جمعہ، 11 اگست، 2017

آج جھوٹ بولنے کا دن ہے

گیارہ اگست آئی۔ جھوٹ بولنے کا دن شروع ہوا۔ آج کچھ لوگ کہیں گے کہ قائداعظم سیکولر پاکستان چاہتے تھے۔ یہ لوگ  اِس سوال کا جواب نہیں دیں گے کہ پھر قائداعظم نے کیوں پاکستان بننے سے پہلے اور بعد بہت سی تقریروں میں یہ کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہو گا۔ دوسری طرف سے کچھ لوگ قائداعظم کے اسلامی بیانات کو لے اُڑیں گے اور فرمائیں کہ چونکہ قائداعظم نے اسلام کا نام لیا اس لیے اسلام کے نام پر کچھ بھی پیش کر کے قائداعظم کے سر تھوپنا چاہیے۔ 
دونوں گروہ مل کر بعض سچائیوں پر پردہ ڈالتے ہیں۔

اُن سچائیوں کے تذکرے سے پہلے ایک غلط فہمی کا ازالہ جس کی کوشش حال ہی میں شروع ہوئی ہے۔نہ جانے کیوں بعض بزرگوں نے کہنا شروع کیا ہے کہ قائداعظم نے گیارہ اگست کی تقریر میں وہ الفاظ کہے ہی نہیں تھے جن میں مسلمانوں اور غیرمسلمانوں کی برابری کا ذکر آتا ہے۔یہ درست نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کی تقاریر کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے اور حکومت کی طرف سے سلسلہ وار شائع بھی کی جاتی ہیں۔ قائداعظم کی تقریر پاکستان کی دستورساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کے دوسرے دن کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ یہ اجلاس ۱۰ اگست سے ۱۴ اگست ۱۹۴۷ تک ہوا تھا۔ میری درخواست ہے کہ چاروں دنوں کی کاروائی غور سے پڑھیے تاکہ صرف دماغ ہی سے نہیں بلکہ دل سے بھی محسوس کر سکیں کہ ہمیں آزادی دینے والے ہمارے محسنوں کے کیا تاثرات تھے اور وہ اندرونی اور بیرونی مخالفین کے کیسے کیسے اوچھے ہتھکنڈوں سے نمٹنے پر مجبور ہو رہے تھے۔ نیشنل اسمبلی کی ویب سائٹ پر چاروں ایام کی کاروائی علیحدہ علیحدہ پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہے: پہلا دن، دوسرا دن، تیسرا دن اور چوتھا دن۔

پاکستان میں سیکولرازم کی حمایت کرنے والے اور مخالفت کرنے والے مل کر جن سچائیوں پر پردہ ڈال رہے ہیں اُن میں سے پہلی یہ ہے کہ قائداعظم جس اسلامی نظام سے واقف تھے اُس کے مطابق ایک غیرمسلم بھی سربراہِ حکومت بن سکتا ہے۔ مذہب فرد کا ذاتی معاملہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود ریاست اسلامی رہتی ہے۔ صرف نام کی اسلامی نہیں بلکہ کام کی بھی۔ اسناد مختصر طور پر میری کتاب اسلامی سیاسی نظریہ میں موجود ہیں۔ تفصیل دیکھنی ہے اور واپس اُس دور میں جانا ہے جب پاکستان کا تصوّر تشکیل پا رہا تھا تو اقبال:دورِ عروج پڑھیے۔

لیکن یہ جھوٹ بولنے کا دن ہے اور میں جھوٹ کی جگمگاتی محفل میں آج سچ بولنے لگا ہوں۔ اس لیے فی الحال صرف یہی جان لیجیے کہ یہ ایک جھوٹ ہے کہ قائداعظم، علامہ اقبال، لیاقت علی خاں اور مسلم لیگ نے اسلامی ریاست کا ا یسا تصوّر پیش نہیں کیا تھا جس میں ایک غیرمسلم سربراہِ حکومت بن سکتا ہو ۔

