منگل، 20 فروری، 2018

کوکوکورینہ، ایک آئیڈیل



سب سے پہلے میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں ’’کوکوکورینہ ‘‘ کو فلمی نغمے کے طور پر نہیں بلکہ ایک عظیم نظم کے طور پر لے رہا ہوں۔

۱

 شروع سے لے کر علامہ اقبال کے زمانے تک مسلم ادب کی یہ خصوصیت رہی ہے کہ اس کا ماخذ قرآن شریف ہوتا ہے۔ چنانچہ مولانا روم کی مثنوی، شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام اور خود اقبال کی شاعری کے بارے میں تو یہ بات بہت زیادہ کہی گئی لیکن مسلمانوں کی اکثر شاعری کے بارے میں بھی یہ درست ہے۔ اُس میں عشقیہ داستانیں بھی ہیں، جیسے لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد، ہیر رانجھا، سسی پنوں وغیرہ۔ اُس میں لطیفے بھی ہیں، جیسے مولانا روم کی مثنوی کی حکایتیں۔ یہ ساری دلچسپیاں موجود رہیں لیکن اس کے باوجود اس ادب کا  اصل ماخذ قرآن شریف  ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اِن شاعروں پر کبھی قرآن شریف کی اُس آیت کا اطلاق نہیں کیا گیا کہ شاعر خیالی وادیوں میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ ہمارے عظیم شاعر وں نے خیالی وادیوں میں بھٹکنے کی بجائے قرآن سے جنم لینے والی قوم کے اجتماعی شعور کی گہرائیوں  کی سیر  کی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ ساری شاعری غیرمسلموں میں بھی بیحد مقبول رہی ہے۔ یہ بات سب پر بالکل واضح ہے۔ ہمارے تمام صوفی شاعروں کے  مزار بھی غیرمسلم عقیدتمندوں کی زیارتگاہیں بنے رہے ہیں۔

تیسری اہم بات یہ  ہے کہ یہ شاعری خواص اور عوام دونوں میں یکساں مقبول رہی ہے۔ رومی، بھٹائی اور اقبال جیسے شاعروں کے کلام میں بڑے بڑے فلسفے  ہیں۔ لیکن اپنے اپنے زمانے میں یہ سبھی شاعر بالکل ان پڑھ لوگوں میں بھی مقبول رہے جنہیں اپنا نام لکھنا بھی نہ آتا ہو۔

اگر ہم اقبال کے بعد کے زمانے میں آئیں تو ہمیں یہ تینوں خصوصیات جن شاعروں میں نظر آتی ہیں اُن میں سے ایک مسرور انور ہیں جنہوں نے کوکوکورینہ لکھی۔ انہی نے سوہنی دھرتی، جگ جگ جیے اور وطن کی مٹی گواہ رہنا جیسے قومی نغمے بھی لکھے۔ سوہنی دھرتی آج پاکستان کی پہچان بن چکا ہے۔ اس لحاظ سے مسرور انور کا مقام اُردو کے عظیم ترین شاعروں میں رکھنا ہی پڑے گا ورنہ ہمارے ادب کی تاریخ ایک فراڈ بن جائے گی (اور فی الحال بنی ہوئی ہے)۔

’’وطن کی مٹی ‘‘ میں مسرور انور، و طن کی مٹی کو گواہ بنا کر کہتے ہیں، ’’ترے مغنی کی ہر صدا میں تری ہی خوشبو مہک رہی ہے۔ ‘‘ ظاہر ہے کہ اپنی ’’ہر صدا ‘‘ میں وہ اپنی اُس شاعری کو بھی شامل کر رہے ہیں جسے ہم ناسمجھی کی وجہ سے فلمی شاعری کہہ دیتے ہیں۔ مسرور کے دعوے کے مطابق اُس میں بھی وطن کی مٹی کی خوشبو مہک رہی ہے۔

یہ خوشبو کیا ہے؟  یہ وہی ادب کی روایت ہے جسے پروان چڑھانے والوں کے مزار پاکستان کے کونے کونے میں آج بھی آباد ہیں۔کوکوکورینہ میں بھی اسی روایت کی خوشبو مہک رہی ہے۔

سب سے پہلی بات ہم یہ دیکھیں گے کہ اِس نظم میں تصوّراتی لڑکی کے بارے میں جتنے بھی استعارے استعمال ہوئے ہیں وہ سب کے سب قرآن شریف میں حوروں کے بیان میں موجود ہیں۔ کوئی ایک استعارہ بھی قران کے باہر سے نہیں آیا ہے۔  جیسا کہ میں نے عرض کیا یہ مسلم ادب کی ہمیشہ سے خصوصیت رہی ہے۔ چنانچہ یہ نظم اُس ادب کا تسلسل ہے۔  جبکہ اُردو کی اُس پوری جدید شاعری  میں جسے "ادبِ عالیہ" کہتے ہیں، اگرچہ محبوب کی تعریف میں بہت کچھ لکھا گیا لیکن کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں ملے گی۔

آئیے غور کریں کہ کیا اس کی ہر سطر حُور کے تصوّر کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی ہے؟

میرے خیالوں پہ چھائی ہے   اِک صورت متوالی سی
نازک سی شرمیلی سی، معصوم سی بھولی بھالی سی
رہتی ہے وہ دُور کہیں، اتہ پتہ معلوم نہیں!
کوکوکورینہ، کوکوکورینہ!

