جمعہ، 11 اگست، 2017

آج جھوٹ بولنے کا دن ہے

گیارہ اگست آئی۔ جھوٹ بولنے کا دن شروع ہوا۔ آج کچھ لوگ کہیں گے کہ قائداعظم سیکولر پاکستان چاہتے تھے۔ یہ لوگ  اِس سوال کا جواب نہیں دیں گے کہ پھر قائداعظم نے کیوں پاکستان بننے سے پہلے اور بعد بہت سی تقریروں میں یہ کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہو گا۔ دوسری طرف سے کچھ لوگ قائداعظم کے اسلامی بیانات کو لے اُڑیں گے اور فرمائیں کہ چونکہ قائداعظم نے اسلام کا نام لیا اس لیے اسلام کے نام پر کچھ بھی پیش کر کے قائداعظم کے سر تھوپنا چاہیے۔ 
دونوں گروہ مل کر بعض سچائیوں پر پردہ ڈالتے ہیں۔

اُن سچائیوں کے تذکرے سے پہلے ایک غلط فہمی کا ازالہ جس کی کوشش حال ہی میں شروع ہوئی ہے۔نہ جانے کیوں بعض بزرگوں نے کہنا شروع کیا ہے کہ قائداعظم نے گیارہ اگست کی تقریر میں وہ الفاظ کہے ہی نہیں تھے جن میں مسلمانوں اور غیرمسلمانوں کی برابری کا ذکر آتا ہے۔یہ درست نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کی تقاریر کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے اور حکومت کی طرف سے سلسلہ وار شائع بھی کی جاتی ہیں۔ قائداعظم کی تقریر پاکستان کی دستورساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کے دوسرے دن کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ یہ اجلاس ۱۰ اگست سے ۱۴ اگست ۱۹۴۷ تک ہوا تھا۔ میری درخواست ہے کہ چاروں دنوں کی کاروائی غور سے پڑھیے تاکہ صرف دماغ ہی سے نہیں بلکہ دل سے بھی محسوس کر سکیں کہ ہمیں آزادی دینے والے ہمارے محسنوں کے کیا تاثرات تھے اور وہ اندرونی اور بیرونی مخالفین کے کیسے کیسے اوچھے ہتھکنڈوں سے نمٹنے پر مجبور ہو رہے تھے۔ نیشنل اسمبلی کی ویب سائٹ پر چاروں ایام کی کاروائی علیحدہ علیحدہ پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہے: پہلا دن، دوسرا دن، تیسرا دن اور چوتھا دن۔

پاکستان میں سیکولرازم کی حمایت کرنے والے اور مخالفت کرنے والے مل کر جن سچائیوں پر پردہ ڈال رہے ہیں اُن میں سے پہلی یہ ہے کہ قائداعظم جس اسلامی نظام سے واقف تھے اُس کے مطابق ایک غیرمسلم بھی سربراہِ حکومت بن سکتا ہے۔ مذہب فرد کا ذاتی معاملہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود ریاست اسلامی رہتی ہے۔ صرف نام کی اسلامی نہیں بلکہ کام کی بھی۔ اسناد مختصر طور پر میری کتاب اسلامی سیاسی نظریہ میں موجود ہیں۔ تفصیل دیکھنی ہے اور واپس اُس دور میں جانا ہے جب پاکستان کا تصوّر تشکیل پا رہا تھا تو اقبال:دورِ عروج پڑھیے۔

لیکن یہ جھوٹ بولنے کا دن ہے اور میں جھوٹ کی جگمگاتی محفل میں آج سچ بولنے لگا ہوں۔ اس لیے فی الحال صرف یہی جان لیجیے کہ یہ ایک جھوٹ ہے کہ قائداعظم، علامہ اقبال، لیاقت علی خاں اور مسلم لیگ نے اسلامی ریاست کا ا یسا تصوّر پیش نہیں کیا تھا جس میں ایک غیرمسلم سربراہِ حکومت بن سکتا ہو ۔

اب آئیے دوسرے جھوٹ کی طرف۔ جو لوگ سیکولرازم کی حمایت کرتے ہیں اور جو اس کے مخالف ہیں، دونوں متفق ہیں کہ سیکولر ریاست کوئی چیز ہوتی ہے۔ یہ بات تسلیم کرنے کے بعد ہی فریقین میں سے ایک یہ کہتا ہے کہ قائداعظم سیکولر ریاست چاہتے تھے اس لیے پاکستان کو سیکولر ہونا چاہیے۔ دوسرا کہتا ہے کہ قائداعظم سیکولر ریاست نہیں چاہتے تھے اس لیے پاکستان کو سیکولر نہیں ہونا چاہیے۔