اب آئیے دوسرے جھوٹ کی طرف۔ جو لوگ سیکولرازم کی حمایت کرتے ہیں اور جو اس کے مخالف ہیں، دونوں متفق ہیں کہ سیکولر ریاست کوئی چیز ہوتی ہے۔ یہ بات تسلیم کرنے کے بعد ہی فریقین میں سے ایک یہ کہتا ہے کہ قائداعظم سیکولر ریاست چاہتے تھے اس لیے پاکستان کو سیکولر ہونا چاہیے۔ دوسرا کہتا ہے کہ قائداعظم سیکولر ریاست نہیں چاہتے تھے اس لیے پاکستان کو سیکولر نہیں ہونا چاہیے۔

میرا دعویٰ ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی نہیں بتا سکتا کہ سیکولر ریاست کسے کہتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ سیکولرازم سرے سے کوئی نظریہ ہی نہیں ہے۔ یہ ایک مہمل کلمہ ہے جو بعض لوگ کسی ریاست کو پسند کرتے ہوئے ادا کرتے ہیں، جیسے آپ "واہ" کہہ دیں۔ آپ نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہو گا کہ کہ سیکولر ریاست وہ ہوتی ہے جہاں مذہب اور ریاست، یا کلیسا اور ریاست الگ الگ ہوتے ہیں۔ یعنی چرچ اور اسٹیٹ کی علیحدگی کو سیکولر کہتے ہیں۔  یہ درست نہیں ہے کیونکہ برطانیہ میں بادشاہ یا ملکہ ہی انگلستان کے چرچ کے سربراہ بھی ہوتے ہیں۔ ان کے لیے پروٹسنٹنٹ ہونا بھی ضروری ہے۔ کوئی غیرعیسائی تو کیا کوئی غیرپروٹسنٹنٹ بھی وہاں بادشاہت نہیں کر سکتا۔ اس کے باوجود برطانیہ ایک "سیکولر" ریاست کہلاتی ہے۔ اس وجہ سے جو دلچسپ مباحث جنم لیتے ہیں، اُس کی مثال بی بی سی کا یہ مباحثہ ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ اگرچہ برطانیہ میں مذہب اور ریاست علیحدہ نہیں ہیں مگر پھر بھی برطانیہ ایک سیکولر ریاست ہے۔

میں نے بعض دوستوں سے اس کا ذکر کیا تو وہ کہنے لگے کہ سیکولر ریاست سے مراد یہ ہے کہ ریاست کے کسی قانون کی بنیاد مذہب پر نہیں ہو گی۔ اول تو پاکستان کے عیسائی چیف جسٹس کورنیلئیس نے بڑی تفصیل کے ساتھ اس مفروضے کی تردید کرتے ہوئے ایک برطانوی جج کا بیان پیش کیا تھا کہ آج برطانیہ میں جتنے بھی قوانین "سیکولر قوانین" کہلاتے ہیں اُن میں سےہر ایک کی بنیاد کسی نہ کسی مذہبی اصول پر ہے۔ صرف اتنا ہے کہ چونکہ وہ صدیوں سے رائج ہیں اس لیے اب قدم قدم پر مذہب کے حوالے نہیں دینا پڑتے۔ لوگوں نے انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا ہے۔

ایک بالکل سامنے کی بات پر بھی غور کیجیے۔ بھارت نے اپنے آپ کو اِن معانی میں سیکولر قرار دے لیا ہے کہ قوانین کی بنیاد مذہب پر نہیں ہو گی۔ پھر بھی وہاں گائے ذبح کرنے کی قانونی ممانعت ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک خبر پڑھی تھی کہ کسی بھارتی عدالت میں ایک وکیل نے کہا کہ گائے ذبح کرنے کی ممانعت ایک مذہبی قانون ہے تو جج صاحب نے جھڑک دیا کہ خبردار، یہ ایک "سیکولر" قانون ہے کیونکہ جب ہمارے آئین میں لکھا ہے کہ ہم ایک سیکولر ملک ہیں تو ظاہر ہے کہ ہمارا ہر قانون سیکولر ہے، آپ اُسے  مذہبی کیسے کہہ سکتے ہیں!

