ہے یہاں؟"  وہ جواب دیتی ہے، "یہاں اذان کی آواز نہیں آتی۔"

"بیوی ہو تو ایسی"میں شبنم کے ذریعے ایک انتہائی خوبصورت حمد پیش کی گئی۔ اس کی بے سُری اور بھونڈی نقل بھارت میں ہو چکی ہے۔ شبنم والی حمد  یوں ہے:

سچا تیرا نام، تیرا نام، تُو ہی بگڑے بنائے کام

تیرا کرم ہے ایک سمندر جس کا نہیں کنارا
دُور ہوئی ہر مشکل اُس کی جس نے تجھے پکارا
تیرے نام کا وِرد کروں میں کیا صبح کیا شام

بھٹکے ہوئے بندوں کو مالک  سیدھی راہ دکھا دے
ہر گھر کے سُونے آنگن میں پیار کے پھول کھِلا دے
دیتا ہے تُو راحت سب کو بِن مانگے بِن دام

یہ سب نغمے "سوہنی دھرتی" لکھنے والے شاعر مسرور انور  نے لکھے اور حقیقت میں اُسی  خیال کی وضاحت ہیں جو "سوہنی دھرتی" میں پیش کیا گیا۔ 

لیکن "فرض اور مامتا" میں شبنم کے ذریعے ایک قومی نغمہ پیش کیا گیا جو کلیم عثمانی کا لکھا ہوا ہے جن کا ایک اور نغمہ ہے، "یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے۔" "فرض اور مامتا" والے نغمے پر غور کرنے کی صلاحیت ادب کے ٹھیکیداروں  میں نہیں ہے لیکن وہ ہمارے دلوں میں ضرور بس گیا ہے:

اِس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں
سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں

مجھے اِس نغمے کا ایک مصرعہ خاص طور پر پسند ہے، "اپنے چمن میں پھول اور شبنم ایک ہیں۔" پھول زمین سے اُگتا ہے اور شبنم آسمان سے اُترتی ہے۔ زمین سے وابستہ چیزیں ثقافت اور ریاست ہیں۔ آسمان سے اترنی والی چیز روحانیت اور مذہب ہیں۔  اِس نغمے کے مطابق ہمارے وطن میں یہ ایک ہو گئی ہیں۔

لطف کی بات ہے کہ یہاں "شبنم" کا نام بھی آیا ہے۔ آپ شاید مجھ سے اتفاق کریں کہ اس فنکارہ نے ہماری قومی تاریخ میں واقعی وہ کام کیا ہے جو چمن میں شبنم کرتی ہے۔
مکمل تحریر >>

ہفتہ، 17 فروری، 2018

اقلیتوں کی دوست، اقلیتوں کی دشمن



فرض کیجیے کہ ایک شخص ملبوسات کی دکان میں سے ایک قمیص منتخب کرتا ہے اور کاؤنٹر پر پہنچ کر کہتا ہے، "میں اس قمیص کے صرف دو ہزار روپے دوں گا کیونکہ یہی اس کی صحیح قیمت ہے اور میرے چچا کی دکان پر بھی یہ اتنے کی ملتی ہے لیکن تم چور ہو، تمہارا باپ بھی چور تھا اس لیے اگر تم زیادہ قیمت لینے کی کوشش کرو گے تو میں پولیس کو خبر کروں گا، انکم ٹیکس میں تمہاری شکایت کروں گا، تمہاری دکان بند کروا دوں گا اور تم کوڑی کوڑی کو محتاج ہو جاؤ گے یہاں تک کہ تمہاری بیوی تمہارے ملازم کے ساتھ بھاگ جائے گی جیسا کہ تمہارے خاندان میں ہوتا چلا آیا ہے۔ اب سیدھی طرح بتا دو کہ یہ قمیص مجھے دو ہزار میں دیتے ہو یا میں تمہیں تمہاری اوقات پر پہنچا دوں؟"

اِس پوری بحث کے دوران وہ شخص اِس بات کو سامنے لانے کی زحمت نہیں کرتا کہ قمیص پر دو ہزار روپے کی قیمت کا ٹیگ ہی لگا ہوا ہے یعنی اگر وہ کچھ بھی نہ کہتا تو اُس سے قمیص کی قیمت دو ہزار روپے ہی طلب کی جانی تھی۔ اِس ساری بحث کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔

