بدھ، 23 ستمبر، 2015

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن کے خاندان کے مزارات

عیدالاضحیٰ کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے۔ آج سے ایک سو برس پہلے مسلمانوں میں حج کے ساتھ ساتھ "مقاماتِ مقدسہ" کی زیارت کا سفر بھی کافی عام تھا۔ ان مقامات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور بعض دوسرے پیغمبروں کے مزارات بھی شامل ہوتے تھے۔ اب وقت بدل چکا ہے۔ پاکستان میں نوجوانوں کو عام طور پر یہ بھی معلوم نہیں کہ ان پیغمبروں کے مزار کہاں واقع ہیں۔
اس لحاظ سے شاید یہ معلومات عام دلچسپی کا باعث ہوں جو یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔ ویسے اس موضوع پر اِنٹرنیٹ پر بہت کچھ موجود ہے، اس لیے اِسے صرف ایک تعارف سمجھیے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں یہودیوں میں روایت ہے کہ اُنہیں اُن کی پہلی بیوی سارہ کے ساتھ ایک زیرِ زمین غار میں سپردِ خاک کیا گیا۔ قریب ہی  اُن کے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام اپنی زوجہ کے ساتھ اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام بھی اپنی زوجہ کے ساتھ سپردِ خاک ہوئے۔
یہودیوں کی تاریخ کے مطابق پہلی صدی قبل از مسیح میں رومنوں کے زیرِ سایہ حکومت کرنے والے یہودی بادشاہ ہیروڈ نے اس غار کے اوپر شاندار عمارت بنا دی۔ یہ عمارت ہبرون شہر میں موجود ہے جسے عرب "الخلیل" کہتے ہیں۔ یہ  فلسطین میں واقع ہے لیکن ۱۹۶۷ء سے اس کا زیادہ تر حصہ اسرائیل کے کنٹرول میں ہے۔
تاریخی نقطہء نگاہ سے یہ بات ثبوت کی محتاج ہے  لیکن صدیوں سے یہودی، عیسائی اور مسلمان یہی تسلیم کرتے چلے آئے ہیں کہ مدفن اِسی عمارت میں ہیں۔ ان تینوں مذاہب کے ماننے والے مدتوں سے یہیں آ کر اپنے اپنے عقیدے کے مطابق ان برگزیدہ ہستیوں کے لیے دعا کرتے آئے ہیں۔
مسلمان اِس عمارت کو مسجدِ ابراہیمی کہتے ہیں کیونکہ صدیوں پہلے جب یہاں مسلمانوں کی حکومت قائم ہوئی تو یہ عمارت مسجد کے طور پر اِستعمال ہونے لگی۔ یہاں آپ اِس کی تصویر دیکھ سکتے ہیں۔

مسجدِ ابراہیمی

آج کل اِس عمارت کے ایک حصے میں مسجد ہے۔ دوسرے حصے میں یہودیوں کی عبادت گاہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور بی بی سارہ کے مزار یہودی عبادت گاہ والے حصے میں ہیں۔ یہاں آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مزار کا دروازہ دیکھ سکتے ہیں۔

حضرت ابراہیم کے مزار کا دروازہ

جیسا کہ تصویر میں ظاہر ہو رہا ہے، یہ ایک حجرے کا دروازہ ہے۔ اس کے اندر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قبرِ مبارک کا تعویذ ہے لیکن اصل مدفن  بہت نیچے اُس غار میں ہے جس کا تذکرہ میں نے شروع میں کیا۔ اُس کے بارے میں مزید کچھ عرض کروں گا لیکن پہلے آپ مزار کا تعویذ دیکھ لیجیے۔

حضرت ابراہیم کے مزار کا تعویذ

حضرت اسحاق علیہ السلام اور اُن کی اہلیہ کے مزار وں کے لیے ہم  مسجد والے حصے میں آئیں گے۔ یہاں منبر کے سامنے آپ حضرت اسحاق علیہ السلام کا مزار دیکھ سکتے ہیں۔ 

حضرت اسحاق علیہ السلام کا مزار

حضرت اسحاق علیہ السلام اور اُن کی اہلیہ کے مزار آمنے سامنے ہیں۔ نیچے والی تصویر میں دونوں مزار دیکھے جا سکتے ہیں۔ 

حضرت اسحاق علیہ السلام اور اُن کی اہلیہ کے مزار

حضرت اسحاق علیہ کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام اور اُن کی پہلی بیوی کے مزاروں کے لیے واپس یہودی عبات گاہ کی طرف آنا ہو گا۔ یہاں ان دونوں کے مزار ہیں۔ نیچے تصویر میں بائیں طرف حضرت یعقوب  علیہ السلام کے مزار کا جنگلہ ہے۔ دائیں طرف ان کی اہلیہ کے مزار کا جنگلہ دکھائی دے رہا ہے۔ 

حضرت یعقوب علیہ السلام اور اُن کی اہلیہ کے مزار


جیسا کہ میں نے کہا اصل میں یہ مزار زیرِ زمین قبروں پر قائم کی ہوئی نشانیاں ہیں۔ اصل مدفن نیچے ایک غار میں ہیں۔ کہتے ہیں کہ صلیبی جنگوں کے زمانے میں جب یہاں عیسائیوں کا قبضہ ہوا تو اُنہوں نے غار میں جانے کے دو راستے تلاش کر لیے۔ ایک مہم جُو اُس غار میں گیا اور بڑی تفصیل سے اس کے بارے میں تحریر بھی کیا۔ اُسے وہاں کچھ ہڈیاں ملی تھیں جنہیں اُس نےصاف کر کے اور دھو کر بڑے احترام کے ساتھ واپس رکھ دیا تھا۔
سلطان صلاح الدین ایوبی نے یہ شہر فتح کیا تو غار کے دونوں راستے مستقل طور پر بند کر دئیے۔ ان میں سے ایک راستے کا نشان تو مسجد کی دریوں کے  چھُپا رہتا ہے۔ دُوسرے کے نشان پر علامتیں بنائی گئی ہیں۔ یہ آپ نیچے تصویر میں دیکھ سکتے ہیں۔

"Abraham cave" by User:Ericstoltz - English Wikipedia

عیدُ الاضحیٰ کا تعلق حضرت اسماعیل کے ساتھ بھی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دوسری بیوی بی بی ہاجرہ کے فرزند تھے۔ ان کے بارے میں عربوں میں اسلام سے پہلے کے زمانے ہی سے یہ مشہور تھا کہ بی بی ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام مکہ مکرمہ میں خانہء کعبہ کی دیوار کے سائے میں سپردِ خاک کیے گئے جسے "ہجر اسماعیل" کہتے ہیں۔ اس کے گرد قوس کی شکل کی دیوار بنا دی گئی جسے حطیم کہتے ہیں۔ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے  اس کے باہر سے گزرتے ہیں۔ یہ اس کی تصویر ہے۔ 

