جمعہ، 18 اگست، 2017

پاکستان کے دس اصول



کچھ دن پہلے ایک دانشور کی فیس بک کی دیوار پر کسی نوجوان کا تبصرہ پڑھا ، "آپ لوگ کوئی عملی اقدام کیوں نہیں کرتے؟ انسان مر رہے ہیں مگر آپ لوگ صرف نظریات اور گفتگوئیں پیش کر رہے ہیں۔" غالباً یہ سوال آج کل بہت سے ذہنوں میں ہو گا۔ عام طور پر ہماری سوچ جس قسم کے عملی اقدامات کی طرف جاتی ہے، میرے خیال میں اُس کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں جس تبدیلی کی ضرورت ہے وہ باہر سے نہیں بلکہ ہمارے اندر سے آئے گی۔ پاکستان پہلے ہی ایک  مثالی ریاست ہے۔ یہ مرغدین ہے۔ صرف ہم اس میں رہنے کے آداب سے واقف نہیں ہیں۔

ہمیں اپنے آپ کو تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو چلانے کے بنیادی اصولوں کی تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ میری تحقیق کے مطابق یہ دس ہیں۔ ان سب کو قبول کرنا ضروری ہے کیونکہ ان میں سے کوئی ایک بھی کم ہو تو باقی بیکار ہو جاتے ہیں۔ بہتری کے بجائے بگاڑ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔   ۲۰۰۷ء سے میں جو کچھ بھی لکھ رہا ہوں، انہی کی وضاحت ہے۔ ان میں سے  اقبال: دورِ عروج میں بہت سا تاریخی مواد سامنے لانے کا موقع ملا ہے جس سے یہ بات  واضح ہو سکے کہ جس زمانے میں پاکستان کا تصوّر تشکیل پا رہا تھا، قوم نے انہی اُصولوں کو رہنما بنایا ہوا تھا۔ آپ اِس نظر سے وہ کتاب پڑھیں تو بہت کچھ مل جائے گا۔ میں بھی کوشش کروں گا کہ چھوٹی چھوٹی تحریروں میں عام فہم انداز میں اِن اصولوں کی علیحدہ علیحدہ وضاحت پیش کروں (ایک وضاحت میری مختصر کتاب اسلامی سیاسی نظریہ بھی ہے)۔

جو دوست اور قارئین میری تحریروں سے کچھ نہ کچھ واقف ہیں اُن سے میری درخواست ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ ان دس نکات پر غور کریں۔ جو سوال آپ کے ذہن میں آئیں ان سے مجھے بھی آگاہ کیجیے۔ ممکن ہے کہ اس طرح مجھے مزید تحقیق میں مدد ملے۔ ویسے آپ خود ہی مجھ سے بہتر جواب تلاش کر  سکتے ہیں کیونکہ ان میں سے ایک چیز بھی میں نے اپنی طرف سے ایجاد نہیں کی ہے۔ علامہ اقبال، قائداعظم، لیاقت علی خاں اور مسلم لیگ نے ہمارے لیے جو ورثہ چھوڑا ہے، یہ  سب  اُس میں موجود ہے۔ اِسی لیے مجھے یقین ہے کہ بالآخر ہمیں یہی اصول اختیار کرنے پڑیں گے، خواہ رغبت کے ساتھ یا مجبوری کی حالت میں۔ آپ انہیں صرف اپنے دل قبول کروا لیجیے، باقی کام قدرت آپ کے لیے کر سکتی ہے۔