اس شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہو گی؟ 

کیا ہمیں وہی رائے اُن تمام لوگوں کے بارے میں قائم نہیں کرنی چاہیے جو پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں لیکن جنہوں نے آج تک یہ نہیں کہا ہے کہ قراردادِ پاکستان میں واضح طور پر لکھا تھا کہ اِس ملک میں اقلیتوں کے تمام حقوق کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور یہی نہیں بلکہ یہ اقدامات اُن کے ساتھ مشاورت کے ذریعے طے کیے جائیں گے؟

یہی بات ۱۹۴۶ء کی قراردادِ دہلی میں بھی دہرائی گئی جس کے بارے میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ وہ پاکستان کی بنیاد ہے، وہ ہمارا خدا کے ساتھ عہدنامہ ہے اور ہمارے لیے اس کی اطاعت لازمی ہے۔ 

اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنے والے تمام لوگوں سے میرا سوال ہے کہ اگر واقعی آپ کو اقلیتوں کے حقوق کی فکر ہے تو کیوں نہیں آپ نے آج تک اس بات کا ذکر کیا؟ آپ نے آج تک یہ بات کیوں نہیں کہی ہے کہ چونکہ قراردادِ پاکستان میں یہ وعدہ کیا گیا تھا اس لیے پاکستان کی ہر حکومت کا فرض ہے کہ وہ یہ وعدہ پورا کرے؟ اور پاکستان میں کسی بھی گروہ کو سیاست یا ثقافت، مذہب یا کفر کسی بھی بنیاد پر اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ان حقوق کی نفی کرے کیونکہ ایسا کرنا حقیقت میں قراردادِ پاکستان کی نفی ہے جس پر ملک کی بنیاد ہے۔

میں ان لوگوں کو لبرل نہیں کہتا۔ یہ لبرل ازم کے نام پر دھبہ ہیں۔ یہ حقیقت میں مذہبی انتہاپسندی کے اصل بانی ہیں کیونکہ یہ اگر سچ بولتے تو پاکستان میں کسی مذہبی جماعت کو موقع نہیں مل سکتا تھا کہ وہ اسلام کی ایسی تعبیر پیش کرے جو قراردادِ پاکستان اور قراردادِ دہلی کے خلاف ہو اور جو ہمارے اُس عہد کی خلاف ورزی ہو جو ہم نے خدا کے ساتھ کیا تھا۔

قراردادِ دہلی کو غور سے پڑھیے، جس کے ساتھ میں نے قراردادِ پاکستان کی وہ شِق بھی نقل کر دی ہے جس کا اُس قرارداد میں اعادہ کیا جا رہا ہے۔ اُس کے بعد خدا کے لیے اپنے ضمیر سے پوچھیے اور دل چاہے تو لوگوں کو بھی بتائیے کہ کیا آپ کے خیال میں یہ ضروری نہیں ہے کہ ہمیں یہ بات یاد رہے؟

ممکن ہے آپ کو میری تحریر میں تلخی محسوس ہو لیکن خود ہی انصاف کیجیے کہ کیا یہ تلخی جائز نہیں ہے؟ خدا سے میری دعا ہے کہ اس معاملے میں آپ بھی اسی طرح تلخ ہو جائیں۔  

مکمل تحریر >>

بدھ، 14 فروری، 2018

قراردادِ دہلی ۱۹۴۶ء

میں یہ قرارداداِس لیے پوسٹ کر رہا ہوں کیونکہ میرے نزدیک یہ پاکستان کی بنیاد ہے۔ یہ وہ معاہدہ ہے جو پاکستانیوں نے ایک دوسرے کے ساتھ کر رکھا ہے اور یہی معاہدہ ہم نے خدا کے ساتھ کیا تھا۔ 

گزشتہ دس گیارہ برس میں میں نے جو کچھ بھی لکھا ہے اُس کی بنیاد یہی نکتہ ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ کم سے کم کچھ پڑھے لکھے لوگ ایسے ہوں جو پوری سنجیدگی کے ساتھ اِس قرارداد کے مفہوم کو سمجھتے ہوئے اسے معاشرے کی بنیاد تسلیم کرتے ہوں اور جو اپنے دل میں وہی حلف اٹھائیں جو قائداعظم اور دوسرے مسلمانوں نے ۱۹۴۶ء میں اٹھایا تھا۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ 