حطیم



مکمل تحریر >>

اتوار، 20 ستمبر، 2015

منٹُو: ایک قاری کا ذہنی سفر

عام طور پر  "منٹو" کے نام کا جو تلفظ کیا جاتا ہے، وہ میری اطلاع کے مطابق درست نہیں ہے۔ مجھے ڈاکٹر انور سجاد نے بتایا تھا کہ منٹو نے اُن سے خود کہا کہ صحیح تلفظ "منٹُو" ہے ، "جیسے وَن ٹُو"۔ وضاحت کرتے ہوئے منٹُو نے دوسرے کشمیری ناموں کی مثالیں دیں جیسے نہرو، سپرو۔ مممکن ہے  کہ منٹُو کی بجائے منٹو رائج ہونے کی وجہ یہ رہی  ہو کہ ہندوستان کے ایک سابقہ  وائسرائے کا نام مِنٹو تھا جس کی بہت سی یادگاریں موجود تھیں، جیسے لاہور کا مِنٹو پارک۔
بچپن میں جب میں نے یہ پڑھا کہ ۱۹۴۰ء میں قراردادِ پاکستان لاہور کے مِنٹو پارک میں منظور ہوئی جسے اب علامہ اقبال پارک کہتے ہیں تو پہلے پہل میں یہی سمجھا کہ اُس وقت  پارک کا نام  سعادت حسن  کے نام پر رکھا ہوا تھا۔اس لیے میں نے "سعادت حسن مِنٹو" کہنا شروع کیا جس پر والد صاحب نے ٹوکا۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ  پارک کسی اور  شخصیت کے نام پر تھا اور منٹُو کی زندگی میں سرکار نے اُن کی عزت افزائی کسی اور  طرح کی تھی۔
میرے والد صاحب منٹُو کے مداح تھے۔ لیکن مجھے بچپن سے مطالعے کا شوقین ہونے کے باوجود ایک عرصے تک منٹو کو پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ آٹھویں جماعت میں ایک دفعہ اپنی پسند کی کچھ کتابیں خریدتے ہوئے منٹُو کے افسانوں کے مجموعے "بغیر اجازت" پر نظر پڑی۔ یہ مری کی مال روڈ کا تذکرہ ہے اور میں  ہاسٹل میں مقیم تھا۔ شاید والد صاحب کی یاد ستا رہی تھی جو میں نے اپنی پسند کی کتابوں کے ساتھ منٹُو کا مجموعہ بھی خرید لیا۔
ہاسٹل پہنچا تو مجھ سے دو سال سینئیر لڑکے نے جس سے میری دوستی مطالعے کے یکساں جنون کی وجہ سے تھی، کتاب  دیکھ کر  جھجھک اور  تجسس کے ساتھ کہا، "یہ فحش لکھتا ہے ناں؟" مجھے اپنے والد صاحب کے پسندیدہ مصنف سے اس قسم کی توقع نہیں ہو سکتی تھی۔ میں نے تردید کی لیکن میرے سینئیر  کی اُمیدوں پر پانی نہیں پھرا۔ وہ کتاب مجھ سے لے گیا اور پھر ہفتوں تک وہ مجھ تک واپس نہیں پہنچی بلکہ اُس کے دوستوں  میں گردش کرتی رہی۔ وہ  میری دلیری  پر عش عش بھی کر رہے تھے کہ وہ دسویں جماعت میں ہوتے ہوئے بھی جس مصنف کی کتاب ہاسٹل میں لانے کی جرات نہیں کر سکتے کہ کہیں اُستاد کی نظر نہ پڑ جائے، میں ایک جونئیر طالب علم وہ کتاب سرِعام لے آیا  تھا۔
بہرحال اُس ایک مجموعے سے قطعِ نظر منٹُو کو سنجیدگی کے ساتھ پڑھنے کی سعادت مجھے اُس وقت نہیں بلکہ کالج کے زمانے میں حاصل ہوئی۔مجھے  زبان تو کافی پسند آئی لیکن میں اُن کے تخیل سے بالکل متاثر نہیں ہوا۔ قائداعظم کی سوانح "سمندر کی آواز سنو" لکھتے ہوئے میں نے منٹُو کے خاکے "میرا صاحب" سے کچھ مدد بھی لی۔
منٹُو سے متاثر ہونے کا مرحلہ میری زندگی میں کافی دیر سے آیا۔
وہ بیسویں صدی کے آخر آخر کے سال تھے۔ ہمارے معاشرے میں جدت پسندی کا شوق حد سے گزر چکا تھا اور ہم ایسی ہر چیز کو مقدس قرار دینا چاہتے تھے جسے قدامت پسندی کی وجہ سے پہلے کبھی برا سمجھا گیا ہو۔ ۱۹۹۷ء میں پاکستان کی گولڈن جوبلی منائی جا رہی تھی ۔ میں ان دنوں ڈان اخبار کے ہفتہ وار "ریویو" میں لکھا کرتا تھا۔ میڈم نورجہاں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی تجویز سامنے آئی تو میں نے کہا کہ چونکہ منٹُواِس موضوع پر لکھ گئے ہیں لہٰذا اُنہی کی تحریر کو پیش کیا جائے البتہ اُس میں اضافے کردیے جائیں جو اِتنے برس گزرنے کے بعد ضروری ہو گئے ہیں۔ اس کے لیے منٹُو کے خاکے "نورِ جہاں سرورِ جہاں" کے بعض حصوں کا ترجمہ کیا اور اُسی کے برابر اپنی طرف سے اضافہ جسے علیحدہ ظاہر کیا گیا تھا۔
کچھ عرصہ بعد دبئی سے ایک خوبصورت اور مہنگا انگریزی رسالہ شائع ہوا جس کا نام اُردو میں تھا ، "زمین"۔ ڈان کےاسٹا ف سے میرے دوست یداللہ اجتہادی اس رسالے کے شعبہء ادارت میں شامل ہو چکے تھے۔ اُنہیں میرا نورجہاں والا آرٹیکل یاد تھا اس لیے انہوں نے پوچھا کہ کیا میں منٹُو پر سوانحی مضمون لکھ سکتا ہوں تو میں نے حامی بھر لی۔ منٹُو کی اکثر تحریریں میں پہلے ہی پڑھ چکا تھا۔ باقی سب اس مضمون کے لیے پڑھیں۔
میری عادت تھی کہ سوانحی خاکہ چاہے مختصر ہی کیوں نہ ہو قریب قریب سارے بنیادی ماخذ دیکھنے کے بعد ہی لکھتا تھا۔ صرف چند ہی خاکے ہوں گے جو میں نے تھوڑی معلومات کی بنیاد پر لکھے ہوں۔ منٹُو والا مضمون بیحد سراہا گیا۔ انٹرنیٹ پر کئی ویب سائیٹس نے اُسے نقل کیا۔ کولمبیا یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ وِکی پیڈیا پر منٹُو کے صفحے پر حوالہ جات میں شامل ہے۔ اگلی قسط میں اُس کا اردو ترجمہ پیش کروں گا چند تصریحات کے ساتھ۔
اُسی زمانے میں خواتین کے حقوق کی دعویدار بعض ہستیوں کی طرف سے یہ اعتراض مشہور ہو رہا تھا کہ منٹُو نے اپنے افسانوں میں خواتین کے ساتھ انصاف نہیں کیا بلکہ اُن کا استحصال کیا۔ میں خود بھی فیمنسٹ کہلاتا تھا لیکن منٹُو کے بارے میں یہ بات جس طرح پیش کی جا رہی تھی اُس پر میں نے ڈان میں اپنے دوستوں سے کہا کہ ضیاء الحق صاحب بعض لوگوں کا بھلا کر گئے ہیں جو صرف اِس لیے روشن خیال تسلیم کر لیے جاتے ہیں کہ جنرل ضیاء کی برائی کرتے ہیں۔  ورنہ روشن خیالی کسے کہتے ہیں یہ ان بیچاروں کو معلوم نہیں ہے۔ بہرحال اس طرح منٹُو کی کہانیوں میں خواتین کی عکاسی کے موضوع پر بھی ایک مضمون انگریزی میں تحریر ہو گیا جو ڈان میں شائع ہوا۔
اسی زمانے میں کراچی کے بعض بہت ہی سینئیر فنکاروں نے منٹُو پر ڈرامہ اسٹیج کرنے کا ارادہ کیا۔ اُس وقت تک عام طور پر منٹُو کے صرف افسانے ہی اسٹیج کیے جاتے تھے لیکن میں نے یہ تجویز پیش کی کہ منٹو کی زندگی کے بارے میں ڈرامہ لکھا جائے جس میں اُن کے افسانوں کے اقتباسات بھی شامل ہوں لیکن وہ اُن کی زندگی سے جُڑے ہوئے ہوں۔ وہ ڈرامہ میں نے لکھا جو کسی وجہ سے اُس وقت اسٹیج نہیں ہو سکا لیکن کافی بعد میں اُسے نیشنل اکادمی آف پرفارمنگ آرٹس یعنی "ناپا" کے زیرِ اہتمام اسٹیج کیا گیا۔ ایک دفعہ اخبار میں پڑھا تھا کہ بھارت میں بھی کسی فیسٹیول میں اسٹیج کیا جا رہا ہے لیکن وہ خبر کچھ ادھوری تھی اور تصدیق نہیں ہو سکی۔
اِسی ڈرامے کو کتابی صورت میں شائع کروانے کے لیے میں نے منٹُو کے بارے میں اپنے انگریزی مضمون کا اُردو ترجمہ کیا۔ ڈاکٹر انور سجاد نے کمال مہربانی کے ساتھ اسے پڑھ کر مشورہ بھی دیا۔ وہ کتاب تو شائع نہیں ہو سکی لیکن اس طرح ڈاکٹر صاحب کی زبانی منٹُو کے ساتھ اُن کی ملاقاتوں کا کچھ حال سننے کا اتفاق ہوا جب ڈاکٹر صاحب نوجوانی کے زمانے میں منٹُو سے افسانہ نگاری سیکھتے تھے۔
۲۰۰۷ء میں منٹُو کے بارے میں میرا زاویہء نگاہ کچھ تبدیل ہوا۔ علامہ اقبال کے فکری نظام کو مربوط کرنے کےبعد جب میں نے پاکستانی تاریخ کو دیکھا تو مجھے احساس ہوا کہ دراصل ہم نے  اپنی تعلیم  کی وجہ سے  معاشرے کے بارے میں بعض مفروضے قائم کر لیے ہیں لیکن تاریخ اور تجربہ دونوں ان کی نفی کرتے ہیں۔
اب میں یہ سمجھتا ہوں کہ منٹُو کے افسانے ہمیں یہ دکھاتے ہیں کہ ان مفروضوں کی بنیاد پر حقیقت کیسی نظر آتی ہے۔ اس لیے وہ حقیقت کی نہیں بلکہ ایک مفروضے کی عکاسی کرتے ہیں اور وہ مفروضہ میرے خیال میں غلط ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ جس طرح ایک ادیب یہ کہہ سکتا ہے کہ سوسائٹی ننگی ہے، اُسی طرح سوسائٹی کو بھی حق ہے کہ وہ بھی ادیب کے فن کے بارے میں کوئی ایسی ہی رائے پیش کر سکے۔
اگلی پوسٹ میں منٹُو کے بارے میں اپنے انگریزی مضمون کا ترجمہ پیش کروں گا جو مجھے سوانحی خاکے کے طور پر پسند ہے البتہ اس میں دو جملے مجھے اب درست نہیں لگتے۔ اُن پر تبصرہ بھی پیش کروں گا۔
مکمل تحریر >>