جھیل سی  گہری آنکھیں جس کی پھول سا جس کا چہرہ
کالی زلفیں ناگن بن کر دیتی ہیں جس پہ پہرہ
تم پوچھو گے مجھ سے دنیا بھر میں کون ہے ایسا حسیں؟

ہو سکتا ہے کل خود مجھ کو وقت وہاں لے جائے
میں گھبراؤں  دیکھ کے اُس کو وہ مجھ سے شرمائے
میں کہہ دوں گا دلبر میں نے شاید دیکھا ہے تم کو کہیں!

۲
دوسری بات ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ نظم ہمیں آئیڈیل اور فینٹسی میں فرق کرنا سکھاتی ہے۔  آئیڈیل وہ ہوتا ہے جسے کبھی دیکھا نہ ہو یا دوسرے لفظوں میں وہ ابھی تک ظاہر نہ ہوا ہو لیکن پھر بھی ہمیں یقین ہو کہ اُس کا وجود ہے۔ فینٹسی کے بارے میں ہمیں علم ہوتا ہے  کہ  اُس کا کوئی وجود نہیں ہے  بلکہ عام طور پر ہمارے ذہن نے اُسے جنم دیا ہوتا ہے۔

آخرت کی زندگی بھی ایک آئیڈیل ہے۔ ہم نے اسے دیکھا نہیں ہے لیکن ہر مذہب کے لوگ اُسی کی خاطر جیتے ہیں اور دنیاوی زندگی کی آسائشیں  بھی کسی نہ کسی حد تک اُس اَن دیکھی دنیا کے لیے قربان کرتے ہیں۔ اس لیے آئیڈیل اور فینٹسی میں فرق کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ اگر ہم آئیڈیل پر یقین کرنا یا اسے پہچاننا چھوڑ دیں تو اُس تصوّرِ حیات کے مطابق زندگی بسر نہیں کر سکتے جو تمام مذاہب کے لوگوں کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

کوکوکورینہ میں اگرچہ کہا جا رہا ہے کہ محبوب کو کبھی دیکھا نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود  ہر لفظ سے لگتا ہے کہ اُس کے وجود پر یقین ہے۔ مثلاً یہ  نہیں کہا جا رہا ہے کہ وہ خیالوں میں چھائی ہے بلکہ وہ خیالوں پہ چھائی ہے۔ وہ کہیں رہتی ہو گی نہیں بلکہ وہ کہیں رہتی ہے۔

شاعر خود کہتا ہے کہ تم یہ سوال اٹھا سکتے ہو کہ کیا دنیا میں اُس کا وجود کہیں ہے؟

اِس کا جواب وہ یہ دیتا ہے کہ ہو سکتا ہے کل خود مجھ کو وقت وہاں لے جائے!

یہ آئیڈیل کی ایک بنیادی خصوصیت ہے کہ وہ صرف ہماری مرضی اور کوشش سے ظہور میں نہیں آتا۔ اس میں وقت، قدرت یا خدا کی مرضی کا دخل بھی ہوتا ہے۔ اگر ہم نے درست آئیڈیل کا انتخاب کیا ہے تو وقت اُسے ظاہر کر دے گا یا اِس نظم کے الفاظ میں ہمیں وہاں لے جائے گا۔ ورنہ ایسا نہیں ہو گا۔

  ۳
ایک پاکستانی قوم کے طور پر ہمارا آئیڈیل کیا ہے؟

پاکستانی قوم سے میری مراد پاکستان کے  تمام شہری ہیں خواہ ان کا مذہب کوئی بھی ہو۔

سر سید احمد خاں نے ۱۸۷۳ء میں ایک کہانی لکھی تھی، ’’گزرا ہوا زمانہ‘‘۔ اُس میں ایک بوڑھا خواب میں ایک آسمانی دلہن کو دیکھتا ہے۔ وہ کہتی ہے، ’’ میں ہمیشہ زندہ رہنے والی نیکی ہوں … میں تمام انسانوں کی روح ہوں، جو مجھ کو تسخیر کرنا چاہے انسان کی بھلائی میں کوشش کرے۔ کم سے کم اپنی قوم کی بھلائی میں تو دل و جان سے ساعی ہو۔‘‘

بوڑھے نے کبھی قومی بھلائی کی نیّت سے کچھ نہ کیا تھا اِس لیے غم سے بیہوش ہوتا ہے۔ آنکھ کھلتی ہے  اور تب معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک لڑکا ہے جو خواب میں بوڑھا ہو گیا تھا۔ خوشی سے کہتا ہے، ’’ یہی میری زندگی کا پہلا دن ہے، میں… ضرور اُس دلہن کو بیاہوں گا جس نے ایسا خوبصورت اپنا چہرہ مجھ کو دکھلایا اور ہمیشہ زندہ رہنے والی نیکی اپنا نام بتلایا۔‘‘

اگر لڑکے کے یہی الفاظ شعر میں ڈھل جائیں تو وہ اِس کے سوا اور کیا ہوں گے کہ ’’میرے خیالوں پہ چھائی ہے اِک صورت متوالی سی … رہتی ہے وہ دُور کہیں اتہ پتہ معلوم نہیں! ‘‘

خدا کرے، وقت ہم سب کو وہاں لے جائے۔

وہی خواب والی دلہن، ہمیشہ رہنے والی نیکی اور تمام انسانوں کی روح ہمارا قومی آئیڈیل ہے۔ امید ہے کہ آپ میرے ساتھ مل کر یہ کہنے پر تیار ہیں کہ اِسی قومی آئیڈیل کا نام کوکوکورینہ ہے۔
مکمل تحریر >>