جمعہ, جولائی 3, 2015

دو قومی نظریہ: گمراہ کن اصطلاح؟


میرے خیال میں ہمیں "دو قومی نظریہ" کی بجائے "دو قومی اصول" کہنا چاہیے۔علامہ اقبال نے کبھی یہ اصطلاح استعمال نہیں کی۔ قائد اعظم نے عام طور  پر کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندو اور مسلمان دو علیحدہ قومیں ہیں۔ اُنہوں نے اور لیاقت علی خاں نے "دو قومی نظریہ" کی اصطلاح کم ہی استعمال کی اور عام طور پر کانگریس کے کسی ایسے اعتراض کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں یہ اصطلاح استعمال ہوئی ہو۔ 

ممکن ہے کہ دو قومی نظریہ کی اصطلاح پہلے پہل پاکستان کی مخالفت کرنے والے حلقوں کی جانب سے متعارف کروائی گئی ہو۔ مقصد یہ جتلانا ہو کہ مسلمانوں کی علیحدہ قومیت ایک حقیقت نہیں بلکہ نظریہ ہے۔

بہرحال معلوم یہی ہوتا ہے کہ دو قومی نظریہ کی ترکیب لکھتے یابولتے ہی ہم پاکستان کا جواز کھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان کی بنیاد اِس تاریخی حقیقت پر تھی کہ برصغیر کے مسلمان اور ہندو ہمیشہ سے اپنے آپ کو الگ الگ قومیں سمجھتے آئے تھے۔ اگرچہ اس میں کچھ غلط فہمی اس وجہ سے پیدا ہو سکتی تھی کہ قوم، برادری اور ملّت وغیرہ الفاظ ایک سے زیادہ معانی میں استعمال ہوتے تھےلیکن پھر بھی اس میں کوئی شبہ نہ ہندووں کو تھا اور نہ مسلمانوں کو تھا کہ وہ بہرحال سیاسی معانوں میں دو علیحدہ قومیں ہیں۔

۱۸۸۵ء میں کانگریس کے قیام کے ساتھ یہ خواہش ظاہر کی گئی کہ یہ دونوں قومیں مل کر کام کریں اور بعد میں یہ خواب دیکھا جانے لگا کہ دونوں قومیں مل کر ایک قوم بن جائیں۔ یہ خواہشات اور تمنائیں اچھی تھیں یا بری تھیں، بہرحال مستقبل کے لیے تھیں۔ یہ نہیں سمجھا گیا تھا کہ مسلمان اور ہندو پہلے ہی سے ایک قوم ہیں۔ ورنہ اگر ہندوستان میں ایک ہی ملت رہتی تھی تو کانگریس نے ۱۹۱۶ء میں میثاق لکھنو کس کے ساتھ کیا تھا؟

اگر ہم کانگریس کے سالانہ اجلاسوں کی صدارتی خطبات کا مطالعہ کریں تب بھی یہی نظر آتا ہے کہ ۱۹۲۳ء تک ان میں ہمیشہ مسلمانوں کی جداگانہ قومیت تسلیم کی جاتی رہی۔ بعض خطبات میں تو یہ جداگانہ قومیت ایسی وضاحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے کہ ان خطبات کو مطالعہء پاکستان کا لازمی حصہ ہونا چاہیے، مثلاً ۱۹۲۲ء میں سی آر داس کا خطبہء صدارت اور ۱۹۲۳ء میں مولانا محمد علی جوہر کا خطبہء صدارت۔

اس موقف میں ایک اچانک تبدیلی ۱۹۲۴ء کے خطبہء صدارت میں دکھائی دیتی ہے۔ یہ خطبہ گاندھی جی نے دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخاب کا حق فی الحال مجبوراً تسلیم کیا گیا ہے لیکن اسے جلد ختم ہو جانا چاہیے۔

یہ ایک نیا موقف تھا۔ پچھلے برسوں میں کانگریس ہی کے پلیٹ فارم سے واشگاف الفاظ میں کہا گیا تھا کہ قومی اتحاد کے لیے مسلمانوں کے جداگانہ انتخابات اور اُن کے علیحدہ قومی وجود کا تحفظ بہت ضروری ہیں۔

اب گاندھی جی کہہ رہے تھے کہ یہ قومی اتحاد کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ یہ گاندھی جی کی رائے تھی اور بعد میں کانگریس نے بھی اپنا لی۔لہٰذا یوں کہنا چاہیے کہ کانگریس نے "یک قومی نظریہ" پیش کیا جو پہلے سے موجود "دو قومی اصول" کی نفی کرتا تھا۔

مسلمانوں نے کوئی دو قومی نظریہ پیش نہیں کیا۔ وہ اسی اصول پر قائم رہے جسے پہلے سے سب تسلیم کرتے چلے آئے تھے۔ انہوں نے کانگریس کے پیش کردہ "یک قومی نظریے" کی نفی کی لیکن اس کے بارے میں یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کوئی نیا نظریہ پیش کیا۔ نیا نظریہ تو کانگریس نے پیش کیا تھا۔ لہٰذا نظریے کا لفظ کانگریس کے موقف کے لیے استعمال ہونا چاہیے نہ کہ مسلمانوں کے موقف کے لیے۔

یہ محض لفظی بحث نہیں ہے۔ یہ تاریخ کے تسلسل کو قائم رکھنے کا معاملہ ہے۔ اس کے بعد بعض سوالات پر بحث ہو سکتی ہے،  مثلاً مسلمانوں کو دو قومی اصول پر قائم رہنا چاہیے تھا یا انہیں یک  قومی نظریہ قبول کرنا چاہیے تھا؟ کیا پاکستان کے قیام نے دو قومی اصول کی برتری ثابت کی؟ کیا ۱۹۷۱ء میں مغربی پاکستان سے علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش نے دوقومی اصول ترک کر دیا ہے؟ کیا بنگلہ دیش نے یک قومی نظریہ اپنا لیا ہے؟ کیا دو قومی اصول کے تحت پاکستان میں اقلیتوں کو ویسی برابری مل سکتی ہے جیسی قائدِاعظم نے ۱۱ اگست ۱۹۴۷ء والی تقریر میں پیش کی تھی؟ یہ اور ایسے دوسرے سوالات مفصل بحث کے قابل ہیں لیکن کوئی ڈھنگ کا جواب صرف تب ہی برآمد ہو سکتا ہے جب "دو قومی اصول" اور "یک قومی نظریہ" کے حوالے سے بات کی جائے۔
مکمل تحریر >>