چت رنجن داس


عیدالاضحیٰ قریب آ رہی ہے اور ساتھ ہی بھارت سے کچھ خبریں بھی آ رہی ہیں جن کا تعلق گائے کی قربانی سے ہے۔ تازہ ترین یہ ہے کہ وہاں بعض انتہاپسند رہنماوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گائے ذبح کرنے کی سزا موت ہو۔
اس موقع پر شاید یہ بات آپ کو دلچسپ لگے کہ بھارت میں جس رہنما کو "دیش بندھو" یعنی "محبِ وطن" کا لقب دیا جاتا ہے اور جس کے تذکرے آج بھی وہاں کی درسی کتابوں میں ہیں اُس نے کبھی اپنے ہم مذہب ہندووں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کو عید کے موقع پر گائے ذبح کرنے سے منع نہ کریں۔ یہ عظیم بنگالی رہنما چت رنجن داس تھے جنہیں سی آر داس بھی کہا جاتا ہے۔ وہ مسلمانوں کی جداگانہ قومیت کے زبردست حامی تھے اور شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت میں اب صرف اُن کا نام ہی لیا جاتا ہے، نظریات کا تذکرہ نہیں کیا جاتا۔
لیکن تعجب ہے کہ ہم نے پاکستان میں بھی داس کو بھلا دیا ہے۔ میں نے اپنی انگریزی کتاب "حیاتِ اقبال اور ہمارا عہد" میں داس کا تذکرہ کر کے اس غلطی کی تلافی کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے دیکھا ہو گا کہ میرے فیس بک صفحے پر بھی داس کے اقوال آئے دن پیش کیے جاتے ہیں۔
حال ہی شائع ہونے والی میری اُردو کی درسی کتابوں کی سیریز کی ساتویں جماعت کی کتاب میں بھی داس کے بارے میں ایک سبق شامل ہے۔ اس کے اقتباسات پیشِ خدمت ہیں۔
*  
چِت رنجن داس ایک ایسی تاریخی شخصیت ہیں جو نہ صرف ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے رہنما تھے بلکہ وہ پاکستان اور بنگلہ دیش جیسی مسلم ریاستوں کے لیے بھی ایک ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں۔وہ اُن غیرمسلم رہنماوں میں سے تھے جنہوں نے بڑے کھلے دل کے ساتھ اِس بات کی تائید کی کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں۔ اُنہوں نے مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت اس طرح کی کہ اُن کی وفات پر مولانا محمد علی جوہر نے لکھا کہ کوئی شریف مسلمان داس کا احسان کبھی نہیں بھولے گا۔ محمد علی جناح نے (جنہیں اب ہم قائدِاعظم کے نام سے جانتے ہیں)، اِس موقع پر کہا کہ داس نہ صرف ہندووں کے رہنما تھے بلکہ مسلمان بھی اُن سے محبت کرتے تھے۔
*
داس ۵ نومبر ۱۸۷۰ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کا تعلق وِکرم پور سے تھا جو اَب بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے ایک ضلع میں ہے۔ انہوں نے انگلستان سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور ایک کامیاب بیرسٹر بن گئے۔
داس کو شاعری سے بھی خاصی دلچسپی تھی۔ بنگالی زبان میں اُن کی شاعری کے پانچ مجموعے شائع ہوئے جن کے نام ملنچا، مالا، انتریامی، کشورکشوری اور ساگرسنگیت تھے۔ ان میں سے آخری مجموعے کے عنوان کا مطلب تھا ”سمندر کے گیت“۔ یہ ۹۴ نظموں کا مجموعہ تھا جو داس نے سمندر کی لہروں سے متاثر ہو کر لکھی تھیں۔ یہ مجموعہ۱۹۱۳ء میں شائع ہوا اور داس نے انگریزی میں اس کا ترجمہ کروایا۔
*         
۱۹۲۲ء میں انڈین نیشنل کانگریس کا سالانہ اجلاس گیا (Gaya) کے مقام پر ہوا تو داس کو صدر بنایا گیا۔ انہوں نے اپنے خطبہء صدارت میں ایک نئی جمہوریت کا تصور پیش کیا جو مشہور امریکی مصنفہ میری پارکر فولٹ کی کتاب نئی ریاست (The New State) سے لیا گیا تھا۔
داس نے بڑے واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو اپنی علیحدہ قومیت برقرار رکھنے کا مکمل حق حاصل ہے اور مسلمانوں کے اِس حق کی نفی کر کے ہندوستان ترقی نہیں کر سکتا۔ اُنہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اُن کے حقوق دے کر ہی ہندوستان میں سچا امن قائم ہو سکتا ہے اور سچی آزادی مل سکتی ہے۔ اس کے لیے اُنہوں نے تمام اسلامی دنیا کے اتحاد پر زور دیا اور کہا کہ اسلامی دنیا کو متحد کرنے کے بعد پورے ایشیا کو متحد کرنا چاہیے۔
داس کا خواب یہ تھا کہ دنیا کی تمام قومیں اپنی اپنی جگہ خود کو مضبوط بنائیں مگر آپس میں مقابلہ کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی مدد کر کے پوری انسانیت کو متحد کر دیں۔
جب علامہ اقبال کی نظر سے داس کے یہ خیالات گزرے تو اُنہوں نے اپنے ایک خط میں کسی کو لکھا کہ داس نے ”اُسی روحانی اصول کو سیاسی رنگ میں پیش کیا ہے“ جو خود علامہ اقبال نے اپنی فارسی کتاب "اسرار و رموز" میں پیش کیا تھا۔
*         
کانگریس کے سالانہ اجلاس میں خطبہء  صدارت پیش کرنے کے بعد داس نے کانگریس کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا کیونکہ کانگریس اُن کے خیالات کی تائید نہیں کر رہی تھی۔ وہ کانگریس سے الگ تو نہیں ہوئے مگر اپنی علیحدہ سیاسی جماعت بنائی جس کا نام سوراج پارٹی تھا۔ اس جماعت نے ۱۹۲۳ء کے انتخابات میں بنگال میں زبردست کامیابی حاصل کی۔
ہمارے قائداعظم بھی، جو اُس وقت صرف محمد علی جناح تھے، اِن انتخابات میں آزاد اُمیدوار کے طور پر کامیاب ہوئے تھے۔ اُنہوں نے آزاد اُمیدواروں کے ساتھ داس کا ساتھ دیا جس کی وجہ سے داس کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہو گئی۔ اس کے بعد داس نے ایک ایسا انوکھا قدم اُٹھایا جس نے سب کو حیران کر دیا۔
*
بنگال کے صوبے میں پہلے ہندووں  کی اکثریت ہوا کرتی تھی لیکن ۱۹۲۱ء کی مردم شماری سے ظاہر ہوا تھا کہ اب یہاں مسلمانوں کی تعداد ہندووں سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود بنگال کے مسلمانوں کی حالت بہت خراب تھی۔ وہ تعلیم میں ہندووں سے پیچھے تھے۔ سرکاری ملازمتوں میں اُن کی تعداد بہت کم تھی۔ غربت عام تھی۔ اس کے علاوہ ہندووں  اور مسلمانوں کے درمیان فسادات بھی ہو جاتے تھے جن کی وجہ عام طور پر یہ ہوتی تھی کہ کبھی نماز کے وقت ہندو مساجد کے سامنے سے اپنا مذہبی جلوس نکال بیٹھتے تھے جس میں باجے بجائے جا رہے ہوتے تھے اور کبھی عیدُالاضحیٰ کے موقعے پر مسلمان گائے ذبح کرتے تھے تو ہندووں  کے جذبات کو ٹھیس لگتی تھی جن کے نزدیک گائے مقدس تھی۔
داس نے ان تمام مسائل سے نمٹنے کے لیے بنگال کے مسلمان رہنماوں  کے ساتھ معاہدہ کیا جسے میثاقِ بنگال (Bengal Pact) کا نام دیا گیا۔ اس میں مسلمانوں کے تمام جائز مطالبات تسلیم کر لیے گئے۔ طے پایا کہ ہندو نماز کے اوقات میں مساجد کے سامنے سے جلوس نہیں نکالیں گے۔ اسی طرح مسلمان گائے ذبح کرنے سے گریز کریں گے لیکن مذہبی مواقع پر ذبح کر سکتے ہیں بشرطیکہ جان بوجھ کر ہندووں کے سامنے ذبح نہ کریں۔ اس کے علاوہ تمام تعلیم گاہوں میں اور سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کو اُن کی آبادی کے تناسب سے حصہ دیا جائے گا۔ جب تک تعلیم گاہوں اور ملازمتوں میں مسلمانوں کا حصہ اُن کی آبادی کے تناسب کے مطابق نہ ہو جائے، اُس وقت تک نئے داخلوں اور نئی ملازمتوں میں سے ساٹھ یا اسّی فیصد حصہ مسلمانوں کو ملے گا۔
انتہاپسند ہندووں  کی طرف سے اس معاہدے کی زبردست مخالفت ہوئی۔ داس کے اپنے مذہب سے تعلق رکھنے والوں نے الزام لگایا کہ داس مسلمانوں کے ساتھ مل کر ہندووں  کے خلاف ہو گئے ہیں۔ کانگریس نے بھی میثاقِ بنگال کی منظوری دینے سے انکار کر دیا۔ پھر بھی داس نے جون ۱۹۲۴ء میں صوبائی کانگریس کا ایک خاص اجلاس بلوا کر میثاق منظور کروا لیا۔
 *
میثاقِ بنگال کی منظوری کے چند ماہ بعد ہی داس بیمار پڑ گئے۔ پھر اسی بیماری میں ۱۶ جون۱۹۲۵ء کو اُن کا انتقال ہو گیا۔ ملک بھر میں سوگ منایا گیا۔ داس نے اپنی زندگی ہی میں اپنی محل نما کوٹھی قوم کے نام وقف کر دی تھی تاکہ اُسے عورتوں کی بہتری کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ آج وہاں کلکتہ کا ایک بہت بڑا ہسپتال ہے۔
میثاقِ بنگال پر عمل نہ ہو سکا۔ داس کی وفات کے بعد ہی کانگریس اور ہندووں کی مخالفت کی وجہ سے اِسے ختم کر دیا گیا۔ البتہ داس کے جو شاگرد ہمیشہ داس کے خوابوں کی تکمیل میں سرگرم رہے اُن میں سے دو بیحد مشہور ہیں۔ ایک سبھاش چندربوس تھے، جنہوں نے بعد میں انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے لیے آزاد ہند فوج بنائی۔دوسرے حسین شہید سہروردی تھے جنہوں نے آگے چل کر قائداعظم کے ساتھ قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں زبردست حصہ لیا اور بعد میں پاکستان کے وزیراعظم بھی ہوئے۔
مکمل تحریر >>

