بدھ، 18 نومبر، 2015

اشتیاق احمد، علامہ اقبال اور ہم سب


آج سے قریباً پینتیس برس پہلے کی بات ہے۔  ہر شخص سوگوار دکھائی دے رہا تھا۔ ابن صفی فوت ہو گئے تھے۔ میں ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا اور مجھے مطالعے کا بہت شوق تھا۔ اس لیے جاننے والے مجھ سے بھی "تعزیت" کر رہے تھے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ میں بھی ابن صفی کا مداح رہا ہوں گا کیونکہ مجھے مطالعے کا شوق تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ میں نے کبھی ابن صفی کو نہیں پڑھا تھا۔ دو تین دفعہ "عمران سیریز" کی شہرت سن کر محلے کی لائبریری سے  سیریز کی کتاب حاصل کی لیکن معلوم نہیں تھا کہ ہر دفعہ ابن صفی کی بجائے کسی اور کی لکھی ہوئی کتاب میرے ہاتھ لگی ہے۔  ہر دفعہ وحشت ہوئی اور لاحول پڑھ کر کتاب واپس کر دی۔
میں اے حمید اور اشتیاق احمد کے ناول شوق سے پڑھتا تھا۔ ابن صفی کی وفات کے بعد اشتیاق احمد کا پہلا ناول جو آیا وہ اگر میں بھول نہیں رہا تو "تیسرا آدمی"تھا۔ اُس کی "دو باتیں" میں اشتیاق احمد نے بتایا تھا کہ ابن صفی اُن کے روحانی اُستاد تھے۔ اب مجھے ایک دفعہ پھر کوشش کرنی پڑی اور خوش قسمتی سے اس دفعہ ابن صفی کی اپنی تحریر ہاتھ لگی۔ "تلاشِ گمشدہ"، جو ایک مسلسل کہانی کے بیچ کا ناول تھا اس لیے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ کہانی سمجھ میں آتی۔ یہ ابن صفی کے قلم کی طاقت تھی کہ کوئی تشنگی محسوس نہیں ہوئی۔ یوں ابن صفی سے میرا تعارف ہوا۔
اس کے بعد وہی ہوا جو میری جنریشن کے اکثر لوگوں کے ساتھ ہوا۔ یعنی ابن صفی سے متعارف ہونے کے بعد ہم اشتیاق احمد سے وقتی طور پر دُور ہو گئے۔ یہ اس لیے بھی تھا کہ اشتیاق احمد بچوں کے لیے لکھتے تھے۔ بچپن کی حدود سے نکلتے ہی اُن کے ناولوں میں دلچسپی کچھ دیر کے لیے کم ہو جانا فطری بات تھی۔ ۱۹۸۱ء میں آٹھویں جماعت کے زمانے میں میرے پاس اشتیاق احمد کی اُس زمانے تک شائع ہونے والی تمام کتابوں کا مکمل ذخیرہ موجود تھا۔ یہاں تک کہ "ایک روپے والی" مختصر کہانیاں بھی شامل تھیں۔ وہ سب میں نے نرسری مارکیٹ میں ہلال لائبریری کے عمر بھائی کے ہاتھ معمولی داموں فروخت کر دیں۔ وہاں سے  میرے ہی اسکول کے ایک لڑکے نے خریدیں جس سے اُس وقت تک  میرا تعارف نہیں ہوا تھا۔ بعد میں مشترکہ دوستوں کے ذریعے متعارف ہوا۔ وہ میرے عزیز دوست اور نامور گلوکار فیصل لطیف ہیں۔
چار پانچ برس بعد میں نے ناصرہ اسکول میں پڑھانا شروع کیا تو وہاں کی لائبریری میں خاص طور پر اشتیاق احمد کے ناول رکھوائے اور بچوں میں اشتیاق احمد کے ناولوں کی باقاعدہ تشہیر کی۔ البتہ یہ احتیاط کی کہ اُن کے وہ ناول شامل نہ ہونے پائیں جن میں کسی گروہ کی دلآزاری کا کوئی پہلو موجود ہو۔ آسان ترکیب یہ تھی کہ ۱۹۸۱ء سے پہلے کے ناول رکھے جائیں جن میں سے ایک ایک میرا پڑھا ہوا تھا۔ بالخصوص شیخ غلام علی اینڈ سنز سے اُن کے جو ناول شائع ہوئے تھے وہ نہ صرف بالکل "مناسب" تھے بلکہ وہ میرے خیال میں دنیا بھر میں بچوں کے بہترین ادب کے مقابلے میں رکھے جا سکتے تھے۔
