جمعہ، 27 نومبر، 2015

اقبال اور بھٹائی


شاہ عبداللطیف بھٹائی اور علامہ اقبال ایک ہی چراغ کی  کرنیں ہیں۔ یہ وہ سچائی ہے جسے ہم ابھی تک نہیں پہچان پائے۔ شاید اس لیے کہ ہمارے یہاں دونوں شاعروں کا مطالعہ غیرملکی ماہرین کے متعین کیے ہوئے اصولوں کی روشنی میں ہوتا ہے۔
رومی، بھٹائی اور اقبال ہماری ثقافت کے تین مراحل کی نمایندگی کرتے ہیں۔ مولانا روم نے اپنی زبان سے دعویٰ نہیں کیا کہ قرآن کی تفسیر کر رہے ہیں مگر بعد میں آنے والوں نے اُن کی مثنوی کے بارے میں کہا کہ وہ  فارسی میں قرآن ہے۔ رومی کے قریباً پانچ سو برس بعد سندھ میں بھٹائی نے دعویٰ کیا کہ اُن کی شاعری میں قرآن کے معانی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ دعویٰ اُن کے مجموعہء کلام "شاہ جو رسالو" میں موجود ہے۔ اس طرح بالواسطہ یعنی قرآن کے ذریعے اُن کا تعلق مولانا روم کے ساتھ بھی جڑتا ہے۔
علامہ اقبال غالباً بھٹائی سے واقف نہیں تھے۔ اس لیے کہ ۱۹۴۰ء سے پہلے بھٹائی کا نام سندھ سے باہر زیادہ معروف نہیں تھا اور یہ ہماری بدقسمتی تھی۔ لیکن تعجب ہے کہ جو بات بھٹائی نے اپنے بارے میں کہی وہی  علامہ نے قریباً دو سو برس بعد اپنے لیے دہرائی کہ میرے اشعار میں قرآن کے معانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ دعویٰ اُن کی فارسی مثنوی "اسرار و رموز" میں موجود ہے۔ اسی مثنوی کے آغاز میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مولانا روم کے حکم پر اُن کے پیغام کو نئے زمانے کے مطابق پیش کر رہے ہیں۔
اس طرح اقبال اور بھٹائی کے درمیان پہلا تعلق یہ ہے کہ دونوں نے قرآن کے معانی اپنی شاعری میں پیش کرنے کا دعویٰ کیا۔ اس لحاظ سے دونوں ہی مولانا روم کے شاگرد قرار پاتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ اسلامی ادب میں بھٹائی کے ساتھ ایک نئے زمانے کا آغاز ہوتا ہے جس میں اقبال بھی پیدا ہوئے اور ہم سب بھی جی رہے ہیں۔
بھٹائی سے پہلے کے صوفیانہ ادب میں صرف آفاقیت ہے۔ علاقائیت کا احساس نہ ہونے کے برابر ہے۔ مولانا روم کی شاعری سے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ ترکی میں بیٹھ کر لکھی گئی۔ سعدی کی شاعری سے اندازہ نہیں ہوتا کہ ایران میں لکھی گئی۔ امیر خسرو کی شاعری محسوس نہیں کرواتی کہ ہندوستان میں لکھی گئی، سوائے چند "ہندی" گیتوں اور پہیلیوں کے جن کے بارے میں یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ واقعی امیر خسرو کے ہیں۔ اسی لیے عرب کی لیلیٰ بڑی سہولت سے فارسی میں منتقل ہونے کے بعد بالکل ایرانی لگنے لگتی ہے۔ بلہے شاہ نے پنجابی میں شاعری کی لیکن سوائے اُن کی زبان کے اور کوئی بات ایسی نہیں جس سے معلوم ہو کہ یہ شاعر کہاں رہتا ہے۔
جب ہم بھٹائی کی طرف آتے ہیں، ہمیں ایسی شاعری ملتی ہے جس کی بنیادی اقدار تو وہی آفاقی ہیں اور پیغام بھی مولانا روم والا ہے لیکن یہ شاعری اُسے گہرے علاقائی رنگ میں پیش کر رہی ہے۔ سوہنی، سسی، لیلاں، مومل اور ماروی وغیرہ اس لحاط سے لیلیٰ اور شیریں سے مختلف ہیں کہ یہ اپنے اپنے علاقوں کی چلتی پھرتی تصویریں ہیں اگرچہ ان کی روحیں پوری انسانیت کی نمایندگی کرتی ہیں۔
بھٹائی کے بعد شاعروں کا وہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جو وارث شاہ، سچل سرمست، میاں بخش اور نجانے کتنے لوگوں سے ہوتا ہوا علامہ اقبال تک پہنچتا ہےجہاں بڑی خوبصورتی سے یہ نکتہ بیان ہوتا ہے کہ ہم اپنے علاقے کی مٹی سے بنے ہوئے پیالے میں عرب کی شراب پیش کر رہے ہیں :
بھٹائی اور اقبال کے درمیان دوسری قدرِ مشترک یہی ہے کہ دونوں نے اپنے خطے کے رنگ میں اسلام کے آفاقی پیغام کو پیش کیا جو دراصل انسانیت کا پیغام ہے اور صرف مسلمانوں تک بھی محدود نہیں۔ اس انداز کے خالق بھٹائی ہیں جبکہ اسے تکمیل تک پہنچانے والے اقبال ہیں۔