بہت خوب! اُفق سے سورج طلوع ہو رہا ہو اور کوئی کہے کہ ابھی رات ہے کیونکہ میری گھڑی بارہ بجا رہی ہے اور آج سورج کے طلوع ہونے کا وقت ساڑھے چھ بجے بتایا گیا ہے۔ جب پڑھے لکھوں کی مت ماری جائے تو یہی لطیفے ہوتے ہیں۔

اگر بھارت کے دستور میں یہ لکھ کر کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے، وہاں گائے ذبح کرنے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے، تو پاکستان کے دستور میں یہ لکھنے سے کہ یہ ایک سیکولر ملک ہے، توہینِ رسالت پر سزائے موت کی سزا، شراب پر پابندی اور دوسرے بعض قوانین منسوخ کرنے کا جواز کیسے پیدا ہوگا جنہیں ہمارے سیکولر دوست "ریاست میں مذہب کی بیجا دخل اندازی" قرار دیتے ہیں؟

مؤدبانہ گزارش ہے کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ قائداعظم سیکولر ریاست چاہتے تھے، پہلے یہ بتا دیں کہ اس سے قائداعظم کی مراد کیا تھی؟ کیا اُن کی مراد تھی کہ پاکستان کا سربراہ ہمیشہ مسلمان ہو گا جیسا کہ انگلستان میں بادشا ہ اور ملکہ ہمیشہ پروٹسنٹنٹ ہوتے ہیں؟ کیا وہ چاہتے تھے کہ پاکستان میں ایسی چیزوں پر پابندی ہو گی جن سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوں، جیسا کہ بھارت میں گائے ذبح کرنے پر پابندی ہے؟ کیا پاکستان میں عیسائیوں کے لیے گلے میں صلیب لٹکانا منع ہو گی جس طرح فرانس میں ہے؟

جب ہمارے دوست خود ہی نہیں جانتے کہ سیکولر ریاست سے کیا مراد ہوتی ہے تو پھر یہ سب واویلا کس لیے ہے؟ قصور صرف سیکولرازم کے حامیوں کا نہیں ہے۔ دوسرا فریق بھی قصوروار ہے جو مذہب کے دفاع کے نام پر سیکولر کی مخالفت اس انداز میں کر رہا ہے جیسے سیکولرازم کوئی چیز ہوتی ہے۔ میں بھی سیکولرازم کا مخالف ہوں لیکن اُس طرح جیسے قرآن شریف میں کفار سے کہا گیا کہ لات، منات اور عزیٰ محض نام ہیں جنہیں تمہارے باپ دادا نے گھڑ لیا۔ ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح میری تحقیق نے مجھے بتایا ہے کہ سیکولرازم صرف ایک نام ہے جس کے کوئی معانی نہیں ہیں۔ یہ ایک بُت ہے جس کے سامنے رسماً سر جھکانے کے بعد خواہ آپ مذہب کے نام پر لوگوں کو زندہ جلائیں، انہیں گائے کا پیشاب پینے پر مجبور کریں، خواتین کے لباس پر مذہبی نوعیت کے اعتراض کریں، آپ کے لیے ہر چیز کی اجازت ہے۔ صرف اس ایک دفعہ اِس بُت کے سامنے ماتھا ٹیک دیں۔ اس بت کے کسی بڑے پجاری سے اس کے نام کا ٹیکا اپنے ماتھے پر لگوا لیں۔

یہ کاروبار دنیا میں ایک دن بھی نہ چل سکتا اگر بدقسمتی سے اسلام کا دفاع کرنے والے اس کی مخالفت کرنے کے زعم میں اسے تقویت نہ دے بیٹھتے۔ انہوں نے تسلیم کر لیا کہ سیکولر ریاست کا کوئی وجود ہے اور سارا زور اس کی مخالفت میں لگا دیا۔ وجہ صرف اتنی تھی کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ اسلامی ریاست کسے کہتے ہیں۔ اس لیے انہیں ایک آسان وظیفہ مل گیا کہ اسلامی ریاست اُسے کہتے ہیں جو سیکولر نہیں ہوتی۔

یہ درست ہے لیکن سیکولر تو کوئی ریاست بھی نہیں ہوتی۔ اسلامی ریاست کی علیحدہ سے تعریف بھی کرنی پڑے گی کہ کون سی چیز اسے اسلامی بناتی ہے اور کون سی چیز سے یہ اسلامی نہیں رہتی۔ہمارے یہاں اسلامی ریاست کا دم بھرنے والوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ جو کچھ انہوں نے اپنی سمجھ بوجھ سے پیش کیا ہے وہ نہ قائداعظم کی تقاریر سے میل کھاتا ہے نہ اُس کا ہماری تاریخ سے کوئی تعلق ہے نہ وہ تحریکِ پاکستان چلانے والوں کے وہم و گمان میں کبھی تھا۔