میری اپنی طالب علمی کے زمانے میں اسکولوں کے اساتذہ اشتیاق احمد کے ناولوں کی برائی کرتے تھے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے اساتذہ کے ہاتھوں یہ ناول پھٹتے ہوئے دیکھے تھے۔ اس لیے ۱۹۸۷ء میں جب میں نے ناصرہ اسکول میں بچوں کو اشتیاق احمد کے ناول پڑھنے کی ترغیب دی تو بعض اساتذہ کو تعجب ہوا۔  خوش قسمتی سے اسکول کی انتظامیہ نے زبردست حمایت کی جہاں محترمہ نصرت زبیری، محترمہ ناصرہ وزیر علی، محترمہ بلقیس صدیقی اور محترمہ بیگم واجد علی جیسی روشن خیال ہستیاں جمع تھیں۔
پیش لفظ کا عنوان اشتیاق احمد کے ناولوں میں "دو باتیں" اور ابن صفی کے ناولوں میں "پیشرس" ہوتا تھا۔ میں نے جب اپنی کتابوں پر پیش لفظ لکھنے شروع کیے تو اِنہی دونوں کے امتزاج سے "پہلی بات" کا عنوان ڈالا۔ لفظ "پہلی" ابن صفی کے "پیشرس" سے ماخوذ ہے اور "بات" اشتیاق احمد کی "دو باتیں" سے درآمد کیا گیا ہے۔میری کتابوں کے پیش لفظ کا عنوان عموماً یہی ہوتا ہے، "پہلی بات۔"
بچپن میں اشتیاق احمد کے ساتھ میری  خط کتابت رہی۔ اُن دنوں وہ خط کا جواب بڑی جلدی اور تفصیل سے دیتے تھے، نہایت باریک قلم سے بہت ہی باریک لکھائی میں۔ پھر ناولوں میں بھی قارئین کے خطوط شائع ہونے لگے۔ میرے خطوط بھی چند مرتبہ شائع ہوئے۔
جب پہلی دفعہ ایک کتاب کے پیچھے اشتیاق احمد کی تصویر چھپی تو بعض پڑھنے والوں کو شدید دھچکا لگا۔ کچھ قارئین نے مشترکہ طور پر بہت ہی بدتمیز قسم کا خط بھی لکھا جسے مصنف نے حسبِ معمول اگلے ماہ شائع کر دیا۔ اس پر دوسرے قارئین نے خطوط لکھ کر اُن "بدتمیزوں" کی اچھی طرح خبر لی۔
انہی دنوں اشتیاق احمد ٹیلی وژن پروگرام "فروزاں" میں بطور مہمان بلائے گئے۔ اس پروگرام میں قابل ذکر نوجوانوں کا تعارف کروایا جاتا تھا۔ اشتیاق احمد سے پوچھا گیا کہ کیا کبھی کسی شخص کو دیکھ کر یوں لگا جیسے وہ اُن کے ناول کا کوئی کردار ہے۔ اشتیاق احمد نے جواب دیا کہ ایک دفعہ اُنہیں بتایا گیا کہ کراچی سے ایک نوعمر قاری اُن سے ملنے آیا ہے جس کا نام "فاروق  احمد" ہے۔ اتفاق سے یہی نام اشتیاق احمد کے ایک مرکزی کردار کا بھی تھا جس کی نمایندہ خصوصیت اُس کی حسِ مزاح تھی۔ اشتیاق احمد نے کہا کہ جب وہ اس لڑکے سے ملے تو محسوس کیا جیسے وہ اپنے کردار فاروق سے مل رہے ہوں۔
یہ انٹرویو دیکھ کر میں نے اشتیاق احمد کو خط لکھا اور فاروق احمد کا پتہ مانگا۔ انہوں نے پتہ بھیج دیا اور یوں فاروق احمد سے میری قلمی دوستی شروع ہوئی۔ ناظم آباد  کی طرف کا پتہ تھا اور میں پی ای سی ایچ میں رہتا تھا۔ ساتویں جماعت میں اکیلے اتنی دُور جانے کا کوئی امکان نہیں تھا اس لیے ایک دو برس تک قلمی دوستی رہی۔ ملاقات کی نوبت نہیں آئی۔
ایک مدت بعد یعنی چند برس پہلے کراچی کے کتاب میلے میں "اٹلانٹس پبلی کیشنز" کے اسٹال پر معلوم ہوا کہ یہ ادارہ جو اَب اشتیاق احمد کے ناول شائع کرتا ہے، اس کے کرتا دھرتا وہی فاروق احمد ہیں جن سے بچپن میں میری قلمی دوستی رہ چکی ہے۔ ابن صفی کے فرزند ڈاکٹر احمد صفی اس موقع پر میرے ساتھ موجود تھے۔ اُنہیں فاروق احمد سے متعارف کرواتے ہوئے میں اِس حسنِ اتفاق پر غور کر رہا تھا کہ مجھے اشتیاق احمد نے ابن صفی سے متعارف کروایا اور پھر ابن صفی کے ورثا کی اشتیاق احمد کے حلقے سے بالمشافہ ملاقات کروانے میں میرا حصہ ہو گیا۔