جمعرات، 17 ستمبر، 2015

بنگالی اور اُردو

چند برس پہلے ایک بنگلہ دیشی سے ملاقات ہوئی جس نے متحدہ پاکستان کے زمانے میں آنکھ کھولی تھی لیکن اُسے اپنی بنگالی ثقافت اور زبان پر ہمیشہ ناز رہا تھا۔ اُس نے کہا کہ اُردو کے سرکاری زبان بننے کے بعد بنگالیوں کے ساتھ بڑی ناانصافی ہوئی۔ میں تیار ہو گیا کہ ابھی قائداعظم کی برائی ہونے والی ہے لیکن بنگلہ دیشی نے ذرا دم لے کر کہا، "آپ خود ہی سوچیں۔ یہ ہمارے ساتھ کتنی بڑی ناانصافی تھی کہ ہمیں اُردو سیکھنے کے مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔ میں نے اپنے شوق سے سیکھی کیونکہ میرا بچپن مغربی پاکستان میں گزرا۔ لیکن اُن بنگالیوں کا کیا قصور جنہیں مشرقی پاکستان میں یہ موقع ہی نہیں ملا۔ اُن کا بھی حق تھا کہ اردو سیکھ سکتے۔ آخر یہ ہماری قومی زبان تھی۔"
مجھے تسلیم ہے کہ یہ صرف ایک بنگالی کے محسوسات ہیں۔ ان کی بنیاد پر دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ سابقہ مشرقی پاکستان کے تمام لوگ اسی طرح سوچتے تھے۔ لیکن جو لوگ اس طرح سوچتے تھے، ہمیں وہ بھی نظر نہیں آئے جس کی وجہ یہ تھی کہ ہم نے ادب، ثقافت اور زبان کے بارے میں ایسے تصورات اپنا لیے تھے جو حقیقتکے خلاف تھے۔
حقیقت یہ تھی کہ قیامِ پاکستان کے بعد بھی "اردو ادب کی اسلامی تحریک" نے جو کچھ پیش کیا اُسے مشرقی پاکستان میں اُن لوگوں میں بھی پذیرائی ملی جنہیں اُردو نہیں آتی تھی۔ میں اس تحریک کے چھ اہم شعبوں کے نامگنوا چکا ہوں، اُن سب کے بارے میں یہی بات کہی جا سکتی ہے۔
یہاں تک کہا جاتا ہے کہ شیخ مجیب الرحمٰن کی والدہ ابن صفی کے ناول کسی سے پڑھوا کر سنتی تھیں اور جب مشرقی پاکستان میں اُردو کے خلاف مہم چلی تب بھی اُنہوں نے یہ شوق ترک نہیں کیا۔ ابن صفی نے خود بھی ایسے بنگالیوں کا تذکرہ کیا ہے جو کہتے تھے کہ انہوں نے صرف ابن صفی کے ناولوں کی وجہ سے اُردو سیکھی تھی۔اِسی طرح وہ فلمیں جنہیں میں اس تحریک سے منسوب کرتا ہوں، مشرقی پاکستان میں کچھ کم مقبول نہیں تھیں۔
دوسری طرف بنگالیوں نے قیامِ پاکستان کے بعد جو کچھ اُردو کے دامن میں ڈالا وہ ہمیں آج تک دکھائی نہیں دے رہا، صرف اس لیے کہ وہ اُس تحریک کا حصہ تھا جس کے وجود سے ہم انکار کیے بیٹھے ہیں۔ صرف دو قومی نغمے اس طرح ہماری پہچان بنے ہیں کہ قومی ترانے کے تقریباً برابر پہنچے ہوئے ہیں، سوہنی دھرتی اور جیوے پاکستان۔ دونوں ہی بنگالی گلوکارہ شہناز بیگم کے گائے ہوئے ہیں۔
اپنی مقبولِ عام فلموں پر نگاہ دوڑائیے۔ کتنے ہی بنگالی فنکاروں کے نام فوراً ذہن میں آ جاتے ہیں۔ رحمٰن، شبنم، رونا لیلیٰ، مصلح الدین، شبانہ، فردوسی بیگم اور بیشمار دوسرے۔ مشرقی پاکستان میں بنی ہوئی فلم نواب سراج الدولہ شاید پاکستان کی سب سے عظیم تاریخی فلم تھی۔  
جب ۱۹۶۶ء میں شیخ مجیب الرحمٰن نے چھ نکات پیش کیے جو مشرقی پاکستان کے احساسِ محرومی کا اظہار تھے، اُسی برس ڈھاکہ میں بننے والی فلم "بھیا" میں اسی احساسِ محرومی کا اظہار کسی اور طرح کیا گیا۔ ہیرو سرمایہ دار کا لڑکا تھا اور نام سلیم تھا۔ اُسے اپنے باپ کے کارخانے میں کام کرنے والے مزدور کی بہن سے محبت ہو جاتی ہے جو بڑی مشکلوں سے تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ یوں انارکلی کی کہانی نئے زمانے کے تناظر میں پیش کی گئی۔ اس فلم میں ایک علامتی رنگ خودبخود پیدا ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ سلیم کا کردار مغربی پاکستان کے اداکار یعنی وحیدمراد نے ادا کیا اور غریب لڑکی کا کردار ایک بنگالی اداکارہ نے۔
میں نہیں جانتا کہ فلم بنانے والوں نے کیا سوچا تھا لیکن جو کچھ اُنہوں نے ہم تک پہنچایا اُس کا اَندازہ اِس اقتباس سے لگائیے کہ جب  ہیرو کا باپ ہیروئین کو ٹھکرا دیتا ہے تو ہیروئین کے ذہن میں قائداعظم کے ۱۹۴۳ء کے مسلم لیگ کے خطبہء صدارت کے فقرے گونجنے لگتے ہیں کہ اگر پاکستان میں غریب، غریب ہی رہ جائیں تو "مجھے ایسا پاکستان نہیں چاہئیے۔"
یہ بات ایک فلیش بیک کی صورت میں یاد کرنے کے بعد ہیروئین اپنے جھونپڑے میں آویزاں قائداعظم کی تصویر کو مخاطب کر کے روتے ہوئے کہتی ہے: " تمہارا پیغام ہم نہیں بھولے، قائد۔ بھول چکے وہ دھن والے جو ملک کو اپنی جائیداد سمجھتے ہیں۔ جو اپنی خوشی کے لیے ہمارا سکھ چین کچل دیتے ہیں۔ ہمیں برباد کر دیتے ہیں، میرے محسن! اُن کے خلاف میری یہ فریاد ہے۔" پھر وہ خدا سے دعا کرتی ہے، "مجھے ہمت دے۔ طاقت دے تاکہ میں بتا سکوں کہ ہماری بھی عزت ہے۔ قدر و قیمت ہے۔ ہمارا قائد سچا ہے۔اُس کا کہا سچا ہے۔"
اب غور کیجیے کہ ان فنکاروں نے جو کچھ پیش کیا اگر وہ "اردو ادب کی اسلامی تحریک" کا حصہ تھا تو پھر بنگالی اُردو ادب کے فروغ میں کسی سے پیچھے نہیں تھے۔ ہمیں یہ بات اس لیے نظر نہیں آئی کہ ہم نے ادب سے اس تحریک کو خارج کر دیا تھا۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس تحریک کی ایک نمایاں خصوصیت یہ معلوم ہوتی ہے کہ علاقائی زبانوں کے ساتھ اس کا تعلق دو طرفہ ہے۔ آج اگر ہم علاقائی زبانوں کا اُردو کے ساتھ ایک دفعہ پھر تصادم نہیں چاہتے تو ہمیں اِس تحریک کے وجود کو قبول کرنا ہوگا اور اِسے اس کا جائز مقام دینا ہو گا۔
ورنہ ماضی میں ہماری اِسی غلطی سے فائدہ اُٹھا کر جس مہربان پڑوسی نے پاکستان کے دو ٹکڑے کیے تھے، آج اُسی کے صحن سے چار ٹکڑوں کی خواہش ظاہر کی جا رہی ہے۔ خدا رحم کرے۔لیکن ہمیں بھی تو کچھ کرنا چاہیے؟ 
مکمل تحریر >>