اب تیسرا سوال پیدا ہوتا ہے۔ بھٹائی کی شاعری جس خطے کی نمایندہ ہے کیا وہ صرف سندھ ہے؟ میرے خیال میں ایسا نہیں ہے۔ بھٹائی کی زبان اگرچہ سندھی ہے لیکن وہاں اُس پورے خطے کی جھلکیاں ملتی ہیں جو آج پاکستان ہے۔ سوہنی مہینوال اور سسی پنہوں ہی پر نظر ڈالیے تو کم سے کم سندھ، پنجاب اور بلوچستان ایک وحدت میں بندھے ہوئے ضرور دکھائی دیتے ہیں۔ ذرا وسعت دیجیے تو خیبر پختونخوا اور کشمیر کی جھلکیاں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
ممکن ہے کہ بنگال بھی بھٹائی کے تخیل کی دنیا سے باہر نہ رہا ہو۔ بھٹائی کا ایک شعر کچھ عرصے سے کافی مشہور ہو رہا ہے جس میں  ملاح سے کہا جا رہا ہے کہ فرنگی سے ہوشیار رہو۔ ممکن ہے کہ بھٹائی نے یہ بات اس لیے کہی ہو کہ جنوبی سندھ میں یورپی تاجروں نے کوئی کارخانے بنائے تھے۔ لیکن جنگِ پلاسی کے زمانے سے پہلے کہا ہوا یہ شعر بنگالی ملاح کے حسبِ حال بھی تو ہے۔
 بھٹائی کے سب سے اہم جانشین سچل سرمست نے سندھی کے علاوہ بھی پانچ چھ زبانوں میں شاعری کی۔ بعض محققین کے دعوے کے مطابق ان میں اُردو بھی شامل ہے اگرچہ بعض دوسرے محقق اس میں شبہ ظاہر کرتے ہیں۔ تب بھی ہم دیکھ سکتے ہیں کہ بھٹائی سے اگلی ہی نسل میں ایک سندھی شاعر موجودہ پاکستان کے اکثر علاقوں کی زبانوں میں شعر کہہ رہا تھا۔ اور سچل ہی کے بارے میں بھٹائی کا قول مشہور ہے کہ میں نے جو دیگ چڑھائی ہے اُس کا ڈھکن یہ شخص کھولے گا۔
 اس طرح بھٹائی اور اقبال کے درمیان تیسری قدرِ مشترک یہ ظاہر ہوتی ہے کہ دونوں کے شعری تخیل میں پاکستان کا خاکہ موجود ہے۔ علامہ نے خود ہی کہا تھا کہ قومیں "شاعروں" کے دلوں میں پیدا ہوتی ہیں۔
جو لوگ علامہ کی شاعری سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس شاعری کا ایک بہت بڑا حصہ "ڈرامائی مانولاگ" کی صورت میں لکھا گیا ہے۔ یہ وہ نظمیں ہیں جن میں کوئی کردار خودکلامی کرتا ہے۔ اُس سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کہاں ہے، اُس کے ساتھ کیا ماجرا پیش آیا ہے اور وہ کیا محسوس کر رہا ہے۔ مثلاً "ماں کا خواب"، "ایک حاجی مدینے کے راستے میں"، "قیدخانے میں معتمد کی فریاد"۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ علامہ نے یہ انداز مشہور انگریز شاعر رابرٹ براوننگ سے اخذ کیا۔ یہ انیسویں صدی کا شاعر تھا۔ اس انداز کا موجد اور امام سمجھا جاتا ہے۔
جس بات کی طرف شاید کبھی توجہ نہیں دی گئی وہ یہ ہے کہ بھٹائی کے کلام کا اکثر حصہ بھی ڈرامائی مانولاگ ہی کی صورت ہیں ہے۔ انہوں نے پوری پوری کہانیاں بیان نہیں کی ہیں۔ بلکہ وہ کسی لوک کہانی کے مشہور کردار کو لے کر اُس کی زبانی کچھ کہلوانا شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ڈرامائی مانولاگ کا انداز براننگ سے سو برس پہلے ہی ہمارے یہاں بھٹائی بڑی کامیابی سے برت چکے تھے۔ اتفاق سے یہی انداز بعد میں علامہ نے بھی اختیار کیا۔ یہ بھی بھٹائی اور علامہ کے درمیان ایک گہری مماثلت ہے خواہ علامہ نے یہ انداز براوننگ ہی سے کیوں نہ لیا ہو۔ اس طرح رومی، بھٹائی اور اقبال جیسی ایک اور مثلث بنتی ہے یعنی بھٹائی، براوننگ اور اقبال۔ ان تینوں کے تقابلی مطالعے پر بھی کام ہونا چاہئیے۔
اس دفعہ وفاقی حکومت نے یومِ اقبال کی چھٹی منسوخ کر دی۔ دوسری طرف سندھ کی صوبائی حکومت نے بھٹائی کے عرس پر چھٹی کا اعلان کر دیا۔ بہت ممکن ہے کہ اس کے پیچھے کوئی ویسی ہی سازش ہو جیسی ۱۹۷۱ء سے پہلے کے زمانے میں علامہ اقبال اور بنگالی شاعر نذرالاسلام کے درمیان کشمکش پیدا کر کے کی جاتی تھی۔
آج پھر پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی وحدت کی حفاظت کریں۔ علامہ اقبال کے نام پر جشن ہو یا بھٹائی کے نام پر بہرحال ہم اُسے اُس وحدت کو پہچاننے میں استعمال کریں گےجو تاریخی سچائی ہے۔



مزید مطالعے کے لیے بھٹائی کے بارے میں میرا انگریزی مضمون ملاحظہ کیجیے جو چند برس قبل ڈان اخبار میں شائع ہوا تھا۔ 

2 تبصرے:

Tanveer Haider نے لکھا ہے کہ

ایک نادر تحریر ہے۔۔

M. Moosa Soomro نے لکھا ہے کہ

بہت اچھا مضمون ہے۔۔۔

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