میرا دعویٰ ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی نہیں بتا سکتا کہ سیکولر ریاست کسے کہتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ سیکولرازم سرے سے کوئی نظریہ ہی نہیں ہے۔ یہ ایک مہمل کلمہ ہے جو بعض لوگ کسی ریاست کو پسند کرتے ہوئے ادا کرتے ہیں، جیسے آپ "واہ" کہہ دیں۔ آپ نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہو گا کہ کہ سیکولر ریاست وہ ہوتی ہے جہاں مذہب اور ریاست، یا کلیسا اور ریاست الگ الگ ہوتے ہیں۔ یعنی چرچ اور اسٹیٹ کی علیحدگی کو سیکولر کہتے ہیں۔  یہ درست نہیں ہے کیونکہ برطانیہ میں بادشاہ یا ملکہ ہی انگلستان کے چرچ کے سربراہ بھی ہوتے ہیں۔ ان کے لیے پروٹسنٹنٹ ہونا بھی ضروری ہے۔ کوئی غیرعیسائی تو کیا کوئی غیرپروٹسنٹنٹ بھی وہاں بادشاہت نہیں کر سکتا۔ اس کے باوجود برطانیہ ایک "سیکولر" ریاست کہلاتی ہے۔ اس وجہ سے جو دلچسپ مباحث جنم لیتے ہیں، اُس کی مثال بی بی سی کا یہ مباحثہ ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ اگرچہ برطانیہ میں مذہب اور ریاست علیحدہ نہیں ہیں مگر پھر بھی برطانیہ ایک سیکولر ریاست ہے۔

میں نے بعض دوستوں سے اس کا ذکر کیا تو وہ کہنے لگے کہ سیکولر ریاست سے مراد یہ ہے کہ ریاست کے کسی قانون کی بنیاد مذہب پر نہیں ہو گی۔ اول تو پاکستان کے عیسائی چیف جسٹس کورنیلئیس نے بڑی تفصیل کے ساتھ اس مفروضے کی تردید کرتے ہوئے ایک برطانوی جج کا بیان پیش کیا تھا کہ آج برطانیہ میں جتنے بھی قوانین "سیکولر قوانین" کہلاتے ہیں اُن میں سےہر ایک کی بنیاد کسی نہ کسی مذہبی اصول پر ہے۔ صرف اتنا ہے کہ چونکہ وہ صدیوں سے رائج ہیں اس لیے اب قدم قدم پر مذہب کے حوالے نہیں دینا پڑتے۔ لوگوں نے انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا ہے۔

ایک بالکل سامنے کی بات پر بھی غور کیجیے۔ بھارت نے اپنے آپ کو اِن معانی میں سیکولر قرار دے لیا ہے کہ قوانین کی بنیاد مذہب پر نہیں ہو گی۔ پھر بھی وہاں گائے ذبح کرنے کی قانونی ممانعت ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک خبر پڑھی تھی کہ کسی بھارتی عدالت میں ایک وکیل نے کہا کہ گائے ذبح کرنے کی ممانعت ایک مذہبی قانون ہے تو جج صاحب نے جھڑک دیا کہ خبردار، یہ ایک "سیکولر" قانون ہے کیونکہ جب ہمارے آئین میں لکھا ہے کہ ہم ایک سیکولر ملک ہیں تو ظاہر ہے کہ ہمارا ہر قانون سیکولر ہے، آپ اُسے  مذہبی کیسے کہہ سکتے ہیں!

بہت خوب! اُفق سے سورج طلوع ہو رہا ہو اور کوئی کہے کہ ابھی رات ہے کیونکہ میری گھڑی بارہ بجا رہی ہے اور آج سورج کے طلوع ہونے کا وقت ساڑھے چھ بجے بتایا گیا ہے۔ جب پڑھے لکھوں کی مت ماری جائے تو یہی لطیفے ہوتے ہیں۔

اگر بھارت کے دستور میں یہ لکھ کر کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے، وہاں گائے ذبح کرنے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے، تو پاکستان کے دستور میں یہ لکھنے سے کہ یہ ایک سیکولر ملک ہے، توہینِ رسالت پر سزائے موت کی سزا، شراب پر پابندی اور دوسرے بعض قوانین منسوخ کرنے کا جواز کیسے پیدا ہوگا جنہیں ہمارے سیکولر دوست "ریاست میں مذہب کی بیجا دخل اندازی" قرار دیتے ہیں؟