دو تین برس پہلےٹاپ لائن پبلشرز کے لیے درسی کتب کی سیریز "کتابِ اُردو" مرتب کرتے ہوئے میں نے  اشتیاق احمد کی کہانی بھی شامل کی۔ فاروق احمد کے خصوصی تعاون کی بدولت یہ ممکن ہوا۔ یہ کتابیں حال ہی میں شائع ہو گئی ہیں اور چند روز پہلے کراچی کے کتاب میلے میں ان کی تقریبِ رونمائی ہوئی۔ ناشر حنین بن جبار نے مجھے بتایا ہے کہ میلے میں اُنہوں نے اشتیاق احمد کی خدمت میں بھی یہ کتابیں پیش کیں۔ میں اِن دنوں ملک سے باہر ہوں مگر حنین نے ان کتابوں پر نہ صرف اپنے لیے بلکہ میرے لیے بھی دستخط لیے۔ وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ صرف دو روز بعد یہ ایک ایسی ہستی کے دستخط ہوں گے جو دنیا سے رخصت ہو چکی ہے۔
مجھے اس بات سے کچھ تسلی ہوتی ہے کہ ہم نے اشتیاق احمد کی زندگی ہی میں یہ منظر اُن کے سامنے پیش کر دیا کہ اُن کی تحریر درسی کتابوں کا حصہ بن رہی ہے۔ حنین کا کہنا ہے کہ وہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔
اب صرف یہ خلش محسوس ہو رہی ہے کہ کاش مجھے اشتیاق احمد سے یہ بھی کہنے کا موقع ملتا کہ اُن کی جاسوسی کہانی درسی کتاب میں اس لیے شامل  کی جا رہی ہے کہ درسی کتابوں کی یہ سیریز علامہ اقبال اور اُن کے شاگرد حکیم احمد شجاع کے مرتب کردہ "اُردو کورس" کا ایک جدید رُوپ ہے۔ اصل سیریز ۱۹۲۴ء میں شائع ہوئی تھی۔ اُس میں ایک جاسوسی ڈرامہ "ہوشیار سراغرساں" شامل کیا گیا تھا۔ وہ حکیم احمد شجاع نے خود لکھا تھا۔ اسی لیے موجودہ سیریز میں چھٹی جماعت میں اشتیاق احمد کی ایک کہانی، ساتویں جماعت میں  ابن صفی کے ناول سے ایک اقتباس اور آٹھویں جماعت میں شجاع کا ڈرامہ "ہوشیار سراغرساں" شامل کیے گئے ہیں۔
اِس طرح اُردو میں بچوں کا جاسوسی ادب متعارف کروانے کا سہرا علامہ اقبال کے سر ہے۔ اس کی بنیاد رکھنے والے کا نام حکیم احمد شجاع قرار پاتا ہے۔ اشتیاق احمد کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ اُنہوں نے بچوں کے ادب میں اُس صنف کو دوبارہ زندہ کیا جسے علامہ اقبال نے متعارف کروایا تھا لیکن جسے بعد میں دانشوروں نے بچوں کے ادب سے نکال دیا تھا۔
ہم نے اشتیاق احمد کو اِس کے صلے میں کیا دیا؟ اسکولوں میں اُن کی کتابیں ممنوعہ قرار دی گئیں۔ اساتذہ نے اُنہیں پرزے پرزے کیا۔ کسی اکادمی، کسی یونیورسٹی اور دانشوری کے کسی بٹیرخانے میں اُن کی پذیرائی نہیں ہوئی۔ اس کے بعد اگر اشتیاق احمد اپنے ناولوں میں "انتہاپسندی" کی طرف راغب ہوئے تو ہمیں تعجب کیوں ہے؟ تعجب تو ہمیں اس پر ہونا چاہئیے کہ انہوں نے اپنے پیٹ سے بم باندھ کر خود ہی کو دھماکے سے کیوں نہیں اُڑا لیا۔
میں سمجھتا ہوں کہ ابن صفی نے کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ مفہوم ادا کرنے کی جو روایت قائم کی تھی، اُسے بھی اشتیاق احمد نے بچوں کے ادب میں منتقل کیا۔ چونکہ بچوں کے ادب کے تقاضے نسبتاً محدود تھے اس لیے اشتیاق احمد کے یہاں جزئیات نگاری مزید کم ہو گئی۔ یہ وہ اسلوب ہے جس سے اُس زمانے کی انگریزی نثر بالکل محروم تھی۔ بڑوں اور بچوں دونوں کے ادب میں۔  میرے خیال میں انگریزی نے یہ اسلوب ڈَین براون کے ساتھ متعارف ہوا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ اُن کے پہلے تین ناول کوئی خاص توجہ حاصل نہیں کر سکے کیونکہ وہ اُس جزئیات نگاری سے بالکل محروم تھے جو نقادوں کی نگاہ میں کسی ناول کو ناول بناتی ہے۔ لیکن جب ڈَین براون نے "ڈا ونچی کوڈ" میں عیسائیت کی دو ہزار سالہ تاریخ کا معمہ پیش کیا تو وہی جزئیات نگاری سے محروم اسلوب اس معمے کو ہر طرح کے قارئین تک پہنچانے کا ذریعہ بن گیا۔