منگل، 15 ستمبر، 2015

اسلامی تحریکِ ادب میں غیرمسلموں کی نمایندگی

نام ہی کافی ہے؟ جی نہیں۔
"اُردو ادب کی اسلامی تحریک" کا نام سنتے ہی آپ کے ذہن میں کچھ تصوّرات ابھرتے ہوں گے کیونکہ ادب کے بارے میں  آپ کے ذہن میں بعض مفروضے موجود ہیں اور بحمدللہ آپ اسلام کے بارے میں بھی کچھ خیالات پہلے سے رکھتے ہیں۔ گزارش ہے کہ وہ ساری باتیں ایک طرف رکھ کر یہ سمجھ لیجیے کہ "اُردو ادب کی اسلامی تحریک" ایک خاص اصطلاح ہے۔ یہ میں نے اپنی طرف سے نہیں بنائی ہے۔
میں اس اصطلاح میں صرف اس قدر تبدیلی کی تجویز پیش کرتا ہوں کہ اسے اُردو تک محدود نہ کیا جائے کیونکہ اس کا اظہار فارسی، انگریزی  اور بعض علاقائی زبانوں میں بھی ہوا۔ بہرحال چونکہ یہ تحریک اُردو سے شروع ہو کر دوسری زبانوں میں پھیلی اور علامہ کے حلقہء ادب نے ۱۹۳۵ء میں اسے "اردو ادب کی اسلامی تحریک" کہا تھا، اس لیے فی الحال میں بھی اس کے لیے تاریخی حوالے کے طور پر یہی اصطلاح استعمال کرتا ہوں تاکہ یہ بات بالکل واضح رہے کہ میں اُس خاص تحریک کی طرف اشارہ کر رہا ہوں جس کا حوالہ اور تفصیلات میں نے اپنی انگریزی تصنیف "حیاتِ اقبال اور ہمارا عہد" میں بیان کی ہیں۔
وہاں بیان کیے ہوئے اصولوں ہی کی بنیاد پر میں علامہ کے بعد کے زمانے کے بعض مصنفین کو اِس تحریک سےمنسوب کرتا ہوں۔  سب سے اہم خصوصیت جو بیان کی گئی تھی وہ یہ کہ اس تحریک نے اسلام کو ایک عالمگیر تحریک سمجھتے ہوئے اُس کی تاریخ اور تہذیب کے ساتھ اپنا تعلق برقرار رکھا ہے۔
اس لیے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اس تحریک کے دامن میں ہمیشہ غیرمسلموں کے لیے بھی بہت کچھ تھا۔ مولانا حالی، اکبر الٰہ آبادی اور علامہ اقبال کی شاعری سے ہندو بھی لطف اٹھاتے تھے۔ یہی نہیں بلکہ علامہ کی اُردو شاعری میں ہمیں رام چندرجی، گوتم بدھ، گرو نانک اور قدیم ہندو شاعر بھرتری ہری کی تعریف میں نظمیں بھی ملتی ہیں۔
ان نظموں کے بارے میں انتہاپسند ہندووں کی طرف سے ایک غلط فہمی ۱۹۲۴ء میں بانگِ درا کی اشاعت کے بعد پھیلائی گئی۔ وہ یہ تھی کہ ایسی نظمیں علامہ نے صرف ابتدائی دور میں لکھیں اور بعد میں جب وہ مسلم قومیت کے علمبردار بن گئے تو یہ انداز ترک کر دیا۔یہ بات جو حقیقت کے خلاف ہے، اتنی مشہور ہوئی کہ آج تک دہرائی جا رہی ہے۔
سچ یہ ہے کہ میں نے یہاں علامہ کی جن نظموں کے حوالے دیے ہیں یہ "مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا" کے بعد کی ہیں۔ علامہ کی فارسی تصنیف جاویدنامہ خطبہء الٰہ آباد میں مسلم ریاست کی تجویز پیش کرنے کے دو برس بعد ۱۹۳۲ء میں شائع ہوئی۔ اُس کے آسمانی سفر میں علامہ کے مرشد مولانا روم سب سے پہلے اُنہیں ہندومت کی مقدس ہستی وِشوامتر کی خدمت میں لے جاتے ہیں۔ اسی کتاب میں گوتم بدھ اور زرتشت کو پیغمبروں میں شمار کیا گیا ہے۔ سنسکرت کے قدیم شاعر بھرتری ہری کو جنت الفردوس میں حوضِ کوثر کے قریب اشعار سناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جنت الفردوس ہی میں دو بزرگوں کی گفتگو میں پنڈت موتی لال نہرو اور اُن کے بیٹے جواہر لال نہرو کی تعریف کروائی گئی ہے حالانکہ سیاست میں علامہ اُس وقت بھی  نہرو کے خلاف ڈٹے ہوئے تھے۔
اس کتاب کا آسان انگریزی خلاصہ رنگین تصویروں والا جس کی تیاری میں میرا بھی کچھ دخل تھا، اقبال اکادمی نے کچھ عرصہ پہلے شائع کیا تھا۔ انٹرنیٹ سے مفت ڈاون لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ 
حفیظ جالندھری بعض بزرگوں کی نظر میں بہت بڑے شاعر نہیں ہیں لیکن مجھے اختلاف ہے جس کی تفصیل میں کسی علیحدہ پوسٹ میں پیش کروں گا۔ اس سے  قطعِ نظر کہ وہ بڑے شاعر ہیں یا نہیں، یہ بات ہمیں ضرور معلوم ہونی چاہیے کہ انہوں نے صرف شاہنامہء اسلام اور پاکستان کا قومی ترانہ ہی نہیں لکھے بلکہ کرشن کی شان میں دو نظمیں بھی لکھی تھیں۔ ایک شاہنامہء اسلام کی پہلی جلد سے پہلے اور دوسری بعد میں۔ انہیں ہمیشہ اس پر فخر رہا کہ ان میں سے ایک نظم کچھ عرصہ بنارس کے مندروں میں بھجن کے طور پر گائی گئی۔ "کچھ عرصہ"کی تفصیل یہ ہے کہ جب  پنڈتوں کو معلوم ہوا کہ یہ کسی مسلمان کی لکھی ہوئی ہے تو پابندی لگا دی۔
میں نے عرض کیا ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد اِس تحریک کے پہلے بڑے مجتہد ابن صفی تھے۔ انہوں نے اس تحریک کا نام تو نہیں لیا لیکن اپنے ناولوں کے "پیشرسوں" میں اور اپنے ایک طویل انٹرویو میں انہوں نے اپنے فن کے جو مقاصد خود بیان کیے ہیں وہ بالکل وہی ہیں جو پہلے سے اس تحریک کے بارے میں بیان کیے جا چکے تھے۔ ویسے بھی اُردو میں جاسوسی کہانی کو فروغ دینے کی کوشش تو خود علامہ اقبال نے ہی شروع کروائی تھی۔ اُن کے شاگرد حکیم احمد شجاع نے "ہوشیار سراغرساں" کے عنوان سے جاسوسی ڈرامہ تحریر کیا تھا۔ اس سے پہلے کی جاسوسی کہانیاں عموماً ترجمہ کی گئی تھیں، اس طرح یہ ڈرامہ اُردو میں شاید پہلی طبعزاد جاسوسی کہانی ہو اگرچہ یہ معاملہ تحقیق طلب ہے۔
ابن صفی کے پہلے جاسوسی ناول کی ابتدا سبیتا دیوی کے فرضی کردار سے ہوتی ہے۔ وہ ایک ہندو بیوہ ہے جس نے اپنی مسلمان سہیلی کی وفات کے بعد اُس کے یتیم بچے کی ماں بن کر پرورش کی لیکن اُسے اُس کے مذہب پر قائم رکھا۔ کہانی کی علامتی حیثیت پر غور کیجیے تو پاکستان بننے کے بعد بھارت کی مسلم قوم ایک طرح سے یتیم بچے کی مانند تھی جس کی سرپرست وہاں کی ہندو اکثریت تھی۔ اس طرح مصنف کی یہ خواہش معلوم ہوتی ہے کہ بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں سے ان کی مذہبی اور قومی شناخت نہ چھینی جائے۔
پاکستانی ہدایتکار پرویز ملک کی فلم "دشمن" میں ماں کا کردار سبیتا دیوی ہی سے ماخوذ معلوم ہوتا ہے۔ وہاں ایک عیسائی عورت ایک یتیم مسلمان بچے کو گود لیتی ہے۔ وہ اُس کی تربیت اسلام کے مطابق کرتی ہے۔ بچہ جب پوچھتا ہے کہ ہم ماں بیٹا ہونے کے باوجود علیحدہ طریقوں سے عبادت کیوں کرتے ہیں تو وہ جواب دیتی ہے، "راستے الگ الگ ہیں، بیٹا ۔ لیکن منزل ایک ہے۔"
پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ  پاکستان کی فلمی صنعت بھی اسی تحریک کی توسیع ہے۔ حکیم احمد شجاع نے اُردو میں صرف جاسوسی کہانی ہی متعارف نہیں کروائی بلکہ وہ پاکستانی فلمی صنعت کے بانیوں میں بھی شمار کیے جاتے ہیں کیونکہ ان کی فلمی کہانیاں اُن کے بیٹے انور کمال پاشا نے بطور ہدایتکار پیش کیں۔ ۱۹۵۰ء کی دہائی میں پیش کی گئی ان فلموں میں مرکزی کردار عموماً ہندو ہیں۔ لیکن اُنہیں اُن کی علیحدہ تہذیب اور مورتیوں کے ساتھ پیش نہیں کیا گیا، کسی "اقلیتی قوموں کے میوزم" کا حصہ نہیں بنایا گیا بلکہ بغیر کسی جواز کے مرکزی کردار بنایا گیا ہے۔ ہمیں ہندوستان میں شاید ہی کوئی مثال ملے کہ کسی بڑی فلم میں بغیر کسی جواز کے مسلمان مرکزی کردار ہوں۔ وہاں مسلمان مرکزی کردار صرف "مسلم سوشل" فلم میں ہوتے تھے جہاں انہیں مرکزی کردار دینے کا جواز پیش کرنے کے لیے قدیم مسلم تہذیبی ماحول میں محدود کر دیا جاتا ہے۔
اب اُن قومی نغموں کی طرف آئیے جنہیں میں نے بیخودی کے نغمے قرار دیا ہے۔ صرف یہی قومی نغمے متذکرہ تحریک کی پیداوار ہیں۔ ان میں سے جو قیامِ پاکستان سے پہلے لکھے گئے اُن میں مسلم قومیت کا اظہار واضح طور پر کیا گیا ہے، مثلاً "ملت کا پاسباں ہے" اور "پاکستان کا مطلب کیا؟"۔ لیکن جو قیامِ پاکستان کے بعد لکھے گئے اُن میں عموماً ایسی اصطلاحات سے گریز کیا گیا ہے جو صرف مسلمانوں سے مخصوص ہیں۔ اسلامی اقدار کو آفاقی تصوّرات کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔اس طرح ایک مسلمان کے دل میں ان نغموں کو سنتے ہوئے مذہبی جذبہ ہی بیدار ہوتا ہے لیکن پاکستان کے غیرمسلم شہری بھی انہیں سنتے ہوئے اجنبیت محسوس نہیں کر سکتے۔ جیسے سوہنی دھرتی، جیوے پاکستان، میں بھی پاکستان ہوں، یہ وطن تمہارا ہے وغیرہ۔
آپ قومی ترانے ہی کو دوبارہ سن لیجیے۔ تمام آفاقی اصطلاحیں ہیں، جیسے "قوتِ اخوتِ عوام" وغیرہ ۔ پھر بھی بحیثیت مسلمان ہم یوں محسوس کرتے ہیں جیسے یہ پاکستان کا نہیں بلکہ اسلام کا ترانہ ہے۔ آخری بند میں لفظ "خدا" اس ترانے کا واحد لفظ ہے جسے مذہبی کہا جا سکتا ہے تو یہ قرآن شریف کی اُس آیت کے مصداق ہے جس میں اہلِ کتاب کو دعوت دی گئی ہے کہ توحید کی بنیاد پر مسلمانوں کے ساتھ متحد ہو جائیں۔ ویسے بھی صرف خدا کے لفظ کی وجہ سے اس ترانے کی آفاقیت پر حرف نہیں آنا چاہیے کیونکہ جس وقت یہ ترانہ لکھا گیا ہے بالکل اُسی زمانے میں امریکہ "اِن گاڈ وِی ٹرسٹ" کو سرکاری طور پر ماٹو بنا رہا تھا یعنی "ہم خدا پر بھروسہ کرتے ہیں۔"
یہ مثالیں تھیں اس بات کی کہ "اردو ادب کی اسلامی تحریک" کا  مطلب یہ نہیں ہے کہ اس میں جو کچھ پیش کیا گیا وہ صرف مسلمانوں کے مطلب کی چیز تھا۔بالکل اُسی طرح جیسے اسلامی فنِ تعمیر میں صرف مسجدیں ہی شمار نہیں کی جاتیں بلکہ الحمرا اور تاج بھی آتے ہیں۔
اب اس اہم بات کی طرف بھی توجہ دیجیے کہ یہاں میں نے جو مثالیں پیش کی ہیں یہ اُن چیزوں کی ہیں جنہیں اس تحریک نے صرف پیش ہی نہیں کیا بلکہ انہیں عام مسلمانوں سے قبولِ عام بھی حاصل کروایا۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس لیے بھی ممکن ہوا کہ ان مصنفوں نے مسلمانوں کا اعتماد حاصل کیا تھا۔ اس کے بارے میں اس قسم کا کوئی شبہ نہیں تھا کہ یہ غیروں کو خوش کرنے کے لیے ایسی چیزیں لکھ رہے ہوں۔ اس لیے مسلمانوں نے یہی محسوس کیا جیسے ان تحریروں میں اکبر کا دینِ الٰہی نہیں بلکہ سلطان صلاح الدین ایوبی کا حوصلہ ایک نیا جنم لے رہا ہے۔
مجھے تجسس ہے کہ کیا بیسویں صدی میں کسی اور تحریک نے بھی دنیا کے تمام بڑے مذاہب کی نمایندگی کی ہے جس طرح اس تحریک میں ہوئی، بالخصوص اگر جاویدنامہ  کو سامنے رکھا جائے اور باقی مثالیں جو میں اُردو زبان سے پیش کی ہیں اُنہیں اسی کا تسلسل سمجھا جائے۔ اٹھارہویں اور اُنیسویں صدی میں تو جرمن ادب اور گوئٹے کی صورت میں اس طرح کی مثالیں موجود ہیں لیکن بیسویں صدی میں شاید ہماری تحریک سے باہر کوئی مثال موجود نہیں کہ کسی زبان کے سب سے بڑے شاعر نے اپنی سب سے اہم تصنیف میں تمام عالمی مذاہب کی نمایندگی اس طرح کی ہو جسے اُن مذاہب کے ماننے والے بھی پسند کریں اور مصنف کے اپنے ہم مذہبوں کو بھی کوئی اعتراض نہ ہو۔
یہ بات اُردو کے لیے اہم ہو سکتی ہے کیونکہ اس طرح اُردو کے دامن میں کچھ ایسی چیزیں آ جاتی ہیں جن کی ضرورت ہمارے علاوہ دوسروں کو بھی ہے اور وہ ضرورت ہم پوری کر سکتے ہیں۔
اُردو کے قومی اور سرکاری زبان ہونے کے معاملے میں بھی یہ بات اہم ہو سکتی ہے۔ پاکستان وہ ریاست ہے جو مسلم قومیت کی بنیاد پر وجود میں آئی لیکن اس نے اپنے قیام کے ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا تھا کہ یہاں غیرمسلموں کو بالکل برابر کی شہریت حاصل ہو گی۔ ایسی ریاست کی قومی یا سرکاری زبان کے لیے شاید بہتر ہو کہ اُس کے دامن میں ایسا ادب پروان چڑھ رہا ہو جس میں دونوں پہلو موجود ہوں، صرف کوئی ایک پہلو نہیں۔
دلچسپ بات ہے کہ انگریزی میں بھی ایسا ادب اتنے بڑے ناموں نے ایسے قبولِ عام کے ساتھ پیش نہیں کیا ہے۔ جبکہ ہماری اکثر علاقائی زبانیں پہلے ہی سے اِس طرف مائل ہیں کیونکہ وہاں جلیل القدر صوفیوں کی شاعری میں یہ خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اگر ہم اُردو سےاس تحریک کو نکال دیتے ہیں تو علاقائی زبانوں کے ساتھ اُردو کا ایک بہت مضبوط تعلق بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بنگال میں بھی کسی نہ کسی حد تک یہ معاملہ ضرور پیش آیا تھا لیکن ہم نے آج تک توجہ نہیں دی ہے۔ اس کی تفصیل آیندہ قسط میں پیش کروں گا۔
اِس قسط میں صرف یہ بات واضح کرنی تھی کہ جس ادبی تحریک کو علامہ اقبال کے زمانے میں "اُردو ادب کی اسلامی تحریک" کا نام دیا گیا تھااُس کی امتیازی خصوصیت کیا تھی اور کیا نہیں تھی۔ اُمید ہے کہ یہ واضح ہو گیا ہو گا۔ نیز یہ بھی کہ اگر ہم اُردو کو سرکاری زبان بنانا چاہتے تو اُس کے لیے اس تحریک کی بازیافت ضروری ہے۔ 
مکمل تحریر >>