اس لیے ہمارے یہاں اسلامی ریاست کا دفاع کرنےوالے یہ بات سمجھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے کہ سیکولرازم ایک مہمل کلمہ ہے جس کے کوئی معانی نہیں ہے۔ اسے بامعنی تسلیم کرنے میں سہولتیں ہی سہولتیں ہیں۔ خود نہیں سوچنا پڑتا۔ جب بھی سیکولرازم کی حمایت کرنے والے کہتے ہیں کہ سیکولر ریاست ایسی ہوتی ہے، آپ کہہ دیتے ہیں کہ اسلامی ریاست تو ایسی نہیں ہوتی۔ اس طرح دونوں کا کام چلتا رہا ہے۔ صرف قوم کا کام رکا رہتا ہے، کیا حرج ہے۔

جھوٹ بولنے کا دن ایک دفعہ پھر آ گیا ہے۔ اِس پوسٹ کو پڑھنے کے بعدٹی وی چینلز پر دانشوروں کے کرتب ملاحظہ فرمائیے گا۔ بہت مزہ آئے گا۔   


   
مکمل تحریر >>

منگل، 8 اگست، 2017

صادق اور امین کی تلاش



صادق اور امین کے لیے قوم کی بیتابی مجھ سے نہ دیکھی گئی اور میں گھر سے نکلا کہ اگر کوئی صادق اور امین  مل جائے تو قوم کی خدمت میں پیش کر دوں۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ ہمارے معاشرے میں صادق اور امین بھرے پڑے ہیں۔
میں نے  ان میں سے کچھ کی تصویر بھی اپنے موبائل فون کے کیمرے سے اُتاری۔ یہ دیکھیے۔
 


یہ لوگ کراچی کے اُردو بازار میں صابری نہاری کے باہر فُٹ پاتھ پر بیٹھے ہیں۔ انتظار میں ہیں کہ کب کوئی آئے اور پچاس روپے کا کھانا کھلادے۔ یہ صادق ہیں کیونکہ ان کی زبانِ حال  سوائے بھوک کے اور کچھ نہیں کہہ رہی ، اور بھوک سے بڑی سچائی ابھی تک دنیا میں ثابت نہیں کی جا سکی ہے۔ یہ امین بھی ہیں کیونکہ ان کے پاس روپیہ ہے ہی نہیں،  نہ اپنا اور نہ کسی دوسرے کا، جس میں خیانت کا سوال پیدا ہو۔

شام ہو جانے کی وجہ سے میں زیادہ اچھی تصویر نہ اُتار سکا اس لیے انٹرنیٹ سے حاصل  کر کے صادقوں اور امینوں کی ایک زیادہ واضح تصویر پیش کر رہا ہوں، شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات۔ 


ہم کسی صادق اور امین کو وزیرِاعظم بنانا چاہتے ہیں؟ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے تمام ارکان صادق اور امین ہوں؟ صوبوں کے  وزرائے اعلیٰ اور تمام عوامی نمایندے صادق اور امین ہوں؟ آئیے، اِن تصویروں میں جو لوگ دکھائی دے رہے ہیں اُن جیسے ہزاروں لاکھوں میں سے ہم اپنے وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور نمایندے منتخب کریں۔

آنکھیں کھول کر دیکھیے، معاشرے میں اتنے صادق اور امین ہیں کہ فُٹ پاتھ  پر جگہ جگہ پڑے ہیں، آپ کے لیے انہیں ٹھوکر لگائے بغیر چلنا محال ہے۔

اِنہوں نے کبھی جھوٹی تعلیمی ڈگریاں پیش نہیں کی ہیں۔ کبھی ٹیکس چوری نہیں کیا ہے۔ ممکن ہے آپ شبہ کریں کہ چھوٹی موٹی چوریاں کی ہوں گی لیکن اسلامی شریعت کی رُو سے چوری اور ڈاکے کی حد بھی ان پر قائم نہیں ہوتی ۔ حضرت عمر فاروقؓ کا فتویٰ ہے کہ قحط میں چوری کی حد نافذ نہیں کی جا سکتی۔ یہ لوگ عالمِ قحط ہی میں زندہ ہیں۔

