جمعرات، 10 ستمبر، 2015

ثقافت کے قاتل

یہ کام صرف پاکستان کے ادیب اور دانشور ہی کر سکتے تھے کہ اُس بنگالی کو اُردو سے نفرت کروا دیتے جس کے دادا نے تب کلکتہ میں اُردو کی کتابیں پڑھنا شروع کی تھیں جب دہلی میں میر تقی میر اُردو نثر لکھنے پر تیار نہیں تھے۔ اُردو کی گرامر بھی کلکتہ ہی میں مرتب ہوئی تھی۔ قائداعظم نے بنگالی مسلمانوں کی اکثریت کے مطالبے پر ہی یہ اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اُردو ہو گی۔
الحمدللہ کہ ہم نے اُسی بنگال میں ایسی فضا پیدا کی کہ آج سقوطِ ڈھاکہ کا تذکرہ ہوتے ہی سب سے پہلے زبان کے مسئلے کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ یہ ہماری ادبی تنظیموں کا وہ کارنامہ ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
ہم ان محسنوں کی خدمت میں کوئی تمغہ تو پیش نہیں کر سکتے لیکن یہ نتیجہ ضرور نکال سکتے ہیں کہ اگر کسی زبان کے ادب میں ہمیں دلچسپی ہو تو زبان اپنی ہو یا غیر کی، ہم اُسے سیکھنے پر تیار بھی ہو جاتے ہیں اور سیکھ بھی لیتے ہیں۔ لیکن اگر ہمیں اُس سرمائے میں دلچسپی نہ رہے جو اُس زبان میں پیش کیا جا رہا ہے تو وہ مادری زبان ہی کیوں نہ ہو، ہم اُسے ترک کر دیتے ہیں اور بھول جاتے ہیں۔
یہاں ادب سے مراد فیض احمد فیض، سعادت حسن منٹو اور پروین شاکر وغیرہ کی تحریریں نہیں بلکہ وہ چیزیں ہیں جن کا زندگی سے تعلق ہوتا ہے اور جن میں خواص کے ساتھ ساتھ ایک عام انسان بھی دلچسپی لیتا ہے۔ اس ادب کی پہچان ہمیشہ یہی رہی ہے کہ جو لوگ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے وہ بھی اس سے لطف اُٹھاتے ہیں۔
میں نے یہ بات خاصی تفصیل کے ساتھ اپنی انگریزی تصنیف حیاتِ اقبال اور ہمارا عہد میں بیان کی ہے۔ وہاں میں نے مکمل حوالوں کی مدد سے دکھایا ہے کہ مولانا حالی سے اُردو ادب میں ایک تحریک شروع ہوئی جسے اُردو ادب کی اسلامی تحریک کہا جاتا تھا۔ اس کے درخشندہ ستاروں میں سر سید، اکبر الٰہ آبادی، مولانا شبلی نعمانی، علامہ اقبال ، محمد علی جوہر اور مولانا ظفر علی خاں وغیرہ کے نام لیے جاتے تھے۔ اس تحریک کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ اس نے اسلام کو زندہ اور عالمگیر تحریک سمجھ کر مسلم تہذیب کے ساتھ اپنا تعلق برقرار رکھا۔
اسی ادبی تحریک نے برصغیر کے مسلمانوں میں ایک قوم ہونے کا احساس جگایا۔  آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام، پاکستان کے تصوّر اور پھر پاکستان کی تخلیق میں اس ادبی تحریک کا کردار نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے بھی اسی تحریک کے جاری رہنے کی ضرورت تھی۔ بدقسمتی سے اس موقع پر وہ ٹریجڈی پیش آ گئی جس کا تذکرہ میں نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے لیکن تفصیل یہاں پیش کرنا چاہتا ہوں۔