اتوار، 13 ستمبر، 2015

ایک تجویز

ایک زمانہ تھا جب  کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پینے کا سادہ پانی کولڈ ڈرنک کی قیمت پر ملے گا۔ آپ کسی اونچے ریسٹورنٹ میں جا کر بیٹھیں گے اور وہاں آپ سے کہا جائے گا کہ  ہمارے یہاں پینے کا صاف پانی نہیں ہے، آپ قیمت دے کر خریدئیے۔ لیکن بہرحال ایسا ہو رہا ہے۔
خدا کرے کہ اُردو کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش نہ آئے۔ جو لوگ  نہیں  چاہتے  کہ عوام سرکاری زبان پر دسترس حاصل کریں،  وہ اُردو کے سرکاری زبان بننے پر اسے  بھی  عوام کی پہنچ سے دور  کر سکتے ہیں جس طرح آج سادہ پانی مہنگے داموں بیچا جا رہا ہے۔
ورنہ  کبھی انگریزی بھی عوام کی دسترس میں تھی۔ برطانوی عہد میں کسی سرکاری یا خیراتی اسکول میں پڑھ کر بھی ایک طالب علم اُمید  کر سکتا تھا کہ اُسے انگریزی آ جائے گی۔ علامہ اقبال اس کی نمایاں مثال ہیں لیکن اُس زمانے میں یہ ایک عام بات تھی۔ ایک غریب مگر ہونہار طالب علم کے لیے انگریزی سیکھنا مشکل ضرور تھا، ناممکن نہیں تھا۔ بعد میں اِسے ناممکن بنا دیا گیا۔
قومی زبان کے سرکاری زبان ہونے کا فائدہ صرف اُس صورت میں ہوتا ہے جب اس پر عبور حاصل کرنے کے لیے انسان اسکول کا محتاج نہ ہو۔ معاشرے میں اسے فصاحت کے ساتھ بولا جا رہا ہو۔ ادب، فلم اور میڈیا کے ذریعے اس میں مہارت خودبخود حاصل ہو جائے۔ فی الحال یہ صورت حال نہیں ہےلیکن اسے پیدا کرنا ہو گا اگر ہم اُردو کے سرکاری زبان بنائے جانے سے سچ مچ کوئی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی ہمیں اپنے ادب، فلم اور میڈیا کو اِس قابل بنانا ہو گا کہ وہ قومی زبان کی ترویج کر سکے تاکہ ایک عام شخص کے لیے بھی وہ ماحول پیدا ہو جس میں اُردو خودبخود اُس کی دسترس میں آ جائے۔ اس پر کوئی پہرے نہ بٹھائے جا سکیں۔
یہ کام ہمیں اداروں اور حکومت پر نہیں چھوڑنا چاہیے بلکہ خود کرنا چاہیے اور یہ صرف اُس ادبی تحریک کی بحالی کے ذریعے ممکن ہے جسے ۱۹۳۵ء کےبعد نظرانداز کر دیا گیا۔ ہمیں چاہیے کہ ۱۹۳۵ء کے بعد جو لوگ اِس تحریک میں شامل ہوئے یا اس کے مقاصد کو فروغ دیا اُن کے کارناموں کو اِسی تحریک کے تسلسل میں دیکھا جائے۔ اس طرح ہم وہ تسلسل دریافت کر سکیں گے جس کے بغیر نہ زبان زندہ رہ سکتی ہے اور نہ قوم۔
حکومت یا ادارے اِس طرف توجہ کرتے تو بہتر تھا لیکن میرے خیال میں یہ کام انفرادی سطح پر بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی اگر یہ بات آپ کے دل کو لگتی ہے تو آپ اپنے طور پر اِس کے لیے مصروف ہو جائیے۔
ہم اِس کام کو چھ شعبوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:
1.     مولانا حالی سے علامہ اقبال کے عہد تک کے ادیب جن میں سر سید، حالی، شبلی نعمانی، اکبر الٰہ آبادی، محمد علی جوہر، علامہ اقبال، آغا حشر کاشمیری، مولانا ظفر علی خاں اور دوسرے بزرگ شامل تھے، اُن کے ناموں سے لوگ عام طور پر واقف ہیں۔ اُس عہد کی ثقافتی تاریخ تفصیل کے ساتھ میری اُردو کتابوں کے اُس سلسلے میں بیان ہوئی ہے جس کی تین کتابیں شائع ہو چکی ہیں: "اقبال: ابتدائی دور"، "اقبال: تشکیلی دور" اور "اقبال: درمیانی دور"۔ چوتھی اسی برس آنے والی ہے۔ یہ کتابیں اقبال اکادمی پاکستان کی طرف سے شائع ہو رہی ہیں جو میری درخواست پر اِنہیں مفت ڈاون لوڈ کے لیے بھی دستیاب کر رہی ہے۔
2.     وہ نئی نسل جو علامہ اقبال کی صحبت میں یا ان کے زیرِ اثر تیار ہوئی اُسے ہمارے نقادوں نے بددیانتی کے ساتھ ادب کی تاریخ سے خارج کر دیا۔ ان میں حفیظ جالندھری، حکیم احمد شجاع، میاں بشیر احمد، ایم اسلم، شکیل بدایونی، اصغر سودائی  اور بہت سے دوسرے نام شامل ہیں۔ ان میں سے بعض کے کارناموں سے ہم آج بھی واقف ہیں مگر پہچان کھو بیٹھے ہیں۔ میاں بشیر احمد کی نظم "ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح" پہلی دفعہ مارچ ۱۹۴۰ء میں لاہور میں مسلم لیگ کے اُسی اجلاس میں پڑھی گئی جہاں قراردادِ پاکستان پیش ہوئی تھی۔ اصغر سودائی نے تحریکِ پاکستان کے دنوں میں وہ نظم لکھی جس کا پہلا شعر ہماری پہچان بن گیا: "پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الااللہ۔" حکیم احمد شجاع وہ شخصیت ہیں جنہوں نے فرقہ واریت سے بلند ہو کر قرآن شریف کی تفسیر کے اصول بھی مرتب کیے اور دوسری طرف وہ کامیاب ترین ڈرامہ نگار اور فلم نگار بھی تھے۔ بہت سے مشہور نغمے جو آج محاورہ بن چکے ہیں، انہی کی لکھی ہوئی فلموں سے ہیں، جیسے "ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں"، "تو لاکھ چلے ری گوری چھم چھم کے"، "تیری الفت میں صنم دل نے بہت درد سہے" وغیرہ۔ شجاع نے علامہ اقبال کے ساتھ مل کر اُردو کی درسی کتابوں کا ایک سلسلہ  مرتب کیا جو بیحد مقبول تھا لیکن جسے ۱۹۵۳ء کے بعد ہم نے کسی وجہ کے بغیر نصاب سے خارج کر دیا۔ اب میں نے اُسے بنیاد بنا کر آج کے تقاضوں کے مطابق "کتابِ اردو" کا سلسلہ مرتب کیا ہے جسے ٹاپ لائن پبلشرز نے شائع کیا ہے۔ اس میں ان تمام ادیبوں کی تحریریں بھی شامل کی ہیں جن کا یہاں تذکرہ ہو رہا ہے۔ اس طرح "کتابِ اردو" کی تین کتابیں صرف طالب علموں کے لیے نہیں ہیں بلکہ بڑے بھی اگر "اُردو ادب کی اسلامی تحریک" سے واقف ہونا چاہیں تو اُن کے لیے یہی ذریعہ فی الحال سب سے بہتر ہے۔
3.     قیامِ پاکستان کے بعد پہلا بڑا نام ابن صفی ہے جنہوں نے الٰہ آباد سے جاسوسی دنیا اور کراچی سے عمران سیریز کا آغاز کیا۔ قریباً ڈھائی سو ناولوں میں انہوں نے اُن  سیاسی، سماجی  اور بین الاقوامی مسائل کا جائزہ پیش کیا جو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا کی تمام ترقی پذیر قوموں کو آیندہ سو برس میں پیش آنے والے تھے۔ اُن کی سیاسی پیش گوئیاں نہ صرف حرف بحرف درست ثابت ہو رہی ہیں بلکہ اُن کے تجویز کردہ حل ابھی تک قابلِ عمل بھی ہیں۔ ابن صفی نے نہ صرف اردو ادب کی اسلامی تحریک کا تسلسل برقرار رکھابلکہ ادب میں وہ اجتہاد بھی کیا جس کی ہمیں آزادی کے بعد ضرورت تھی۔ میں نے یہ بات اُن کی تحریروں کے اقتباسات اور تجزیوں کے ذریعے پوری وضاحت کے ساتھ تین کتابوں میں پیش کی ہے جن کے نام "سائیکو مینشن"، "رانا پیلس" اور "دانش منزل" ہیں۔ ان میں سے پہلی دونوں کتابیں فضلی سنز کراچی سے شائع ہو چکی ہیں۔ تیسری کتاب بھی لکھی جا چکی ہے اور شائع ہونے والی ہے۔
4.     ابن صفی کے بعد ہمارے ادب کے دوسرے بڑے مجتہد کا نام وحیدمراد ہے۔ میں نے اپنی انگریزی تصنیف "وحیدمراد اور ہمارا عہد" میں نہ صرف وحیدمراد کی سوانح بیان کی ہے بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ اُن کی فلموں کا ہماری ثقافت کے تسلسل میں کیا کردار ہے۔ لیکن وحیدمراد بھی ایک علامت ہیں اُس فلمی صنعت کی جس کی بنیاد حکیم احمد شجاع نے رکھی تھی۔ اس صنعت نے سیکڑوں ایسی فلمیں پیش کیں جو درحقیقت "اسلامی تحریک" کا تسلسل تھیں۔ بہت سی فلمیں اس زمرے سے باہر بھی ہیں اور یہ عموماً وہ فلمیں ہیں جنہیں عوام نے بری رد کر دیا یا پھر جنہیں صرف ایک مخصوص طبقے نے پسند کیا۔ اسلامی تحریک کی اصل نمایندہ فلمیں وہ تھیں جنہیں قبولِ عام حاصل ہوا جیسے ارمان، مستانہ ماہی اور آئینہ وغیرہ۔ ہمیں ان کے اسکرپٹ کتابی صورت میں شائع کرنے چاہئیں۔ ان کے نغمات کو شعری مجموعوں کی صورت میں سلیقے کے ساتھ پیش کرنا چاہیے۔ تاکہ ان پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکے۔
5.     اسی فلمی صنعت سے وابستہ لوگوں نے ہمیں وہ قومی نغمے دئیے جو علامہ اقبال کے فلسفہء بیخودی کی تشریح ہیں۔ اس زمرے میں تمام قومی نغمے شامل نہیں ہیں بلکہ صرف وہ جو ہمیں یہ دکھاتے ہیں کہ جب ہم اپنی انفرادی خودی کو قوم کی خودی میں گم کر دیتے ہیں تو ہمیں کیا تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ مشہور ترین مثالوں میں شامل ہیں: اپنی جاں نذر کروں، اے وطن کے سجیلے جوانو، اے راہ حق کے شہیدو، سوہنی دھرتی، جیوے پاکستان، ہم مصطفوی ہیں، میں بھی پاکستان ہوں، یہ وطن تمہارا ہے، وطن کی مٹی گواہ رہنا۔ ہم ان تمام نغمات سے واقف ہیں مگر شاعروں کے ناموں سے واقفیت ہے نہ کبھی سنجیدگی کے ساتھ غور کیا ہے۔اس قسم کے نغمات عموماً فلمی شاعروں ہی نے لکھے ہیں، جیسے مسرور انور، صہبا اختر، کلیم عثمانی اور سیف الدین سیف۔ غیرفلمی شاعروں میں سے جمیل الدین عالی اس قسم کے نغموں کے سب سے بڑے شاعر ہیں اور شاید صحیح معنوں میں وہی اس فن کے امام بھی ہیں۔ البتہ ان کے نغموں کا تعلق بھی اس طرح فلمی صنعت سے جا ملتا ہے کہ ان کی دھنیں عام طور پر سہیل رعنا نے بنائیں جو وحیدمراد کی ٹیم سےتعلق رکھتے تھے۔میں نے کتابِ اُردو کے ذریعے کوشش کی ہے کہ تعلیمی اداروں میں ان نغمات پر سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کیا جائے۔ لیکن اِن نغمات کے ایک علیحدہ مجموعے کی ضرورت بھی ہے جس میں نغمات کا تجزیہ اور شاعروں کے مختصر حالاتِ زندگی شامل ہوں۔
6.     مستنصر حسین تارڑ ہمارے ادب کے وہ حیرت انگیز مجتہد ہیں جنہوں نے اُس تمام "ادبِ عالیہ" کو قبول کر لیا جو ہماری شناخت ہم سے چھیننے کے درپے تھا لیکن تارڑ نے اس کے باوجود اپنی شناخت برقرار رکھی۔ نتیجے میں اُن کے یہاں ایک  منفرد کیفیت پیدا ہوئی ہے جسے میں اپنے طور پر یوں سمجھتا ہوں کہ اُن کی تصانیف ہمیں مایوسی کے اُس اندھیرے میں ضرور لے جاتی ہیں جو "ادبِ عالیہ" کی دین ہے لیکن وہاں سے نکلنے کا راستہ بھی دکھا دیتی ہیں۔ وہ راستہ ہمیشہ روح کے اندر ہوتا ہے نہ کہ باہر۔ اس طرح تارڑ صاحب کے ذریعے کافرانہ ادب "مشرف بہ اسلام" نہیں تو کم سے کم "مشرف بہ پاکستان" ضرور ہو جاتا ہے۔ وجہ شاید یہ ہو کہ تارڑ صاحب نے صرف ادبِ عالیہ سے اثر قبول نہیں کیا تھا بلکہ وہ شروع ہی ابن صفی کے بھی زبردست مداح رہے تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ جب ہم اسلامی تحریک کے پہلے پانچ شعبوں کا احاطہ کر لیں گے تو نتیجے میں تارڑ صاحب کے تخلیقی وجدان کی ایک نئی جہت بھی سامنے آئے گی۔
مکمل تحریر >>