یہ وہ بے بس ہیں جن کے بارے میں خدا کے رسولؐ کا حکم ہے کہ دن میں ستّر دفعہ ان کے قصور معاف کیے جائیں۔ یہ ہمارے وہ پڑوسی ہیں جن کے لیے رسولؐ نے کہا کہ وہ مسلمان نہیں ہے جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور یہ بھوکے ہوں۔ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے  ہیں جیسے ہمیں رسولؐ کی بات کا اعتبار نہ ہو۔ کیا اِس لیے اب رسولؐ کے بعد کسی دوسرے "صادق اور امین" کی تلاش کی جا رہی ہے کہ وہ یقین دلا سکے کہ اگر یہ لوگ بھوکے رہیں تب بھی ہم مسلمان ہیں؟

جب ہم کہتے ہیں کہ ہمیں پاکستان کے لیے صادق اور امین حکمران چاہئیے تو ہم یہ بات گول کر جاتے ہیں کہ پاکستان بنانے والے قائداعظم کی معنوی اولادیں ہی پاکستان کی جائز وارث ہیں۔ یہ بچے، بوڑھے، عورتیں اور جوان جو سڑکوں پر رُلتے ہیں، یہ ملک انہی کے نام لکھا گیا تھا۔

جب تک ہم یہ تسلیم نہیں کرتے، ہم نہ صادق ہیں نہ امین ہیں۔ اس لیے ہمیں صادق و امین حکمراں بھی نہیں ملیں گے۔

وراثت تسلیم  کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ روٹی، کپڑے اور مکان کا وعدہ کر کے ان سے ووٹ لیے جائیں۔ وہ ڈرامہ بہت بری طرح فلاپ ہو چکا ہے۔ انہیں وارث تسلیم کرنے کا مطلب ان سے ووٹ لینا نہیں بلکہ انہیں ووٹ دینا ہے۔

پچھلی پوسٹ میں عرض کیا تھا، ہماری اجتماعی رائے ہی ہماری تقدیر ہے لیکن ہم اسے سمجھ نہیں پاتے۔ وجہ کیا ہے؟ اجتماعی رائے میں اِن بے گھر، بے سہارا لوگوں کے ارمان، ان کے خواب  بھی شامل ہیں۔ کسی کے ارمان اور خواب تب ہی معلوم کیے جا سکتے  ہیں جب اُس کی نازبرداری کی جائے۔ بھیک اور خیرات دینے سے کسی کے دل کی گہرائیاں ہم پر نہیں کُھل سکتیں۔

یہ ہمارے بچھڑے ہوئے بھائی بہن ہیں۔ اِس بات کو تسلیم کیے بغیر ہم اپنی تقدیر کے مالک نہیں بن سکتے ۔  
مکمل تحریر >>