مؤدبانہ گزارش ہے کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ قائداعظم سیکولر ریاست چاہتے تھے، پہلے یہ بتا دیں کہ اس سے قائداعظم کی مراد کیا تھی؟ کیا اُن کی مراد تھی کہ پاکستان کا سربراہ ہمیشہ مسلمان ہو گا جیسا کہ انگلستان میں بادشا ہ اور ملکہ ہمیشہ پروٹسنٹنٹ ہوتے ہیں؟ کیا وہ چاہتے تھے کہ پاکستان میں ایسی چیزوں پر پابندی ہو گی جن سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوں، جیسا کہ بھارت میں گائے ذبح کرنے پر پابندی ہے؟ کیا پاکستان میں عیسائیوں کے لیے گلے میں صلیب لٹکانا منع ہو گی جس طرح فرانس میں ہے؟

جب ہمارے دوست خود ہی نہیں جانتے کہ سیکولر ریاست سے کیا مراد ہوتی ہے تو پھر یہ سب واویلا کس لیے ہے؟ قصور صرف سیکولرازم کے حامیوں کا نہیں ہے۔ دوسرا فریق بھی قصوروار ہے جو مذہب کے دفاع کے نام پر سیکولر کی مخالفت اس انداز میں کر رہا ہے جیسے سیکولرازم کوئی چیز ہوتی ہے۔ میں بھی سیکولرازم کا مخالف ہوں لیکن اُس طرح جیسے قرآن شریف میں کفار سے کہا گیا کہ لات، منات اور عزیٰ محض نام ہیں جنہیں تمہارے باپ دادا نے گھڑ لیا۔ ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح میری تحقیق نے مجھے بتایا ہے کہ سیکولرازم صرف ایک نام ہے جس کے کوئی معانی نہیں ہیں۔ یہ ایک بُت ہے جس کے سامنے رسماً سر جھکانے کے بعد خواہ آپ مذہب کے نام پر لوگوں کو زندہ جلائیں، انہیں گائے کا پیشاب پینے پر مجبور کریں، خواتین کے لباس پر مذہبی نوعیت کے اعتراض کریں، آپ کے لیے ہر چیز کی اجازت ہے۔ صرف اس ایک دفعہ اِس بُت کے سامنے ماتھا ٹیک دیں۔ اس بت کے کسی بڑے پجاری سے اس کے نام کا ٹیکا اپنے ماتھے پر لگوا لیں۔

یہ کاروبار دنیا میں ایک دن بھی نہ چل سکتا اگر بدقسمتی سے اسلام کا دفاع کرنے والے اس کی مخالفت کرنے کے زعم میں اسے تقویت نہ دے بیٹھتے۔ انہوں نے تسلیم کر لیا کہ سیکولر ریاست کا کوئی وجود ہے اور سارا زور اس کی مخالفت میں لگا دیا۔ وجہ صرف اتنی تھی کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ اسلامی ریاست کسے کہتے ہیں۔ اس لیے انہیں ایک آسان وظیفہ مل گیا کہ اسلامی ریاست اُسے کہتے ہیں جو سیکولر نہیں ہوتی۔

یہ درست ہے لیکن سیکولر تو کوئی ریاست بھی نہیں ہوتی۔ اسلامی ریاست کی علیحدہ سے تعریف بھی کرنی پڑے گی کہ کون سی چیز اسے اسلامی بناتی ہے اور کون سی چیز سے یہ اسلامی نہیں رہتی۔ہمارے یہاں اسلامی ریاست کا دم بھرنے والوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ جو کچھ انہوں نے اپنی سمجھ بوجھ سے پیش کیا ہے وہ نہ قائداعظم کی تقاریر سے میل کھاتا ہے نہ اُس کا ہماری تاریخ سے کوئی تعلق ہے نہ وہ تحریکِ پاکستان چلانے والوں کے وہم و گمان میں کبھی تھا۔

اس لیے ہمارے یہاں اسلامی ریاست کا دفاع کرنےوالے یہ بات سمجھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے کہ سیکولرازم ایک مہمل کلمہ ہے جس کے کوئی معانی نہیں ہے۔ اسے بامعنی تسلیم کرنے میں سہولتیں ہی سہولتیں ہیں۔ خود نہیں سوچنا پڑتا۔ جب بھی سیکولرازم کی حمایت کرنے والے کہتے ہیں کہ سیکولر ریاست ایسی ہوتی ہے، آپ کہہ دیتے ہیں کہ اسلامی ریاست تو ایسی نہیں ہوتی۔ اس طرح دونوں کا کام چلتا رہا ہے۔ صرف قوم کا کام رکا رہتا ہے، کیا حرج ہے۔

جھوٹ بولنے کا دن ایک دفعہ پھر آ گیا ہے۔ اِس پوسٹ کو پڑھنے کے بعدٹی وی چینلز پر دانشوروں کے کرتب ملاحظہ فرمائیے گا۔ بہت مزہ آئے گا۔   


   
مکمل تحریر >>