جمعہ، 11 ستمبر، 2015

فرض شناسی

یہ میری کتاب "سمندر کی آواز سنو" کا ایک اقتباس ہے۔ درسی کتابوں کے سلسلے "کتابِ اُردو" کی چھٹی جماعت کی کتاب میں ایک سبق کے طور پر بھی شامل ہے۔ "سمندر کی آواز سنو" ۱۹۹۳ء میں دیا پبلی کیشنز اسلام آباد نے شائع کی تھی۔ "کتابِ اُردو" حال ہی میں ٹاپ لائن پبلشرز کراچی نے شائع کی ہے۔

رات کے سائے اُس خوبصورت عمارت پر چھائے ہوئے تھے جو ایک پرفضا پہاڑی مقام پر واقع تھی۔ اس کے تمام کمروں کی روشنیاں بجھی ہوئی تھیں حتیٰ کہ اُس کمرے کی روشنی بھی جہاں قائداعظم اُس وقت موجود تھے۔
وہ آج بے چین تھے مگر اب اُن کے جسم میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ کمرے میں چہل قدمی کر کے بے چےنی کے لمحے گزار سکیں۔ ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ اُن کے پھیپھڑے بدترین ٹی بی کا شکار ہو کر ختم ہو چکے ہیں۔ اُنہوں نے قائداعظم سے یہ بات چھپانی چاہی تھی کہ اب اُن کی زندگی کے چند روز باقی ہیں مگر قائداعظم سمجھ چکے تھے۔
اُن کا نیم جان جسم بستر پر پڑا تھا مگر اُن کا ذہن اب بھی اُتنا ہی طاقتور تھا۔ وہ اُن مسائل کے متعلق سوچ رہے تھے جو اُن کی تخلیق کردہ مملکت اور اُن کی قوم کے لوگوں کو گھیرے ہوئے تھے۔ ابھی تک آئین نہیں بنا تھا۔ معاشرے میں پچھلے دَور کی برائیاں ابھی باقی تھیں۔ رشوت، سفارش، افسر پرستی، بدعنوانی، نااِنصافی، اِن سب چیزوں کا خاتمہ ہونا باقی تھا۔ کشمیر ابھی تک دشمنوں کے پنجے میں تھا۔ اِن مسائل کو حل کرنے والے کہاں سے آئیں گے؟ ہوس پرست سیاستداں جن کے چہرے آہستہ آہستہ بے نقاب ہو رہے تھے اِس ملک کے مسائل کیسے حل کریں گے؟ مہاجرین پوری طرح آباد نہیں ہوئے تھے۔ غریب آج بھی غریب تھے۔ امیر، امیرتر ہوتے جا رہے تھے مگر سماجی انصاف کا وہ خواب جو قائداعظم نے دیکھا تھا اُس کی تعبیر بہت دُور تھی۔
 کاش اُن کے جسم میں طاقت ہوتی کہ وہ اُن کے ذہن کا ساتھ دے سکے جو آج بھی پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلا سکتا تھا۔
اگلی صبح لیڈی کمپاونڈر نے اُن کا ٹمپریچر لیا تو اُنہوں نے پوچھا، ”میرا ٹمپریچر کیا ہے؟“
”جناب! یہ بات میں صرف ڈاکٹر صاحب کو بتا سکتی ہوں،“ لیڈی کمپاونڈر نے بڑے مضبوط لہجے میں کہا۔
”لیکن مجھے اپنا ٹمپریچر معلوم ہونا چاہیے۔“
”مجھے افسوس ہے جناب، میں آپ کو نہیں بتا سکتی،“ لیڈی کمپاونڈر یہ کہہ کر کمرے سے نکل گئی۔
قائدِاعظم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ اُنہوں نے فاطمہ سے کہا جو قریب ہی کھڑی تھیں، ”مجھے ایسے لوگ پسند ہیں جو اپنی بات پر ڈٹے رہیں اور کسی کے دَباو میں نہ آ سکیں۔“
کچھ دیر وہ فاطمہ کی طرف دیکھتے رہے۔ پھر مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، ”فاطی! تم ٹھیک کہتی تھیں۔ مجھے بہت پہلے اسپیشلسٹ ڈاکٹروں سے مشورہ کر لینا چاہیے تھا۔“
فاطمہ نے اپنی آنکھوں میں ہلکی سی نمی محسوس کی۔
”لیکن مجھے افسوس نہیں ہے،“ قائداعظم نے اُن کے چہرے سے نظریں ہٹا کر خلا میں دیکھتے ہوئے کہا۔ اُن کے چہرے پر ماضی کی ساری عظمت عود کر آئی۔ ”میں نے ہمیشہ اپنی مرضی کے مطابق عمل کیا۔ زندگی بھر میرا یہی اصول رہا ہے۔“
مکمل تحریر >>