میری درخواست ہے کہ اگر آپ اِس بات سے متفق ہیں اور آپ کو بھی اپنے دل میں اُسی حلف سے وفاداری کی خواہش محسوس ہوتی ہے تو اِس پوسٹ کے نیچے تبصرے یعنی کمنٹ کی صورت میں اظہار کر دیجیے۔ 

یہ ہم سب کا مشترکہ ورثہ ہے۔



قرارداد جو ۹ ؍اپریل ۱۹۴۶ء کو دہلی میں مسلم لیگ لیجسلیٹرز کنونشن میں متفقہ طور پر منظور کی گئی


جبکہ ہندوستان کے اِس وسیع برِصغیر میں دس کروڑ مسلمان ایک ایسے عقیدے کے پیرو ہیں جو اُن کی زندگی کے ہر شعبے (تعلیمی، سماجی، اقتصادی اور سیاسی)  میں  نافذ ہے، جس کا ضابطہ محض روحانی تعلیمات اور عقائد، اور رسومات و تقریبات تک محدود نہیں ہے، اور جو ہندو دھرم اور فلسفے کی اُس امتیازی نوعیت سے ٹکراتا ہے جس نے ہزاروں سال سے  ذات پات کے ایک منجمد نظام کو پروان چڑھا  کر چَھ کروڑ انسانوں کو اَچھوت بنا دیا ہے، جس نے انسان اور انسان کے درمیان غیرفطری دیواریں کھڑی کی ہیں،  اور جس کی وجہ سے مسلمان، عیسائی اور دوسری اقلیتیں سماجی اور اقتصادی طور پر دائمی غلامی کے خطرے سے دوچار ہیں؛

جبکہ ذات پات کا ہندو نظام قومیت، مساوات، جمہوریت اور اُن تمام بلند مقاصد کی کھلی خلاف ورزی ہے جن کی اسلام نمایندگی کرتا ہے؛

جبکہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے مختلف  تاریخی پس منظر، روایات، ثقافت، اور سماجی اور اقتصادی نظاموں کی وجہ سے ناممکن ہے کہ ایک واحد ہندوستانی قوم ارتقا پا سکے جس کے ارمان اور نصبُ العین مشترک ہوں، اور صدیوں بعد بھی وہ ایک دوسرے سے واضح طور پر مختلف دو قومیں ہیں؛

جبکہ  ہندوستان میں مغربی جمہوریت کی طرز کے سیاسی ادارے متعارف کروانے کی برطانوی پالیسی کے نفاذ کے بعد جلد ہی واضح ہو گیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک قوم یا معاشرے کی اکثریت دوسری قوم یا معاشرے کی اکثریت پر اُس کی مرضی کے خلاف حکومت کرے گی، جیسا کہ ۱۹۳۵ کے دستورِ ہند کے تحت ہندو اکثریتی صوبوں میں کانگرس کی حکومت کے ڈھائی سال میں کُھل کر سامنے آ گیا جب  مسلمانوں کو ناگفتہ ہراس اور ظلم کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد وہ دستور میں فراہم کیے ہوئے نام نہاد تحفظات اور گورنروں  کو دی ہوئی ہدایات کے بے اثر ہونے کے قائل ہو کر اِس نتیجے پر  پہنچنے پر مجبور ہوئے کہ اگر ایک متحدہ ہندوستانی وفاق قائم ہوا تو مسلم اکثریت کے صوبوں میں بھی مسلمانوں کی حالت کچھ بہتر نہ ہو گی، اور اُن کے حقوق اور مفادات مرکز کی مستقل ہندو اکثریت کے ہاتھوں محفوظ نہ رہیں گے؛

جبکہ مسلمانوں کو یقین ہے کہ مسلم ہندوستان کو ہندوؤں کے تسلط سے بچانے اور مسلمانوں کواپنی قدرتی صلاحیتوں کے مطابق خود کو ترقی دینے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے  یہ ضروری ہے کہ شمال مشرقی حصے میں بنگال اور آسام، اور شمال مغربی حصے میں پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان  پر مشتمل خودمختار ریاست قائم کی جائے؛