۱۹۲۰ء میں جب عام ہندووں نے بھی تحریکِ خلافت میں مسلمانوں کا ساتھ دیا تو یہ بات انتہاپسند ہندووں کے لیے تشویش کا باعث ہوئی جس کا انہوں نے کھل کر اظہار بھی کیا۔ مثال کے طور پر لالہ لاجپت رائے کے مشہور مضامین کا سلسلہ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ شدھی اور سنگھٹن جیسی مہمات شروع کر کے مسلمانوں کو احساس دلانے کی کوشش کی کہ وہ کمزور ہیں، انہیں دب کر رہنا چاہیے اور خاص طور پر برصغیر کے باہر کی مسلم اُمت کے ساتھ اتحاد کا خیال دل سے نکال دینا چاہیے۔
مسلمانوں کی دلآزاری اور توہینِ رسالت ان تحریکوں کے خاص پہلو تھے لیکن غازی علم الدین شہید جیسے لوگوں نے اِن چیزوں کا اثر زائل کر دیا۔ اتفاق سے عین اس موقع پر بعض ایسے نوجوانوں نے جو مسلمان گھرانوں میں پیدا ہوئے تھے، خود ہی افسانوں کا ایک مجموعہ پیش کیا جس میں اسلامی مذہب اور معاشرت پر بعض فحش حملے کیے گئے تھے۔ احتجاج ہوا تو حکومت نے اس کتاب پر جس کا نام "انگارے" تھا پابندی لگا دی۔
اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ کتاب جان بوجھ کر مسلمانوں کی دلآزاری کے لیے لکھی گئی یا اس کی اشاعت میں مسلم دشمن عناصر کا کوئی ہاتھ تھا۔ البتہ اس کی اشاعت اور پابندی کے بعد ضرور اس کے مصنفین میں سے بعضوں نے دوسرے مسلمان ادیبوں کے ساتھ مل کر "انجمن ترقی پسند مصنفین" کی بنیاد رکھی جس کا افتتاح اپریل ۱۹۳۶ء میں لکھنو میں انڈین نیشنل کانگریس کے پنڈال میں جواہرلال نہرو کی آشیرباد کے ساتھ ہوا۔ خطبہء صدارت منشی پریم چند نے دیا جس میں کہا گیا کہ گوتم بدھ، یسوع مسیح اور محمد رسول اللہ ناکام ہو گئے۔ ہم بھی ناکام ہو جائیں گے اگر ہم نے مذہب کا سہارا لیا۔
تفصیل کے لیے محقق اور دانشور حفیظ ملک کا انگریزی مضمون دیکھا جا سکتا ہے جس میں کافی اہم حوالے موجود ہیں۔
جو نام کبھی نہ کبھی اس تحریک سے وابستہ ہوئے اُن میں  فیض احمد فیض، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، احمد ندیم قاسمی، سید سجاد ظہیر وغیرہ زیادہ مشہور ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بعض لوگ تحریک سے نکالے بھی گئے لیکن وہ ایک علیحدہ بحث ہے۔
ترقی پسند تحریک براہِ راست اُس ادبی تحریک سے متصادم ہوئی جو مسلم قومیت کا تحفظ کر رہی تھی۔ جبکہ کانگریس اور ہندو مہاسبھا اُس مسلم قومیت کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھی۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ ادیب خواہ نیک نیت ہوں یا بدنیت بہرحال وہ نہ ہماری حقیقت سے آگاہ تھے اور نہ ہماری خواہشات سے۔ جب قائداعظم پاکستان کو ہماری منزل کہہ رہے تھے، فیض صاحب فرما رہے تھے کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔ سعادت جسن منٹو کہتے تھے کہ سوسائٹی ننگی ہے لیکن جب سوسائٹی یہی بات اُن کے فن کے بارے میں کہتی تو ناراض ہو جاتے تھے۔