سچی بات یہ ہے کہ جب میں نے پہلی دفعہ "ڈا ونچی کوڈ" پڑھا تو میرے دل میں اشتیاق احمد کی قدر بڑھ گئی۔ میں نے دوستوں سے کہا کہ جس کارنامے پر دنیا عش عش کر رہی ہے یہ تو وہی اسلوب ہے جسے اشتیاق احمد ہمارے بچپن کے زمانے سے استعمال کر کے اَدھ موا کر چکے ہیں، اس میں کون سی نئی بات ہے۔ بالکل اُسی طرح ڈَین براون کے کردار وں میں منہ سے بھی ایک ساتھ "اوہ" نکلتا ہے اور وہ دفعتاً "اُچھل" پڑتے ہیں۔دروازے میں کوئی پراسرار شخص کھڑا مسکرا رہا ہوتا ہے۔
اشتیاق احمد کے ناول ابن صفی کے ناولوں سے ایک اور طرح بھی مختلف ہیں۔ ابن صفی نے اُس طرح کے ناول نہیں لکھے جیسے انگریزی میں لکھے جاتے ہیں بلکہ ایک نئی صنف اختراع کی جس پر میں اپنی کتابوں "سائیکو مینشن" اور "رانا پیلس" میں روشنی ڈال چکا ہوں۔ اس کے برعکس اشتیاق احمد کے ناولوں میں سراغرسانی کا عنصر کچھ  اُسی انداز میں پیش ہوتا ہے جیسا انگریزی کے جاسوسی ناولوں کا انداز ہے۔ صرف اسلوب کا فرق ہے جو میں نے اوپر بیان کیا۔ یعنی وہ اسلوب جو پہلے انگریزی میں موجود نہیں تھا اور پھر ڈَین براون کے ذریعے آیا۔ اس کے علاوہ  مزاح اور اخلاقی پہلووں کا اضافہ ہے جو غالباً  ابن صفی کا اثر  ہے۔
اس طرح اشتیاق احمد نے ابن صفی کی نقالی نہیں کی بلکہ ان سے متاثر ہو کر اپنی الگ راہ نکالی۔ اسی لیے مجھے اُن کے آخری ناول "عمران کی واپسی" کا اعلان سن کر  زیادہ  خوشی نہیں ہوئی البتہ اس بات کی خوشی ضرور تھی کہ میرے پچپن کے قلمی دوست فاروق احمد، اشتیاق احمد کے ساتھ شریک مصنف بن گئے۔ میرے خیال میں اشتیاق احمد کے بہت سے پرانے قارئین نے بھی یہی محسوس کیا ہو گا جیسے فاروق ہم سب کی نمایندگی کر رہے ہیں اور ہم  اشتیاق احمد کے ساتھ شریک ہو گئے ہیں۔
اشتیاق احمد کے ناولوں کی تعداد آٹھ سو سے زیادہ ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ میرے خیال میں ناولوں کی تعداد سے قطعِ نظر بھی اشتیاق احمد بہرحال ایک جینئیس تھے۔ صرف اُن ناولوں کی بات رہ جاتی ہے جن میں کچھ ایسی باتیں ہیں جن سے بعض گروہوں کی دلآزاری ہوتی ہے۔ میں یہی سمجھتا ہوں کہ وہ باتیں بچوں کے ناولوں میں نہ لکھی جاتیں تو بہتر تھا۔ لیکن یہ موضوع تفصیل طلب ہے۔ اس پر عاصم بخشی نے جو کچھ لکھا ہے اُسے حرفِ آخر بھی سمجھا جا سکتا ہے اور مزید غور و فکر کے لیے نقطہء آغاز بھی۔ اُن کی یہ بات خاص طور پر قابلِ غور ہے کہ اُس زمانے میں ہمارا بایاں بازو زیادہ لمبا ہو گیا تھا۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ اشتیاق احمد دائیں بازو کو بھی اُتنا ہی لمبا کر کے تناسب بحال کر سکے یا نہیں۔ لیکن اب جبکہ اُن کی کتابوں کی اشاعت فاروق احمد کے سپرد ہے، ہم توقع کر سکتے ہیں کہ دونوں بازو برابر ہو کر حدِ اعتدال میں واپس آ جائیں گے۔
میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ اشتیاق احمد کی کتابیں سینسر کر کے شائع کی جائیں۔ مطلب یہ ہے آٹھ سو ناولوں میں ہر طرح کے ناول موجود ہیں۔ انتخاب کیا جا سکتا ہے۔