ہندوستان کے مرکزی اور صوبائی مسلم لیگی قانون سازوں کا یہ کنونشن  گہرے غور و خوص کے بعد اعلان کرتا ہے کہ   مسلم قوم کبھی ایک متحدہ ہندوستان کے  لیے  آئین قبول نہ کرے گے اور کبھی اس مقصد کے لیے بننے والی واحد دستورساز  ادارے میں شریک نہ ہو گی، اور ہندوستان کے عوام کو اقتدار منتقل کرنے کے لیے برطانوی حکومت کا کوئی فارمولا ہندوستان کے مسئلے کو حل کرنے میں مفید نہ ہو گا اگر وہ مندجہ ذیل اصولوں کے مطابق نہ ہوا جو انصاف پر مبنی ہیں اور ملک میں داخلی امن و سکون قائم رکھنے والے ہیں:

کہ  بنگال اور آسام پر مبنی شمال شرقی حصہ اور پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان پر مبنی شمال مغربی حصہ، یعنی پاکستانی حصے، جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں،  ایک آزاد خومختار  بنایا جائے اور کسی تاخیر کے بغیر پاکستان کے قیام پر عمل درآمد کرنے کا حتمی وعد ہ کیا جائے؛

کہ پاکستان اور ہندوستان کے عوام اپنے اپنے آئین کی تشکیل کے لیے دو علیحدہ دستورساز ادارے قائم کریں؛

کہ پاکستان اور ہندوستان میں اقلیتوں کو آل انڈیا مسلم لیگ کی ۲۳؍ مارچ ۱۹۴۰ کو لاہور میں منظور کی ہوئی قرارداد  کے مطابق تحفظات فراہم کیے جائیں؛

کہ  مرکزی میں عبوری حکومت کی تشکیل میں مسلم لیگ کے تعاون اور  شمولیت کی بنیادی شرط مسلم لیگ کے مطالبۂ پاکستان کی قبولیت اور اس پر بلاتاخیر عمل درآمد ہے؛

مزید برآں یہ کنونشن پرزور اعلان کرتا ہے کہ متحدہ ہندوستان کی بنیاد پر کسی آئین کو نافذ کرنے یا مسلم لیگ کے مطالبے کے برعکس مرکز میں کوئی عبوری بندوبست نافذ کرنے کی کوئی بھی کوشش   مسلمانوں کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہ چھوڑے گی کہ اپنی بقا اور قومی وجود کی خاطر ہر ممکن طریقے سے اس کی مزاحمت کریں۔

قراردادِ لاہور میں اقلیتوں کے لیے تحفظات


آئین میں اِن وحدتوں اور علاقوں کی اقلیتوں  کو اُن  کے مذہبی، ثقافتی، اقتصادی، سیاسی، انتظامی اور دوسرے حقوق اور مفادات کی حفاظت کے لیے کافی، موثر اور لازمی تحفظات اُن سے  مشاورت کے ساتھ فراہم کیے جائیں گے؛ اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہے، اُن کے مذہبی، ثقافتی، اقتصادی، سیاسی، انتظامی اور دوسرے حقوق اور مفادات کی حفاظت کے لیے کافی، موثر اور لازمی تحفظات اُن سے  مشاورت کے ساتھ آئین میں فراہم کیے جائیں گے۔

حلف


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
میں اپنے اس پختہ عقیدے کا باقاعدہ اعلان کرتا /کرتی ہوں کہ ہندوستان کے اس برصغیر میں آباد ملتِ اسلامیہ کا تحفظ اور سلامتی، اور نجات اور تقدیر صرف پاکستان کے حصول پر موقوف ہے، جو دستوری مسئلے کا واحد منصفانہ، عزت دارانہ  اورعادلانہ حل ہے، اور جو اِس عظیم برصغیر کی مختلف قوموں اور ملّتوں کے لیے امن، آزادی اور خوشحالی لائے گا؛
میں پوری   ذمہ داری کے ساتھ اقرار کرتا/کرتی ہوں کہ پاکستان کے عزیز قومی نصبُ العین کےحصول کے لیے آل انڈیا مسلم لیگ  کی طرف سے شروع کی جانے والی کسی بھی تحریک پر عمل درآمد کے لیے اس کی طرف سے جاری ہونے والے تمام احکامات اور ہدایات کی دلی رضامندی اور استقامت کے ساتھ اطاعت کروں گا/گی، اور چونکہ مجھے اپنے مقصد کے حق و انصاف پر مبنی ہونے کا یقین ہے، میں ہر اُس خطرے، امتحان یا قربانی سے گزرنے کا حلف اٹھاتا/اٹھاتی ہوں جس کا مجھ سے تقاضا کیا جائے۔
رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
آمین
مکمل تحریر >>