جمعرات، 3 اگست، 2017

۲۰۱۷: سالِ رواں کے بارے میں میری کتاب جو پانچ برس پہلے شائع ہوئی



یادش بخیر، پانچ برس پہلے انگریزی میں میری ایک کتاب شائع ہوئی تھی، "۲۰۱۷: جنگِ مرغدین" (2017: The Battle for Marghdeen) ۔ اُس میں یہ عرض کیا تھا کہ ۲۰۱۷ء میں ہماری قومی و سیاسی تاریخ میں ایک موڑ آنے والا ہے۔ جن احباب نے وہ کتاب پڑھ رکھی ہے اُن میں سے بعض نے پچھلے ایک ہفتے کے دوران اس حوالے سے مجھ سے کچھ سوالات پوچھے اور کچھ فرمایشیں کیں۔ یہ پوسٹ انہی کے جواب میں ہے۔
سب سے پہلے مجھے یہ کہنا ہے کہ میں نے یہ بات خدانخواستہ علمِ نجوم کی بنیاد پر نہیں کہی تھی۔ کسی بزرگ نے خواب میں آ کر بشارت بھی نہیں دی تھی۔ میں ایک مؤرخ ہوں۔ تاریخ کو چند خاص اصولوں کی روشنی میں دیکھتا ہوں جنہیں میں نے فکرِ اقبال سے اخذ کیا ہے۔ علامہ اقبال کا اپنا دعویٰ تھا کہ ان اصولوں کی روشنی میں تاریخ کو دیکھنے سے مستقبل کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔اُن کا دعویٰ سچ نکلا تو میری مجبوری ہے۔ اُن کا کمال ہے۔
سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ ہماری اجتماعی رائے ہی ہماری تقدیر ہوتی ہے۔ اگر ہم یہ جان سکیں کہ ہماری اجتماعی رائے کیا ہے تو ہم جان سکتے ہیں کہ قوم کی تقدیر کیا ہے۔ جس طرح مصر کے بادشاہ نے ایک خواب دیکھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اُس کی تعبیر کر کے ملک میں آیندہ اکیس برس میں ہونے والے واقعات بتا دئیے اور یہ بھی بتایا کہ ان سے نمٹنے کے لیے کس تیاری کی ضرورت ہے۔ بالکل اِسی طرح پاکستان کی "بادشاہ" ہماری اجتماعی رائے ہے۔ ہماری اجتماعی رائے جو بھی خواب دیکھے گی وہ ضرور پورا ہو گا۔
اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں "سب کی رائے" اور "اجتماعی رائے" میں فرق سمجھنا پڑے گا۔
آپ نے وہ قصّہ سُنا ہو گا کہ کہ ایک بوڑھا اپنے لڑکے اور ایک گدھے کے ساتھ کہیں جا رہا تھا۔ کسی نے کہا کہ گدھے کے ساتھ چلنے والے خود  بھی گدھے ہیں کیونکہ پیدل جا رہے ہیں، سوار کیوں نہیں ہو جاتے۔ دونوں گدھے پر بیٹھ گئے تو کسی نے کہا کہ جانور پر بہت بوجھ ہے۔ بوڑھا اُتر گیا تو کسی نے کہا کہ لڑکا بدتمیز ہے، خود سوار ہے اور باپ پیدل چل رہا ہے۔ لڑکا اترا اور باپ بیٹھا تو باپ کو خودغرضی کا طعنہ ملا۔ آخر دونوں نے ایک بانس پر گدھے کو باندھ کر کاندھوں پر اُٹھا لیا۔ پُل پر سے گزرتے ہوئے وہ بانس گدھے سمیت دریا میں گر گیا۔ بوڑھے نے افسوس کرتے ہوئے کہا، "ہم نےتو  سب کو خوش کیا۔ باقی خدا کی مرضی!" ہم میں سے کسی نے یہ کہانی نہ سنی ہو تب بھی تھوڑے بہت تجربے کے بعد سمجھ میں آ جاتا ہے کہ "سب کی رائے" کے مطابق عمل نہیں کیا جا سکتا۔
"سب کی رائے" سے بالکل مختلف ایک اور چیز بھی ہے جسے اجتماعی رائے، عمومی رائے یا متفقہ رائے کہہ سکتے ہیں۔ کہانی پر دوبارہ غور کیجیے کہ بوڑھا اور لڑکا جن آرأ پر عمل کرتے رہے اُن میں سے کوئی بھی متفقہ رائے نہیں تھی۔ متفقہ رائے تب ہوتی کہ تمام رائے دینے والوں کو جمع کر کے کہتے کہ پہلے تم لوگ فیصلہ کر لو کہ چاہتے کیا ہو۔ جب تم سب کسی ایک بات پر متفق ہو  گے، ہم اُس کے مطابق عمل کریں گے ۔ اُس کے بعدجو بھی اعتراض کرے وہ خود سب سے بڑا گدھا قرار دیا جائے۔