ترقی پسند تحریک کا ایک انتہائی مضر پہلو یہ تھا کہ اس نے "ادبِ عالیہ" کا تصور رائج کیا جس کے مطابق ادب کے بارے میں عوام کو فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ جبکہ ادب کی اسلامی تحریک نے ادب کے پیمانے مقرر کرتے ہوئے ہمیشہ عوام کی رضامندی کا خیال رکھا تھا۔
بعض ادیبوں نے ترقی پسند تحریک کی مخالفت کی لیکن ان میں بھی وہ لوگ زیادہ بارسوخ ہو گئے جو "ادبِ عالیہ" کے بنیادی اصول کو قبول کرتے تھے۔ حلقہء اربابِ ذوق وجود میں آیا۔ محمد حسن عسکری اور سلیم احمد بھی مشہور ہوئے۔ عسکری صاحب نے ۱۹۴۷ء میں پاکستان کی حمایت میں ایک مضمون لکھا تو اُس میں کہا کہ میری سوچ قائداعظم سے زیادہ پیچدار ہے کیونکہ میں نے زیادہ کتابیں پڑھی ہیں۔ بعد میں سر سید اور حالی کو مسلم تہذیب کا دشمن قرار دے کر کوشش کی کہ ان کے اثرات سے ادب کو پاک کیا جائے۔ علامہ اقبال کی فکر کی مخالفت کرنے کو "پاکستانی ثقافت" اور "روایت" جیسے نام دیے۔ اِس قسم کی دانشوری پر کوئی تبصرہ نہ کیا جائے تو بہتر ہے۔
یہ تمام گروہ ہمیشہ مفاد پرستوں کے آلہء کار بنے ہیں۔ خواہ انہیں خود یہ بات معلوم نہ رہی ہو۔ قیامِ پاکستان سے پہلے ان دانشوروں کو ہندو انتہاپسندوں نے مسلم قومیت کی بیخ کنی کے لیے استعمال کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد جو مفاد پرست ٹولے ملک پر قابض رہے، خواہ اپنے لیے خواہ غیرملکی آقاوں کے لیے، اُن کے لیے بھی یہی بہتر تھا کہ عوام کو اِسی ادب میں الجھائے رکھیں جو حقیقت پسندی کا دعویٰ ضرور کرتا ہے لیکن جس کی حقیقت صرف بھیانک خواب دکھانے تک محدود ہے۔ مسائل کا حل اس کے پاس نہیں ہے۔
اگر ہم نے اب بھی اُردو ادب کو صرف اسی ذہنی بٹیربازی تک محدود رکھا تو  نتائج شاید ماضی سے بھی زیادہ ہولناک ثابت ہوں۔ ماضی میں ہم نے اس لیے نقصان اُٹھایا کہ ۱۹۳۵ء کے بعد ہم نے اُردو ادب کی اسلامی تحریک کے وجود ہی سے انکار کر دیا۔ وہ تمام نئے ادیب جنہوں نے ۱۹۳۵ء کے بعد اِس تحریک میں شمولیت اختیار کی، اُنہیں ادیب ہی تسلیم نہیں کیا گیا۔ حالانکہ یہی ادیب عوام اور خواص میں مقبول تھے۔ یہی ہماری خواہشات کی صحیح ترجمانی کر رہے تھے۔ صرف انہوں نے ہی مسائل کے حل فراہم کیے تھے۔ لیکن دنیا سے یہی کہتے ہوئے رخصت ہو گئے کہ جس کو نہ تم سمجھ سکے میں ایسا اِک سوال ہوں۔
اب اگر ہم نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک طاقتور ذہنی محاذ بنانا ہو گا جس کا مقصد یہ ہو کہ اُن تمام ادیبوں کے کام کو سامنے لائیں جنہوں نے ۱۹۳۵ء کے بعد اُردو ادب کی اسلامی تحریک کے تسلسل کو جاری رکھا لیکن جن کے کام پر ہم نے کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا۔
 کیا ہم اِس طرف توجہ دے سکتے ہیں؟

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