2 تبصرے:

کائناتِ تخیل نے لکھا ہے کہ

جزاک اللہ
آپ نے لفظ پڑھنے کا حق لفظ لکھ کر ادا کرنے کی بروقت کوشش کی اور بہت اچھی طرح نہ صرف ہم سب کے بچپن کے محبوب لکھاری کے اسلوبِ تحریر کا احاطہ کیا بلکہ جناب اشتیاق احمد کے ساتھ اپنی قیمتی یادیں بھی شئیر کیں۔بلاشبہ وہ ایک عظیم تخلیق کار تھے جن کا زرخیز تخیل قاری کو ایک نشے کی طرح اپنی گرفت میں لے لیتا۔ بچوں کے لیے لکھنا ویسے تو ایک بہت بڑی بات ہے لیکن عالمی ادب میں عمومی طور پر اور ہمارے ہاں خاص طور پر اسے تنقید وتحسین کے کسی بھی پلڑے میں نہیں رکھا جاتا۔دکھ کی بات تو ہے لیکن کڑوا سچ یہی ہے کہ بچوں کا ادب بچوں تک ہی رہتا ہے ہم سب "بڑے" ہونے کے بعد رفتہ رفتہ اپنی "پہلی محبت" بھول جاتے ہیں۔یاد کے پردے پر بس دھندلے نقوش رہ جاتے ہیں۔جب ایسے ہی کوئی سانحہ گزرے تو ہم ذرا دیر کو رُکتے ہیں پھر آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ یہ ہماری خامی ہے تو شاید خوبی بھی کہ زندگی نام ہی چلتے رہنے کا ہے۔
اللہ اُن کی آگے کی منزلیں آسان کرے،آمین
https://www.facebook.com/noureerntabassum/

Ahsan نے لکھا ہے کہ

واہ واہ جناب بہت عمدہ تحریر!
اگرچہ میں اس تحریر کو اشتیاق احمد کی وفات کے کافی عرصے بعد پڑھ رہا ہوں لیکن بہت عمدہ تحریر ہے۔
بلاشبہ ہم نے بھی اشتیاق احمد سے ابن صفی کی تحریروں کا سفر کیا ہے اور دونوں ہمارے بچپن سے لڑکپن کے سفر کے ساتھی رہے ہیں۔
آپ نے کچھ ناولوں کے بارے میں کہا کہ اس میں کچھ گروہوں کی دل آزاری کی گئی ہے اس میں کس کی طرف اشارہ ہے؟

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