متفقہ رائے کی مثال  مولانا روم کی مشہور حکایت بھی ہے کہ چار مسافروں نے کہیں سے ایک سکّہ پایا۔ جھگڑنے لگے کہ کیا چیز خریدی جائے۔ اپنی اپنی زبانوں میں وہ سب ایک ہی پھل کا نام لے رہے تھے لیکن چونکہ ایک دوسرے کی زبانوں  سے ناواقف تھے، اِس لیے جھگڑ رہے تھے۔ مولانا روم کہتے ہیں کہ اُس وقت اگر وہاں کوئی ایسا شخص آ جاتا جو چاروں زبانوں سے واقف ہوتا تو کہہ دیتا کہ تم سب اپنا سکّہ مجھے دو۔ میں تمہارے سامنے وہ چیز لا کر رکھ دوں گا جو تم چاروں کو مطمئن کر دے گی۔  
میری کتاب قوم کی "متفقہ رائے" کی مختصر ترین تاریخ ہے۔ جب تک ہم اپنی متفقہ رائے دریافت نہ کریں گے، جمہوریت  کے ساتھ وہی معاملہ ہوتا رہے گا جو گدھے کے ساتھ ہوا تھا۔ ہمارے یہاں کوئی وزیراعظم اپنے عہدے کی معیاد پوری نہیں کر سکا یعنی ہر دفعہ منزل پر پہنچنے سے پہلے گدھا پُل سے نیچے گر جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہر دفعہ بچے خوش ہو کر تالیاں کیوں پیٹتے ہیں، منچلے مٹھائیاں کیوں بانٹتے  ہیں اور بڑے بوڑھے اطمینان کی سانس کیوں لیتے ہیں؟   جمہوریت کا مطلب عوام کی مرضی ہے اور پاکستانی عوام کی مرضی یہی معلوم ہوتی ہے کہ منتخب وزیراعظم برطرف ہوتے رہیں۔ کسی برطرفی پر کوئی سخت ردِ عمل یا پرزور احتجاج سامنے نہیں آیا۔ شاید پچھلے مواقع کے بارے میں آپ کی یادداشت مِٹ مِٹا گئی ہو لیکن تازہ ترین منظرنامہ تو سامنے ہے۔
آیندہ کے حالات بھی اس پر منحصر ہیں کہ ہماری اجتماعی رائے کیا ہے۔ جہاں تک "سب کی رائے" کا تعلق ہے، کوئی کہہ رہا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے نے انصاف کا دروازہ کھولا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ فیصلے کی بنیاد کمزور ہے یعنی وہ بات ناگوار گزری ہے جس کا سارے فسانے میں ذکر نہ تھا۔ ایک رائے یہ ہے کہ اُمتیں اور بھی ہیں، اُن میں گنہگار بھی ہیں، یعنی  دوسری سیاسی جماعتوں میں بھی بدعنوان رہنما ہیں، اُن پر بھی برق گرنی چاہیے۔ کچھ دلوں میں وسوسے اُٹھ رہے ہیں کہ کسی اندرونی یا بیرونی قوّت کا ہاتھ بھی ہو سکتا ہے۔ کسی نے مٹھائی کھا کر کہا کہ عمران خاں جیت گیا اور کسی نے لسّی پی کر کہا کہ عمران کو بھی نااہل ثابت کر سکتے ہیں  (اُس ستم ظریف کی بات رہنے دیجیے جس نے کہا کہ میاں نواز شریف کے نیک ہونے کی نشانی یہ ہے کہ جمعے والے دن رخصت ہوئے)۔
یہ سب اشارے ہیں۔ وہ چیز کیا ہےجس کے لیے یہ اشارے ہو رہے ہیں؟ جیسے حکایت میں ایک مسافر چاہتا تھا کہ انگور خریدا جائے، دوسرا استافیل چاہتا تھا اور تیسرے کو عنب درکار تھا۔ لیکن اصل میں ایک مخصوص پھل کے یہ سب نام الگ الگ زبانوں میں تھے۔ اگر اُس ملک کا کوئی شخص غلطی سے سمجھ بیٹھتا کہ انگور کا مطلب آم،  استافیل کا سیب اور عنب کا تربوز ہے ، اور یہ سب چیزیں لا کر رکھ دی جاتیں تب بھی مسافروں کی تسلی نہ ہوتی۔
ہمیں بھی سمجھنا ہو گا کہ ہم سب بظاہر الگ الگ باتوں میں کون سی ایک چیز کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ ہم سب چاہتے کیا ہیں اور ہماری متفقہ رائے کیا ہے۔
ہم یہ بات اُسی وقت جان سکیں گے جب جاننا چاہیں گے۔ اور تب جاننا چاہیں گے جب ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ ہوتا وہی ہے جو ہماری اجتماعی رائے ہوتی ہے۔ یہی بات میں نے اپنی کتاب میں تفصیل سے بیان کی تھی۔  کتاب کے بارے میں مزید تفصیل جاننے یا اسے ایمزن کی ویب سائٹس سے خریدنے کا صفحہ میری انگریزی ویب سائٹپر ہے۔ لیکن اگر مفت ڈاؤن کرنی ہے تو وہ یہیں سے کر لیجیے۔
مکمل تحریر >>