  1. ہمیں سیاسی جماعتوں کے بجائے قومی مقاصد کی پیروی کرنی چاہیے۔ ملک میں ایک ہی سیاسی جماعت ہونی چاہیے جس کے دروازے ہر مکتبِ فکر کے لیے کُھلے ہوں۔ ورنہ تمام سیاسی جماعتیں قومی مقاصد پر متفق ہو کر اُن کے حصول کے لیے ایک دوسرے کی مدد کریں۔   پہلی صورت حال کی مثال آل انڈیا مسلم لیگ تھی۔ اقبال: دورِ عروج کے نویں باب 'خدا کا شہر' میں دیکھیے کہ الٰہ آباد والے اجلاس کا دعوت نامہ جو ۲۷جولائی ۱۹۳۰ء کو جاری کیا گیا، اُس میں خاص طور پر اِس کا ذکر ہے۔ دوسری صورتِ حال کی مثال آل انڈیا مسلم کانفرنس ہے، جس کا احوال ساتویں باب 'شہید کی قبر' کے شروع میں بڑی تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔
  2. زیادہ سے زیادہ اختیار چھوٹی سے چھوٹی وحدت کے پاس ہونا چاہیے۔ یہ اصول قیامِ پاکستان سے پہلے مسلم لیگ کی سیاست کی بنیاد تھا۔ اقبال: دورِ عروج کے چھٹے باب 'قصرِ حکومت' میں جون ۱۹۲۸ء کے واقعات میں آپ  دیکھ سکتے ہیں کہ علامہ نے محض اِس کی خاطر لیگ کے جنرل سکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دینے پر تیار ہو گئے تھے۔ یہ صرف ایک مثال ہے لیکن پوری کتاب پڑھنے سے واضح ہو جائے گا کہ اصل میں یہی نکتہ فلسفۂ خودی کا عملی پہلو ہے جس کے بغیر خودی محض قوالوں کے کام کی چیز رہ جاتی ہے، قوم کے کام نہیں آ سکتی۔ 
  3. مذہبی اقلیتوں کے تمام حقوق اُن سے مشاورت کے ذریعے طے کیے جائیں۔ یہ اصول قراردادِ پاکستان کا بنیادی نکتہ تھا اور قراردادِ دہلی میں بھی اس کا اعادہ کیا گیا۔ قراردادِ مقاصد کی تشریح میں بھی کہا گیا کہ ایک اسلامی ریاست میں ایک غیرمسلم وزیرِاعظم بھی بن سکتا ہے۔ یہ دستاویزات اقبال: دَورِ عروج میں شامل نہیں ہیں مگر وہاں اور بہت سی مثالیں موجود ہیں جن سے یہ سمجھ میں آ سکتا ہےکہ مسلم لیگ کی قیادت اِس نکتے کی تشریح کس طرح کرتی تھی۔ 
  4. تاریخی تجربات کے انکشافات پر غور کر کے ذریعے سیاسی نظریے کو ترقی دی جائے۔ دلائل تو کسی اصول کے حق میں بھی دئیے جا سکتے ہیں لیکن ان اصولوں کی سچائی تجربے سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ اِس لیے ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت بھی ہے کہ سچے اصول کی پہچان یہ نہیں ہہوتی کہ اُس کے حق میں دینی یا لادینی دلائل کے انبار لگائے جا سکیں۔ اصول کی سچائی اس بات سے ثابت ہوتی ہے کہ اس پر عمل کر کے آپ اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔ 
  5. اتفاقِ رائے ہمارا سب سے اہم اصول ہونا چاہیے۔علامہ اقبال کے مطابق اسلامی دستور کابنیادی اصول اتفاقِ رائے ہے۔ اِس کی بنیاد یہ عقیدہ ہے کہ اجتماعی رائے کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔ اجتماعی رائے اور سب سے کی رائے میں فرق پہلے واضح کر چکا ہوں۔ اجتماعی رائے سے علامہ کا کیا مطلب تھا اور وہ اس کی اطاعت میں کس حد تک جانے پر تیار رہتے تھے، یہ آپ اقبال: دورِ عروج پڑھ کر جان سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اہم حوالہ ساتویں باب کے شروع میں مسلم کانفرنس کی مفصل روئیداد ہے جس کا ذکر پہلے اصول کے ضمن میں کیا جا چکا ہے۔ 
  6. اقتدارِ اعلیٰ عملاً عوام کے پاس ہے۔ علامہ اقبال کے مطابق یہ بات حضرت عمر فاروقؓ کے دور تک تسلیم کی جا چکی تھی کہ اقتدارِ اعلیٰ عملاً عوام کے پاس ہے۔ قراردادِ مقاصد کے مطابق بھی خدا نے اقتدارِ اعلیٰ عوام کو دیا ہے اور عوام کے ذریعے امانتاً ریاست کو منتقل ہوتا ہے۔ 
  7. اقتدارِ اعلیٰ قانوناً خدا کے پاس ہے۔علامہ کے نزدیک اسلامی ریاست میں خدا کے قانون کو مکمل بالادستی حاصل ہوتی ہے لیکن اس کا مطلب وہ نہیں ہے جو ہم سمجھتے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ خدا کے قانون کی بالادستی کا مقصد بھی یہی ہے کہ اقتدارِ اعلیٰ عملاً عوام کے پاس رہے۔دوسری بات یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ سے لے کر علامہ اقبال تک مسلسل تحقیق و جستجو کے بعد ہم پر ظاہر ہو چکا تھا کہ شریعت  واقعی قانونِ فطرت ہے۔ ہم اسے سائنٹفک طور پر قانونِ فطرت ثابت بھی کر سکتے تھے، جس کی اعلیٰ ترین مثال علامہ اقبال کے تشکیلِ جدید کے خطبات ہیں جن کا ذکر پانچویں، چھٹے، ساتویں اور آٹھویں باب میں ہے۔ یہی بات قراردادِ مقاصد میں یوں لکھی گئی کہ تمام کائنات کا اقتدارِ اعلیٰ خدا کے پاس ہے۔ 
  8. اخوت، مساوات اور آزادی ہمارے مثالی اصول ہیں۔علامہ اقبال کے نزدیک توحید کی عملی روح اخوت، مساوات اور آزادی ہیں اور پیغمبرِ اسلامؐ کی بعثت کا مقصد پوری دنیا میں ان اصولوں کی ترویج تھا۔ 
  9. ریاست ہمارے مثالی اصولوں کے حصول کا عمل ہے۔ چونکہ توحید اور رسالت دونوں کے عملی پہلو اخوت، مساوات اور آزادی ہیں، اِس لیے ان اصولوں کو ترویج دینا ہمارے لیے بیک وقت ایک مذہبی فریضہ بھی ہے او ر سیاسی اقدام بھی ہے۔ ریاست ہمارے لیے اِسی عمل کا نام ہے نہ کہ کسی چیز کا۔ 
  10. ہم ایسی تمام ریاستوں کا اتحاد چاہتے ہیں جن کے مثالی اصول وہی ہیں جو ہمارے ہیں۔   اسلام کا حقیقی مقصد نہ بہت سے ممالک کو ایک مرکزی حکومت کے تحت لانا ہے جیسا کہ ابتدائی زمانے میں تاریخی حالات کی وجہ سے کرنا پڑا۔ نہ ہی ایک دوسرے سے بیگانی ریاستوں کا قیام ہے۔ بلکہ اسلام خودمختار ریاستوں کا ایک خاندان ہے جن کے درمیان عقیدے اور اُصول کی بنیاد پر وحدت ہو۔

مکمل تحریر >>