جمعرات، 10 ستمبر، 2015

ثقافت کے قاتل

یہ کام صرف پاکستان کے ادیب اور دانشور ہی کر سکتے تھے کہ اُس بنگالی کو اُردو سے نفرت کروا دیتے جس کے دادا نے تب کلکتہ میں اُردو کی کتابیں پڑھنا شروع کی تھیں جب دہلی میں میر تقی میر اُردو نثر لکھنے پر تیار نہیں تھے۔ اُردو کی گرامر بھی کلکتہ ہی میں مرتب ہوئی تھی۔ قائداعظم نے بنگالی مسلمانوں کی اکثریت کے مطالبے پر ہی یہ اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اُردو ہو گی۔
الحمدللہ کہ ہم نے اُسی بنگال میں ایسی فضا پیدا کی کہ آج سقوطِ ڈھاکہ کا تذکرہ ہوتے ہی سب سے پہلے زبان کے مسئلے کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ یہ ہماری ادبی تنظیموں کا وہ کارنامہ ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
ہم ان محسنوں کی خدمت میں کوئی تمغہ تو پیش نہیں کر سکتے لیکن یہ نتیجہ ضرور نکال سکتے ہیں کہ اگر کسی زبان کے ادب میں ہمیں دلچسپی ہو تو زبان اپنی ہو یا غیر کی، ہم اُسے سیکھنے پر تیار بھی ہو جاتے ہیں اور سیکھ بھی لیتے ہیں۔ لیکن اگر ہمیں اُس سرمائے میں دلچسپی نہ رہے جو اُس زبان میں پیش کیا جا رہا ہے تو وہ مادری زبان ہی کیوں نہ ہو، ہم اُسے ترک کر دیتے ہیں اور بھول جاتے ہیں۔
یہاں ادب سے مراد فیض احمد فیض، سعادت حسن منٹو اور پروین شاکر وغیرہ کی تحریریں نہیں بلکہ وہ چیزیں ہیں جن کا زندگی سے تعلق ہوتا ہے اور جن میں خواص کے ساتھ ساتھ ایک عام انسان بھی دلچسپی لیتا ہے۔ اس ادب کی پہچان ہمیشہ یہی رہی ہے کہ جو لوگ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے وہ بھی اس سے لطف اُٹھاتے ہیں۔
میں نے یہ بات خاصی تفصیل کے ساتھ اپنی انگریزی تصنیف حیاتِ اقبال اور ہمارا عہد میں بیان کی ہے۔ وہاں میں نے مکمل حوالوں کی مدد سے دکھایا ہے کہ مولانا حالی سے اُردو ادب میں ایک تحریک شروع ہوئی جسے اُردو ادب کی اسلامی تحریک کہا جاتا تھا۔ اس کے درخشندہ ستاروں میں سر سید، اکبر الٰہ آبادی، مولانا شبلی نعمانی، علامہ اقبال ، محمد علی جوہر اور مولانا ظفر علی خاں وغیرہ کے نام لیے جاتے تھے۔ اس تحریک کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ اس نے اسلام کو زندہ اور عالمگیر تحریک سمجھ کر مسلم تہذیب کے ساتھ اپنا تعلق برقرار رکھا۔
اسی ادبی تحریک نے برصغیر کے مسلمانوں میں ایک قوم ہونے کا احساس جگایا۔  آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام، پاکستان کے تصوّر اور پھر پاکستان کی تخلیق میں اس ادبی تحریک کا کردار نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے بھی اسی تحریک کے جاری رہنے کی ضرورت تھی۔ بدقسمتی سے اس موقع پر وہ ٹریجڈی پیش آ گئی جس کا تذکرہ میں نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے لیکن تفصیل یہاں پیش کرنا چاہتا ہوں۔
۱۹۲۰ء میں جب عام ہندووں نے بھی تحریکِ خلافت میں مسلمانوں کا ساتھ دیا تو یہ بات انتہاپسند ہندووں کے لیے تشویش کا باعث ہوئی جس کا انہوں نے کھل کر اظہار بھی کیا۔ مثال کے طور پر لالہ لاجپت رائے کے مشہور مضامین کا سلسلہ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ شدھی اور سنگھٹن جیسی مہمات شروع کر کے مسلمانوں کو احساس دلانے کی کوشش کی کہ وہ کمزور ہیں، انہیں دب کر رہنا چاہیے اور خاص طور پر برصغیر کے باہر کی مسلم اُمت کے ساتھ اتحاد کا خیال دل سے نکال دینا چاہیے۔
مسلمانوں کی دلآزاری اور توہینِ رسالت ان تحریکوں کے خاص پہلو تھے لیکن غازی علم الدین شہید جیسے لوگوں نے اِن چیزوں کا اثر زائل کر دیا۔ اتفاق سے عین اس موقع پر بعض ایسے نوجوانوں نے جو مسلمان گھرانوں میں پیدا ہوئے تھے، خود ہی افسانوں کا ایک مجموعہ پیش کیا جس میں اسلامی مذہب اور معاشرت پر بعض فحش حملے کیے گئے تھے۔ احتجاج ہوا تو حکومت نے اس کتاب پر جس کا نام "انگارے" تھا پابندی لگا دی۔
اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ کتاب جان بوجھ کر مسلمانوں کی دلآزاری کے لیے لکھی گئی یا اس کی اشاعت میں مسلم دشمن عناصر کا کوئی ہاتھ تھا۔ البتہ اس کی اشاعت اور پابندی کے بعد ضرور اس کے مصنفین میں سے بعضوں نے دوسرے مسلمان ادیبوں کے ساتھ مل کر "انجمن ترقی پسند مصنفین" کی بنیاد رکھی جس کا افتتاح اپریل ۱۹۳۶ء میں لکھنو میں انڈین نیشنل کانگریس کے پنڈال میں جواہرلال نہرو کی آشیرباد کے ساتھ ہوا۔ خطبہء صدارت منشی پریم چند نے دیا جس میں کہا گیا کہ گوتم بدھ، یسوع مسیح اور محمد رسول اللہ ناکام ہو گئے۔ ہم بھی ناکام ہو جائیں گے اگر ہم نے مذہب کا سہارا لیا۔
تفصیل کے لیے محقق اور دانشور حفیظ ملک کا انگریزی مضمون دیکھا جا سکتا ہے جس میں کافی اہم حوالے موجود ہیں۔
جو نام کبھی نہ کبھی اس تحریک سے وابستہ ہوئے اُن میں  فیض احمد فیض، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، احمد ندیم قاسمی، سید سجاد ظہیر وغیرہ زیادہ مشہور ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بعض لوگ تحریک سے نکالے بھی گئے لیکن وہ ایک علیحدہ بحث ہے۔
ترقی پسند تحریک براہِ راست اُس ادبی تحریک سے متصادم ہوئی جو مسلم قومیت کا تحفظ کر رہی تھی۔ جبکہ کانگریس اور ہندو مہاسبھا اُس مسلم قومیت کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھی۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ ادیب خواہ نیک نیت ہوں یا بدنیت بہرحال وہ نہ ہماری حقیقت سے آگاہ تھے اور نہ ہماری خواہشات سے۔ جب قائداعظم پاکستان کو ہماری منزل کہہ رہے تھے، فیض صاحب فرما رہے تھے کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔ سعادت جسن منٹو کہتے تھے کہ سوسائٹی ننگی ہے لیکن جب سوسائٹی یہی بات اُن کے فن کے بارے میں کہتی تو ناراض ہو جاتے تھے۔
ترقی پسند تحریک کا ایک انتہائی مضر پہلو یہ تھا کہ اس نے "ادبِ عالیہ" کا تصور رائج کیا جس کے مطابق ادب کے بارے میں عوام کو فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ جبکہ ادب کی اسلامی تحریک نے ادب کے پیمانے مقرر کرتے ہوئے ہمیشہ عوام کی رضامندی کا خیال رکھا تھا۔
بعض ادیبوں نے ترقی پسند تحریک کی مخالفت کی لیکن ان میں بھی وہ لوگ زیادہ بارسوخ ہو گئے جو "ادبِ عالیہ" کے بنیادی اصول کو قبول کرتے تھے۔ حلقہء اربابِ ذوق وجود میں آیا۔ محمد حسن عسکری اور سلیم احمد بھی مشہور ہوئے۔ عسکری صاحب نے ۱۹۴۷ء میں پاکستان کی حمایت میں ایک مضمون لکھا تو اُس میں کہا کہ میری سوچ قائداعظم سے زیادہ پیچدار ہے کیونکہ میں نے زیادہ کتابیں پڑھی ہیں۔ بعد میں سر سید اور حالی کو مسلم تہذیب کا دشمن قرار دے کر کوشش کی کہ ان کے اثرات سے ادب کو پاک کیا جائے۔ علامہ اقبال کی فکر کی مخالفت کرنے کو "پاکستانی ثقافت" اور "روایت" جیسے نام دیے۔ اِس قسم کی دانشوری پر کوئی تبصرہ نہ کیا جائے تو بہتر ہے۔
یہ تمام گروہ ہمیشہ مفاد پرستوں کے آلہء کار بنے ہیں۔ خواہ انہیں خود یہ بات معلوم نہ رہی ہو۔ قیامِ پاکستان سے پہلے ان دانشوروں کو ہندو انتہاپسندوں نے مسلم قومیت کی بیخ کنی کے لیے استعمال کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد جو مفاد پرست ٹولے ملک پر قابض رہے، خواہ اپنے لیے خواہ غیرملکی آقاوں کے لیے، اُن کے لیے بھی یہی بہتر تھا کہ عوام کو اِسی ادب میں الجھائے رکھیں جو حقیقت پسندی کا دعویٰ ضرور کرتا ہے لیکن جس کی حقیقت صرف بھیانک خواب دکھانے تک محدود ہے۔ مسائل کا حل اس کے پاس نہیں ہے۔
اگر ہم نے اب بھی اُردو ادب کو صرف اسی ذہنی بٹیربازی تک محدود رکھا تو  نتائج شاید ماضی سے بھی زیادہ ہولناک ثابت ہوں۔ ماضی میں ہم نے اس لیے نقصان اُٹھایا کہ ۱۹۳۵ء کے بعد ہم نے اُردو ادب کی اسلامی تحریک کے وجود ہی سے انکار کر دیا۔ وہ تمام نئے ادیب جنہوں نے ۱۹۳۵ء کے بعد اِس تحریک میں شمولیت اختیار کی، اُنہیں ادیب ہی تسلیم نہیں کیا گیا۔ حالانکہ یہی ادیب عوام اور خواص میں مقبول تھے۔ یہی ہماری خواہشات کی صحیح ترجمانی کر رہے تھے۔ صرف انہوں نے ہی مسائل کے حل فراہم کیے تھے۔ لیکن دنیا سے یہی کہتے ہوئے رخصت ہو گئے کہ جس کو نہ تم سمجھ سکے میں ایسا اِک سوال ہوں۔
اب اگر ہم نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک طاقتور ذہنی محاذ بنانا ہو گا جس کا مقصد یہ ہو کہ اُن تمام ادیبوں کے کام کو سامنے لائیں جنہوں نے ۱۹۳۵ء کے بعد اُردو ادب کی اسلامی تحریک کے تسلسل کو جاری رکھا لیکن جن کے کام پر ہم نے کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا۔
 کیا ہم اِس طرف توجہ دے سکتے ہیں؟
مکمل تحریر >>