ہفتہ، 15 اپریل، 2017

مذہب کے نام پر تشدد کے بارے میں تین روّیے



اگست ۱۹۲۴ء میں کابل میں ایک احمدی کو مرتد ہونے کے جرم میں سنگسار کیا گیا۔ یہ فیصلہ افغانستان کی عدالتوں نے دیا تھا۔ دوسرے ممالک میں یہ خبر کچھ اس لیے بھی حیرت سے سنی گئی کہ اُس وقت افغانستان کے حکمراں امان اللہ خاں اپنی روشن خیالی کی وجہ سے مشہور تھے۔ گزشتہ سال انہوں نے مذہبی آزادی کا اعلان بھی کیا تھا۔ 

سنگساری کے واقعے پر تین طرح کے ردِ عمل سامنے آئے۔ مغربی پریس نے شدید احتجاج کیا۔ ہندوستان میں ہندو پریس نے کڑی تنقید کی۔ انہوں نے لکھا کہ امیر امان اللہ نے قدامت پسند علمائے کرام کو خوش کرنے کی خاطر یہ قدم اٹھایا ہے۔ بعض مسلم اخبارات بھی تنقید میں شامل ہوئے اور واقعے کو "افسوسناک" قرار دیا۔ یہ وہ نقطۂ نظر تھا جسے آج کی اصطلاح میں ہم شاید "لبرل" کہیں گے۔

ردِ عمل کی دوسری قسم یہ تھی کہ  روزنامہ "زمیندار" نے سرخی لگائی، "قادیانی ملحد کی سنگساری" اور خبر کچھ اِس انداز میں بیان کی کہ مثلاً "اس سیاہ کار بدکردار کی سنگساری کے موقع پر ملکی اور فوجی اشخاص کا بہت بڑا اجتماع جمع ہو گیا تھا۔" جمعیت العلمأ کی طرف سے افغان حکومت کو تعریفی ٹیلی گرام بھیجا گیا۔ غالباً آج کی زبان میں بہت سے لوگ ردِ عمل کی اِس دوسری قسم کو "مذہبی انتہاپسندی" یا اِسی طرح کا کوئی نام دیں گے۔ 

لیکن یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ  کچھ ہی ہفتے بعد کانگریس کے زیرِ اہتمام ایک کانفرنس میں جمعیت العلمأ کے صدر مولوی کفایت اللہ نے کہا کہ تمام مذاہب کی تعلیمات میں ہم آہنگی ہے۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام میں مرتد کی سزا موت نہیں ہے تو اُنہوں نے جواب دیا کہ وہ قانون صرف اسلامی ممالک میں نفاذ کے لیے ہے۔ 

ان دونوں سے مختلف ایک تیسری قسم کا ردِ عمل بھی تھا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے سولہویں اجلاس میں جو اُس برس دسمبر کے آخر میں ہوا، اجلاس کے صدر رضا علی نے کہا، "اگر یہ تاثر عام ہو گیا کہ مسلم حکومتیں شہریوں کو مکمل مذہبی آزادی فراہم کرنے پر تیار نہیں ہیں تو دنیا میں ایک عظیم اخلاقی قوت کے طور پر اسلام کی حیثیت کمزور ہو جائے گی۔" اِس موقف اور "لبرل ازم" میں فرق یہ ہے کہ یہاں دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی اخلاقی قوت کی فکر مقدم ہے۔ 

یہ واقعات خاصی تفصیل کے ساتھ میری آیندہ تصنیف "اقبال: دورِ عروج" میں شامل ہیں جو عنقریب شائع ہو رہی ہے۔ یہاں ان کا خلاصہ پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج بھی اِس قسم کے واقعات پر ہمارے یہاں شاید یہی تین طرح کے ردِ عمل سامنے آتے ہیں۔ اِن میں سے پہلے دونوں موقف آج بھی پورے زور و شور سے بیان ہوتے ہیں لیکن تیسرے کو عام طور پر زبان نہیں ملتی۔ حالانکہ یہ سمجھنا شاید غلط نہ ہو گا کہ ایک بہت بڑی تعداد بلکہ شاید اکثریت کا نظریہ آج بھی یہی ہے۔
مکمل تحریر >>